پہلے خط کا جواب
دلچسپ معلومات
ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲۸؍ دسمبر ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔
عزیزم سلمہ الرحمٰن، دعائے خیر۔
تمہارا خط مؤرخہ ۱۵؍ دسمبر مجھ کو ابھی ابھی ملا، تم جیسے آدمی زمانہ کی شکایت کرتے ہو یہ پڑھ کر تعجب ہوا، فقیری کا راستہ کٹھن ہے، میں کانٹے بھی ہیں اور پھول بھی ذوق و شوق کانٹوں کو راستہ سے ہٹا دیتا ہے پھر پھول ہی پھول رہ جاتے ہیں اور پھول بھی کون سے۔۔۔۔سدا بہار۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑے اور وہ مدتوں سخت تکلیف میں مبتلا رہے، کیڑے جب جسم سے گرتے تھے تو وہ خود اٹھا کر پھر جسم پر رکھ لیتے تھے، کہتے تھے کہ دوست کا عطیہ ہے، میں کیسے جدا کروں، انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا اور نہ کبھی زبان پر حرفِ شکایت لائے، شکر گزار بندہ کبھی شکایت نہیں کرتا، صبر ہر حالت میں لازم ہے، یہ درجہ اونچا کرتا ہے لیکن صبر بخوشی ہو، بمجبوری نہ ہو، صبر تین طرح پر ہے، صبر عام، صبر خاص، صبر اخص الخاص۔
انسان کے معاملات دو طرح سے درست ہوتے ہیں، صبر سے اور اخلاص سے، صبر مصیبت پر ہے اور اخلاص خدا کے واسطے، جب انسان اپنا دل مخلوق کے حوالہ کرتا ہے تو فکر لاحق ہوتی ہے، تسلیم و رضا صوفیوں کا شیوہ ہے، شکوہ و شکایت دنیا داروں کا نعرہ ہے، صوفی تو صاف صاف یہ کہتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں کہ
ہرچہ از دوست می رسد نیکوست
قاضی گدڑی شاہ بابا کا عرس خواجہ غریب نواز کے چلہ پر ۳؍ شوال سے شروع ہوگا اور ۵؍ شوال کو قل ہوگا، اگر موقع ملے ضرور آؤ، منی اور انعام حسن کو دعا، میں اب اچھا ہوں، فکرِ کی کوئی بات نہیں ہے۔
تمہارا خیر اندیش؍ خادم گدڑی شاہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.