Font by Mehr Nastaliq Web

اتر پردیش کے شاعر اور ادیب

کل: 1209

ذکی دہلوی اور شوکت میرٹھی کے شاگرد، صوفی مزاج اور صاحبِ دیوان شاعر تھے۔

1857 کی جنگ کے مجاہد

آگرہ کالج کے پروفیسر اور تیرھویں صدی نامی اخبار کے بانی

خانقاہ ناصریہ، سہارن پور کے چشم و چراغ

خانقاہ ناصریہ، بریلی کے نائب سجادہ نشیں

چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔

انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید و خلیفہ

حافظ شاہ علی انور قلندر کاکوروی کے مرید و مسترشد

سادگیِ اظہار اور والہانہ عقیدت کے ساتھ نعتیہ شاعری کرنے والے شاعر۔

سلام اور قصیدہ نگاری کے ممتاز شاعر تھے، رسمی تعلیم سے محروم ہونے کے باوجود فطری شعری صلاحیت کے مالک تھے، ایک عرصہ ممبئی میں زری و گلابتون کی صنعت سے وابستہ رہے جبکہ ان کی شاعری میں اہلِ بیتِ اطہار سے والہانہ عقیدت نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر، نغمہ نگار اور فلمی گیت کار تھے۔

خضر برنی

1908 - 1989

اردو کے شاعر، ادیب، صحافی اور ناشر تھے، غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ سمیت مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور نو شعری مجموعے شائع کیے جن میں دو نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں، انہوں نے ماہنامہ ’’غریب‘‘ جاری کیا، ادبی جریدہ ’’لہریں‘‘ کی ادارت کی اور تاج پرنٹنگ پریس کے ذریعے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔

اردو کے صوفی منش شاعر تھے، حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کے شاگرد اور حاجی وارث علی کے عقیدت مند تھے، سادگی، روحانیت اور غزل گوئی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے۔

اردو کے شاعر، فارسی کے استاد اور مشاعروں کے مقبول شاعر تھے، مدرسہ عالیہ، رامپور میں سینتیس برس تدریسی خدمات انجام دیں، ان کا شعری مجموعہ ’’پہچان‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے، علم و ادب سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

شیریں زباں، فصیح بیاں، عمدہ فصحائے جہاں

صفی پور کے اردو و فارسی کے صاحبِ طرز شاعر تھے، تصوف سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مخدوم خادم صفی کے مرید تھے، ان کا شعری مجموعہ ’’خیابانِ خلیل‘‘ اردو اور فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر تھے، وہ نظیر اکبرآبادی کے فرزند اور شاگرد تھے اور عوامی، اخلاقی اور صوفیانہ شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے، اپنے کلام میں اسیر اور شیون کے تخلص استعمال کرتے تھے۔

بدایوں کے ممتاز نعت گو شاعر، ادیب اور معلم تھے، نعت، غزل اور نظم میں نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کی اہم تصانیف ’’محسنِ کونین‘‘، ’’انوارِ کربلا‘‘ اور ’’زادِ آخرت‘‘ ہیں۔ 2025ء میں ان کا انتقال ہوا۔

برصغیر کے ممتاز مؤرخ، محقق اور ماہرِ تعلیم تھے، قرونِ وسطیٰ کی ہندوستانی تاریخ، بالخصوص تاریخِ تصوف اور سلطنتِ دہلی پر ان کی تحقیقات نہایت مستند سمجھی جاتی ہیں، جبکہ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور بھارت کے سفیر برائے شام کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔

خوشحال خاں خٹک کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے، نقشبندی صوفی، متقی اور پشتو و فارسی کے ممتاز شاعر تھے جو بالخصوص تاریخ گوئی اور صوفیانہ شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے۔

علی گڑھ کے ممتاز شاعر تھے، جنہوں نے غزل، نظم، قصیدہ، رباعی، سلام اور سہرا میں طبع آزمائی کی، ان کے کلام کا منتخب مجموعہ 1980ء میں شائع ہوا، جبکہ غزل گوئی ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔

صوفی شاعر جو سلسلۂ وارثیہ سے وابستہ تھے، ان کی شہرت روحانی شاعری سے ہے، تاہم ان کے حالاتِ زندگی کے مستند معلومات بہت کم دستیاب ہیں۔

اردو اور فارسی کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، طویل عرصہ جے پور میں تدریسی خدمات انجام دیں، ان کا منتخب کلام ’’موجِ کوثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا جبکہ نعتیہ شاعری ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔

کراچی کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کا مجموعہ ’’یہ تو کرم ہے ان کا ورنہ‘‘ شائع ہوا، جبکہ اسی مطلع ’’جتنا دیا سرکار نے...‘‘ نے انہیں برصغیر میں غیر معمولی شہرت عطا کی۔

سندیلہ کے شاعر تھے، شعر و ادب کا ذوق انہیں خاندانی ورثے میں ملا، جبکہ روحانی تربیت شاہ فرخ حسن سے حاصل کی، اگرچہ ان کا کوئی مستقل شعری مجموعہ شائع نہ ہوسکا، تاہم وہ اہلِ ادب میں صاحبِ ذوق شاعر کی حیثیت سے معروف رہے۔

شاہ زید ابوالحسن نقشبندی دہلوی کے مرید اور ’’ساز و نغمہ‘‘ اور ’’چراغ حرم‘‘ کے شاعر

’’نغمۂ محبت‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے مشہور ہیں جو فارسی رسم الخط میں ہندی اشعار پر مشتمل کتاب ہے۔

اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔

ممتاز عالمِ دین، مصلح، صوفی اور تحریکِ طیونیہ کے بانی تھے، انہوں نے بنگال و آسام میں دینی اصلاح، تعلیم اور تبلیغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔

بولیے