Font by Mehr Nastaliq Web

دکھا دو ہم کو وہ جلوہ جو موسیٰ کو دکھایا تھا

نا معلوم

دکھا دو ہم کو وہ جلوہ جو موسیٰ کو دکھایا تھا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    دکھا دو ہم کو وہ جلوہ جو موسیٰ کو دکھایا تھا

    ذرا ہم بھی تو دیکھیں کس طرح غش ان کو آیا تھا

    نہ خود دیکھا نہ یہ پوچھا کسی سے اب وہ کیسا ہے

    اسی خوبی پہ پہلے اک نظر جلوہ دکھایا تھا

    غم فرقت سے کہہ دوں یوں تو مت برباد کر اس کو

    یہ دل وہ ہے کہ جس کو اپنا گھر تم نے بنایا تھا

    لب معجز نما کو شکوہ ہے کیوں میری غفلت کا

    مری تربت پہ آ کر قم باذنی کب سنایا تھا

    چھپے تم ہم سے اچھا خیر پر یہ بھی سمجھتے ہو

    کہ کیا شئے دیکھنے کو ہم نے تم سے دل لگایا تھا

    بتا دیتا اگر خاک مدینہ تجھ کو قدرت تھی

    خداوندا مجھے گر خاک ہی تو نے بنایا تھا

    پڑا سوتا تھا میں خواب عدم میں کیسی راحت سے

    نہ پایا چین دم بھر عشق نے جب سے جگایا تھا

    تیری چوکھٹ کا بھی اللہ اکبر کیسا رتبا ہے

    کہ جبرئیل امیں نے اس پہ سر اکثر جھکایا تھا

    پتہ ممتازؔ کے لاشے کا حسرت یوں بتاتی ہے

    یہ وہ ہے جس نے محبوب خدا سے دل لگایا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے