Font by Mehr Nastaliq Web

بھارت کے شاعر اور ادیب

کل: 2674

ممتاز شاعر، ادیب، مترجم، نقاد اور روحانی شخصیت تھے۔

اردو و فارسی کے شاعر اور ماہرِ تعلیم تھے، لکھنؤ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہیں طویل عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔

اردو کے ممتاز شاعر، ماہرِ تعلیم اور بچوں کے ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، آپ نے سادہ اور مؤثر شاعری کے ذریعے بچوں کی اخلاقی و تعلیمی تربیت کی، جبکہ "تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا" جیسی نظمیں بے حد مقبول ہوئیں، تعلیمِ نسواں کے فروغ اور اردو زبان کی خدمت میں بھی آپ کی نمایاں خدمات ہیں۔

ہندوستان کے معروف قوال

بھارتی بھکتی تحریک کے ممتاز سنت شاعر تھے، آپ نے ڈنگل زبان میں کرشن بھگتی پر متعدد تصانیف لکھیں جن میں ہری رس نمایاں ہے۔

ممتاز عالمِ دین، صوفی، ادیب اور خانقاہ شہبازیہ، بھاگل پور کے سجادہ نشیں تھے، آپ کی معروف تصنیف کائناتِ تصوف ہے، جبکہ سبز حروف کے شجر اور برگِ ثنا حرف حرف آپ کے اہم نعتیہ مجموعے ہیں، آپ نے علم، تصوف اور ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

عالمی صوفی مشن، دہلی کے صدر

عہد اورنگزیب کی ایک شاعرہ

مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں شعبۂ فلسفہ کے لکچرار

مغربی چمپارن کے قصبہ بتیا کے ایک صوفی بزرگ جو حضرت دیوان شاہ ارزاں کے مرید اور شاعر تھے۔

علم و تصوف کی ممتاز شخصیت تھے، اہلِ بیت سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور مرثیہ، نوحہ و سلام کے شاعر تھے۔

درگاہ حضرت مزاق میاں، بدایوں کے سجادہ نشیں

بریلی کے صوفی منش شاعر، طبیب اور خانقاہ سجادیہ، شیش گڑھ کے سجادہ نشیں تھے، انہوں نے جامعہ نعیمیہ، مرادآباد سے دینی علوم اور طب کی تعلیم حاصل کی، ان کی شاعری میں صوفیانہ فکر نمایاں ہے، جبکہ جذبۂ دل، زخمِ جگر اور فانوسِ خیال ان کے معروف شعری مجموعے ہیں۔

صوفی منیری کے شاگرد عزیز

دبستانِ کراچی کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، ان کی شاعری زبان کی سلاست، سادگی اور سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً امام حسین کے حضور ان کے سلام عقیدت و محبت کے جذبات سے بھرپور ہیں۔

اعظم گڑھ کے ممتاز شاعر، وکیل، سیاست دان اور ماہرِ تقریر تھے، انہوں نے مولانا حمیدالدین فراہی، حسرت موہانی اور شبلی نعمانی جیسے اکابر سے علمی استفادہ کیا، 1937ء میں اتر پردیش اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قومی یکجہتی کے حامی رہے، ان کی شاعری میں قومی شعور، فکری گہرائی اور کلاسیکی لطافت نمایاں ہے۔

ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، آپ نے افقر موہانی، اثر لکھنوی اور جگر مرادآبادی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد لاہور اور کراچی میں ملازمت کی، شاخِ گل، رنگ و نور اور رحمت لقب آپ کا شعری مجموعہ ہے، اپنی غزل "دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں" کے لیے مشہور۔

آستانہ حضرت محسن علی شاہ کے سجادہ نشیں

ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے، وہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، ان کے معروف شعری مجموعوں میں سات ستارے، چراغِ آخرِ شب، محاصل اور فاصلوں کو تکلف شامل ہیں۔

آستانہ حضرت پیر منصور، گیا کے امام و خطیب اور گیا کے معروف عالمِ دین

لکھنو کے سب سے گرم مزاج شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر اور مصحفی کے ساتھ چشمک کے لیے مشہور

مغل بادشاہ محمد شاہ کے عہد کا ایک اکبرآبادی شاعر

صاحب دیوان شاعر

برصغیر کے ممتاز صوفی، موسیقار اور روحانی مفکر تھے، آپ نے حضرت سید ابو ہاشم مدنی سے روحانی تربیت حاصل کی اور 1910ء میں یورپ و امریکہ جا کر تصوف، محبت، رواداری اور اخوتِ انسانی کا پیغام عام کیا، آپ کی تعلیمات اور تصانیف آج بھی روحانیت اور انسان دوستی کا اہم سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب تھے، آپ کی سب سے معروف تصنیف "کاشف الحقائق" اردو تنقید کی اہم اور ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور کے باعث آپ کی تنقید علمی گہرائی، استدلال اور فکری توازن کی آئینہ دار ہے۔

حیدرآباد کے معروف صوفی شاعر

آستانہ خواجہ معین الدین چشتی کے خدام اور مرزا غالب کے شاگرد رشید

دبستان لکھنؤ کے ممتاز شاعر

سوز نظامی اور شبنم غضنفر کے شاگرد

آپ غزل، نعت اور منقبت کے ممتاز شاعر تھے، فلسفہ، نجوم، خطاطی اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

خانقاہ امجدیہ، سیوان کے چشم و چراغ اور معروف تظمین نگار

بولیے