اتر پردیش کے شاعر اور ادیب
کل: 1209
- پیدائش : سنبھل
ذکی دہلوی اور شوکت میرٹھی کے شاگرد، صوفی مزاج اور صاحبِ دیوان شاعر تھے۔
خواجہ یوسف علی
آگرہ کالج کے پروفیسر اور تیرھویں صدی نامی اخبار کے بانی
خواجہ وزیر لکھنوی
خواجہ ستار الحسن
چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔
خواجہ عزیزالحسن مجذوب
مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید و خلیفہ
خسرو کاکوروی
حافظ شاہ علی انور قلندر کاکوروی کے مرید و مسترشد
سادگیِ اظہار اور والہانہ عقیدت کے ساتھ نعتیہ شاعری کرنے والے شاعر۔
خورشید حسین بدر
سلام اور قصیدہ نگاری کے ممتاز شاعر تھے، رسمی تعلیم سے محروم ہونے کے باوجود فطری شعری صلاحیت کے مالک تھے، ایک عرصہ ممبئی میں زری و گلابتون کی صنعت سے وابستہ رہے جبکہ ان کی شاعری میں اہلِ بیتِ اطہار سے والہانہ عقیدت نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔
خمار بارہ بنکوی
اردو کے ممتاز غزل گو شاعر، نغمہ نگار اور فلمی گیت کار تھے۔
- سکونت : وارانسی
خضر برنی
اردو کے شاعر، ادیب، صحافی اور ناشر تھے، غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ سمیت مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور نو شعری مجموعے شائع کیے جن میں دو نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں، انہوں نے ماہنامہ ’’غریب‘‘ جاری کیا، ادبی جریدہ ’’لہریں‘‘ کی ادارت کی اور تاج پرنٹنگ پریس کے ذریعے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔
خرد بسوانی
اردو کے صوفی منش شاعر تھے، حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کے شاگرد اور حاجی وارث علی کے عقیدت مند تھے، سادگی، روحانیت اور غزل گوئی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے۔
خیال رامپوری
اردو کے شاعر، فارسی کے استاد اور مشاعروں کے مقبول شاعر تھے، مدرسہ عالیہ، رامپور میں سینتیس برس تدریسی خدمات انجام دیں، ان کا شعری مجموعہ ’’پہچان‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
خاموش غازی پوری
اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے، علم و ادب سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
شیریں زباں، فصیح بیاں، عمدہ فصحائے جہاں
صفی پور کے اردو و فارسی کے صاحبِ طرز شاعر تھے، تصوف سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مخدوم خادم صفی کے مرید تھے، ان کا شعری مجموعہ ’’خیابانِ خلیل‘‘ اردو اور فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔
خلیفہ گلزار علی
اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر تھے، وہ نظیر اکبرآبادی کے فرزند اور شاگرد تھے اور عوامی، اخلاقی اور صوفیانہ شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے، اپنے کلام میں اسیر اور شیون کے تخلص استعمال کرتے تھے۔
خالد ندیم بدایونی
بدایوں کے ممتاز نعت گو شاعر، ادیب اور معلم تھے، نعت، غزل اور نظم میں نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کی اہم تصانیف ’’محسنِ کونین‘‘، ’’انوارِ کربلا‘‘ اور ’’زادِ آخرت‘‘ ہیں۔ 2025ء میں ان کا انتقال ہوا۔
خلیق احمد نظامی
برصغیر کے ممتاز مؤرخ، محقق اور ماہرِ تعلیم تھے، قرونِ وسطیٰ کی ہندوستانی تاریخ، بالخصوص تاریخِ تصوف اور سلطنتِ دہلی پر ان کی تحقیقات نہایت مستند سمجھی جاتی ہیں، جبکہ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور بھارت کے سفیر برائے شام کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
خلیل خاں برکاتی
خلیل اکبرآبادی
- سکونت : مرادآباد
خادم حسن اجمیری
گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔
کاظم خاں شیدا
خوشحال خاں خٹک کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے، نقشبندی صوفی، متقی اور پشتو و فارسی کے ممتاز شاعر تھے جو بالخصوص تاریخ گوئی اور صوفیانہ شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے۔
کاظم علی باغ
علی گڑھ کے ممتاز شاعر تھے، جنہوں نے غزل، نظم، قصیدہ، رباعی، سلام اور سہرا میں طبع آزمائی کی، ان کے کلام کا منتخب مجموعہ 1980ء میں شائع ہوا، جبکہ غزل گوئی ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔
صوفی شاعر جو سلسلۂ وارثیہ سے وابستہ تھے، ان کی شہرت روحانی شاعری سے ہے، تاہم ان کے حالاتِ زندگی کے مستند معلومات بہت کم دستیاب ہیں۔
کوثر سندیلوی
اردو اور فارسی کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، طویل عرصہ جے پور میں تدریسی خدمات انجام دیں، ان کا منتخب کلام ’’موجِ کوثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا جبکہ نعتیہ شاعری ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔
کوثر خیرآبادی
کوثر بریلوی
کراچی کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کا مجموعہ ’’یہ تو کرم ہے ان کا ورنہ‘‘ شائع ہوا، جبکہ اسی مطلع ’’جتنا دیا سرکار نے...‘‘ نے انہیں برصغیر میں غیر معمولی شہرت عطا کی۔
کوکب سندیلوی
سندیلہ کے شاعر تھے، شعر و ادب کا ذوق انہیں خاندانی ورثے میں ملا، جبکہ روحانی تربیت شاہ فرخ حسن سے حاصل کی، اگرچہ ان کا کوئی مستقل شعری مجموعہ شائع نہ ہوسکا، تاہم وہ اہلِ ادب میں صاحبِ ذوق شاعر کی حیثیت سے معروف رہے۔
کوکب اکبرآبادی
کشش بدایونی
کشفی لکھنوی
شاہ زید ابوالحسن نقشبندی دہلوی کے مرید اور ’’ساز و نغمہ‘‘ اور ’’چراغ حرم‘‘ کے شاعر
کرامت علی شہیدیؔ
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔
کرامت علی جونپوری
ممتاز عالمِ دین، مصلح، صوفی اور تحریکِ طیونیہ کے بانی تھے، انہوں نے بنگال و آسام میں دینی اصلاح، تعلیم اور تبلیغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔