پہلے خط کا جواب
دلچسپ معلومات
ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ کے مکتوب کا جواب ان کے پیر و مرشد خادم حسن اجمیری نے ۲۸؍ دسمبر ۱۹۵۲ء کو جھالرہ، اجمیر سے دیا تھا۔
عزیزم سلمہ الرحمٰن۔۔۔ دعائے خیر!
تمہارا خط مؤرخہ ۱۵ دسمبر مجھ کو ابھی ابھی ملا، تم جیسے آدمی زمانہ کی شکایت کرتے ہو یہ پڑھ کر تعجب ہوا، فقیری کا راستہ کٹھن ہے، میں کانٹے بھی ہیں اور پھول بھی ذوق و شوق کانٹوں کو راستہ سے ہٹا دیتا ہے پھر پھول ہی پھول رہ جاتے ہیں اور پھول بھی کون سے۔۔۔۔سدا بہار۔
حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم میں کیڑے پڑے اور وہ مدتوں سخت تکلیف میں مبتلا رہے، کیڑے جب جسم سے گرتے تھے تو وہ خود اٹھا کر پھر جسم پر رکھ لیتے تھے، کہتے تھے کہ دوست کا عطیہ ہے، میں کیسے جدا کروں، انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا اور نہ کبھی زبان پر حرفِ شکایت لائے۔
شکر گزار بندہ کبھی شکایت نہیں کرتا، صبر ہر حالت میں لازم ہے، یہ درجہ اونچا کرتا ہے لیکن صبر بخوشی ہو، بمجبوری نہ ہو، صبر تین طرح پر ہے، صبر عام، صبر خاص، صبر اخص الخاص۔
انسان کے معاملات دو طرح سے درست ہوتے ہیں، صبر سے اور اخلاص سے، صبر مصیبت پر ہے اور اخلاص خدا کے واسطے، جب انسان اپنا دل مخلوق کے حوالہ کرتا ہے تو فکر لاحق ہوتی ہے۔
تسلیم و رضا صوفیوں کا شیوہ ہے، شکوہ و شکایت دنیا داروں کا نعرہ ہے، صوفی تو صاف صاف یہ کہتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں کہ
’’ہرچہ از دوست می رسد نیکوست‘‘
قاضی گدڑی شاہ بابا کا عرس خواجہ غریب نواز کے چلہ پر ۳؍ شوال سے شروع ہوگا اور ۵؍ شوال کو قل ہوگا، اگر موقع ملے ضرور آؤ۔
منی اور انعام حسن کو دعا، میں اب اچھا ہوں، فکرِ کی کوئی بات نہیں ہے۔
تمہارا خیر اندیش؍ خادم گدڑی شاہ
Page-51
نویں خط کا جواب
جھالرہ۔ اجمیر القدس
۵؍ ستمبر ۵۲ء
عزیزم سلمہ، دعائے خیر
آْج شام تمہارا خط ملا۔ تمہاری خیریت معلوم ہو کر مسرّت ہوئی۔ وسط اکتوبر میں آگرہ جانے کا قصد کر رہا ہوں، آگرہ سے دھولپور بھی آؤں گا۔
تمہاری مولوی صاحب کی بات چیت بہت دل چسپی سے پڑھی۔ مولوی اور صوفی کی پُرانی نوک جھونک چلی آتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بعض مولویوں نے کہیں تو اپنے ذاتی اقتدار کے پیش نظر، کہیں پبلک کے جذبات مشتعل کرکے کہیں حکومت کی آر لے کر کہیں’’ اسلام خطرہ میں ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر، صوفیوں کو ہمیشہ پریشان کرنے، دبانے، کچلنے اور پائمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعض اوقات تو بے چارے صوفیوں کو اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
حضرت منصورؒ بن حلّاج کو سولی پر چڑھایا گیا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے فنا فی اللہ ہو کر عالم بے خود میں انا الحق کا نعرہ لگایا ۔ حضرت سرمد کو دِلّی میں اورنگ زیب کے زمانہ میں قتل کیا گیا۔ ان پر یہ فرد جرم لگی تھی کہ وہ کلمہ پورا نہیں پڑھتے تھے، نفی کا حصّہ پڑھتے تھے، اور اثبات کا حصّہ نہیں پڑھتے تھے۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جس کو دیکھا نہیں، اس کا اقرار کیسے کروں۔ جس وقت جلّاد ننگی تلوار لے کر حضرت سرمدؒ کی طرف بڑھا اور آپ کو مشاہدہ دوست ہوا تو آپ مُسکرائے تمہیں معلوم ہے کہ آپ نے اس وقت کیا کہا؟ سرمد نے وہ تاریخی الفاظ ادا کئے جو آج تک بزم صوفیا میں گونج رہے ہیں۔ اور تصوف کی تاریخ میں ایک مینارہ روشنی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا’’ بیابیا، تو بہر صورت کہ می آئی من ترا خوب می شنا سم ’’یعنی’’ آ، آ۔ تو جس صورت میں بھی آتا ہے میں تجھ کو خوب پہچانتا ہوں۔‘‘
منصورؒ اور سرمدؒ نے نہ اپنی کوئی صفائی دی، نہ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی، بلکہ چُپ چاپ لوگوں کی ملامت سہتے میدان رضا و تسلیم میں اپنی جان شیریں جان آفریں کو سُپرد کردی۔
تاریخ شاہد ہے کہ مولوی نجم الدین صغریٰ نے حضرت خواجہ قطب الدّین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ پر کیا کیا الزام لگائے۔ ان کے علاوہ اور بہت سی مثالیں ہیں، جن کا بیان کرنا طوالت سے خالی نہیں۔
تم نے دیکھا کس طرح اہلِ باطن کو تکالیف پہنچاتے رہے ہیں۔ یہ تکالیف بسا اوقات ذاتی وجاہت کو ٹھیس لگنے یا سیاسی اثرات کے تحت شریعت کی آڑ میں پہنچائی گئی ہیں، مگر صوفی ہر حال میں اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردیتے ہیں اور اس کی مرضی پر راضی رہتے ہیں۔
تم نے دیکھا کس طرح اہل ظاہر اہلِ باطن کو تکالیف پہنچاتے رہے ہیں، یہ تکالیف بسا اوقات ذاتی وجاہت کو ٹھیس لگنے یا سیاسی اثرات کے تحت شریعت کی آڑ میں پہنچائی گئی ہیں، مگر صوفی ہر حال میں اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں اور اس کی مرضی پر راضی رہتے ہیں۔
صوفی درد، دُکھ، راحت و آرام، عزّت و ذلّت، صحت و بیماری، رنج و خوشی، غرض ہر شے اور ہر واقعہ کو منجانب اللہ سمجھتا ہے۔ وہ آسمانی سختی میں، زمین کی نرمی میں، بادل کی گرج میں بجلی کی چمک میں، رُخ تاباں میں، شمع فروزاں میں خدا کا جلوہ دیکھتا ہے کیا مولوی کو اس سے انکار ہے کہ خدا وند تعالیٰ ہر شے میں جلوہ گر ہے۔
صوفی اور مولوی کے نظریہ حیات میں بڑا فرق ہے۔ مولوی سمجھتا ہے کہ شریعت کے ظاہری اراکین کی پابندی کافی ہے۔ صوفی کہتا ہے کہ اخلاص و محبّت بغیر عبادت ناقص ہے۔ شریعت عبادات ظاہری سکھاتی ہے۔ تصوّف باطنی صفائی اور خلوص و نیک نیتی سے عبادات ظاہر اور زبانی یاد کو پسندیدہ بناتا ہے اور خیال و قلب و روح سے بھی پر خلوص یاد کرنا سکھتا ہے۔ مولوی لوگوں کو خدا کا خوف دلاتا ہے۔ صوفی خدا کے جمال میں محو ہوتا ہے اور خدا سے محبّت کی ترغیب دیتا ہے۔
مولوی کے نزدیک بموجب قانون ظاہر ظاہر اعمال کی تکمیل کافی ہے اور یہی اعمال صالح ہیں۔ صوفی کہتا ہے کہ اعمال کو جو چیز صالح کرتی ہے وہ نیت ہے، بغیر اچھی نیّت کے اعمال صالح نہیں ہو سکتے۔ اگر بد ترین کام اچھّی نیّت سے کیا جائے، مثلاً کِسی کو اس لئے مسجد میں جانے سے باز رکھا جائے کہ وہ اپنے دشمن کو مسجد میں قتل نہ کرے اس فعل مںی بہتر ہے کہ کوئی اس نیّت سے اس کو مسجد میں جانے کی ترغیب دے کہ وہ وہاں اپنے دُشمن کو قتل کر دے اس چیز کو مولانا رومیؒ نے اس شعر میں ظاہر فرمایا ہے؎
’’با خدا گربُت تراشی کعبہ ات سنگ آورد
بے خدا گر کعبہ سازی بت ز توننگ آورد‘‘
مولوی دوزخ کی آگ سے ڈراتا ہے، اور جنّت کے محلوں، حوروں اور غلمانوں کے لالچ میں ڈالتا ہے، صوفی خدا کی محبّت میں سرشار ہوتا ہے، اور دوسروں کو اس بیش بہا گنج مخفی سے سرفراز کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے دوزخ اور جنّت خدا تک پہنچنے میں رُکاوٹیں ہیں۔ غرض مولوی سطحی اور نظام ظاہر سے متعلق باتوں پر زور دیتا ہے۔ صوفی ظاہر داری سے نِکل کر حقیقی مضمرات و متعلقات تک پہنچتا ہے۔
مولوی ظاہری اتباع و زہدو علم کے ذریعے حصولِ جنّت کی کوشش کرتا ہے۔ صوفی دوست کی محبّت میں فنا ہو کر وصال دوست کے لئے جدو جہد کرتا ہے۔ صوفی کا خدا تک پہنچنے کا راستہ صرف محبت کا راستہ ہے۔ صوفی نہ زہد و عبادت پر نازاں ہوتا ہے نہ عِلم پر گھمنڈ کرتا ہے، نہ فضل و کمال پر فخر ہے بلکہ خدا کی محبّت میں اپنے کوفنا کرکے دوست سے مِل جاتا ہے۔
صحابۂ کرام کی زندگی صرف اطاعت ظاہری تک محدود نہ تھی بلکہ یہ مقدّس حضرات بدرجۂ اتم محبّت رکھتے تھے۔ کیا حضرت اویسؓ قرنی اور حضرت بلالؓ کی محبّت جوان کو سرور عالم سے تھی غیر اسلامی کہی جاسکتی ہے۔ حضرت بلالؓ اور حضرت اویس قرنیؓ سچے عاشقانِ رسول تھے۔ محبّت کے ذریعہ انہیں جو اونچا درجہ مِلا اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔
سرور عالم نے فرمایا ہے’’ جس کو جس سے محبّت ہوگی اس کا حشر اس کے ساتھ ہوگا۔‘‘
کیا اس حدیث سے کوئی انکار کر سکتا ہے۔
احکام ظاہر کی تعمیل کے باوجود ایک دِن سرور عالم نے حضرت عمرؓ کو خطاب کرکے پوچھا کہ’’ اے عمر تم کو مجھ سے کتنی محبّت ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا’’ یا رسول اللہ اپنی بیوی بچّوں کے بعد مجھے آپ ہی سے محبّت ہے۔‘‘ اس پر آں حضرت نے فرمایا ’’ اے عمر تمہارا ایمان نا مکمّل ہے۔‘‘ کچھ دِنوں کے بعد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے پھر وہی سوال کیا۔ اس مرتبہ حضرت عمرؓ نے دوسرا جواب دیا۔ آپ نے عرض کیا ’’ یارسول اللہ اپنے ماں باپ بیوی بچّوں، مال و متاع غرض سب سے زیادہ مجھے آپ سے محبّت ہے۔‘‘ اس پر سرورِ عالم نے فرمایا کہ ’’ اے عمر اب تمہارا ایمان مکمل ہوگیا۔‘‘ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل ایمان رسول کی محبّت ہے۔
حضرت خواجہ غڑیب نوازؒ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب خاص قسم کے عاشقوں کو بہشت میں لے جانے کا حکم ہوگا تو وہ بجائے بہشت میں جانے کے خدا وند تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ ہم بہشت کا کیا کریں گے۔ بہشت تو اس کودے جس سنے تیری پرستش بہشت کے لالچ سے کی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ بہشت عبادت کی اُجرت ہے۔ محبت کا بدلہ جنّت نہیں ہے بلکہ محبّت کا انعام وصل دوست ہے۔
صوفیوں نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے۔ ہر چیز کا ایک خاص نام ہر زبان میں موجود ہے۔ کیا صبر یا شکر، یا زہد تو کّل کی تعلیم نہیں دی۔ ایسا تو ہر گز نہیں ہے توکل جدو جہد سے باز آنے کا نام نہیں ہے۔ چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں:
’’گر توکّل میکنی دوکارکن
کسب کن پس تکیہ بر جبّار کن
فرق اتنا ہے کہ اہل ظاہر اپنی کوشش پر بھروسہ کرتے ہیں اور اصفیا خدا پر۔ صوفی اپنے نفس سے غائب ہوتا ہے اور خدا وند تعالیٰ سے اس کو باطنی طور پر حضوری حاصل ہوتی ہے، اس لئے وہ مخلوق سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔ اس کی نگاہ خالق کی طرف لگی رہتی ہے۔ مخلوق سے کسی چیز کی بھی کوئی اُمید نہیں رکھتا۔ اس کے یہاں یہ بدترین گناہ ہے۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ قدس سرہ ‘ فرماتے ہیں کہ’’ اہلِ عشق دوست کے سوا غیر کی طرف توجہ نہیں کرتے، کیوں کہ جو بغیر دوست کے خوش ہوتا ہے اسے ہر قسم کا اندوہ لاحق ہوتا ہے۔‘‘
حضرت خواجہ غریب نوازؒ فرماتے ہیں کہ ’’عارفوں کا توکّل سوائے خدا کے کسی اور پر نہیں ہوتا، نہ وہ کسی اور کی طرف التفات کرتے ہیں۔‘‘
توکّل کو صوفیوں کے لٹریچر میں ایک وسیع معنی دئے گئے ہیں۔ یہ ان کی زندگی کا ایک نصب العین ہے۔ ایک اور موقعہ پر خواجہ غریب نوازؒ فرماتے ہیں کہ’’ حقیقتاً متوکل وہ ہے جو خلقت کے آزار ورنج پہنچانے پر نہ کسی سے شکایت کرے نہ حکایت۔‘‘
صوفی کی نگاہ خدا پر لگی رہتی ہے جو رنج و تکلیف اس کو مخلوق سے پہنچتی ہے وہ اس کو منجانب خدا سمجھتا ہے۔ اور دوست کا عطیہ سمجھ کر ہنسی خوشی برداشت کرتا ہے مجازی رازق پر بھروسہ کرنا اور حقیقی رازق کو بھُول جانا غلط ہے، رزق تو موت کی طرح انسان کی تلاش میں رہتا ہے۔ بعض صوفیا کا مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رزق پہنچانے کا وعہد کیا ہے، وہ ضرور پہنچائے گا، خواہ ہم جدوجہد کریں یا نہ کریں۔ مگر بعض کہتے ہیں کہ اس حکم کی تعمیل کی جائے کہ’’ تم اپنا رزق زمین پر تلاش کرو۔ ’’پس بعد جدوجہد نتیجہ کو خدا پرچھوڑو متوکّل کبھی رزق کے لئے متفکر و غمگین نہیں ہوتا۔
’’بہ شغل جہاں رنج بردن چہ سود
کہ روزی بکوشش نمائد فزود
بدنبال روزی چہ بائد دوید
تو بنیش کہ روزی خود آئد پدید‘‘
اب قناعت کو لیجئے قناعت، طریقت اور اخلاق کا بھی ایک پسندیدہ فیصلہ ہے نہ آنے کی خوشی نہ جانے کا غم۔ جو مِل گیا اس میں خوش، جو نہ مِلا اس کا رنج نہیں۔ قانع کے بر خلاف حریص ہے۔ حریص کا لفظ سوسائٹی میں بُرے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حریص کو لوگ بُری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔
حریص وہ ہے جو جو سوسائٹی کے حقوق پر ڈاکہ زنی کی کوشش میں رہتا ہے۔ اس کا دِل و دماغ ہمیشہ پریشان اور اس کی نیّت ہمیشہ بد رہتی ہے۔ وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتا، اس لئے سوسائٹی بھی اس پر بھروسہ نہیں کرتی۔ وہ اپنا کام نکالنے کے لئے بہت ذرائع استعمال کرتا ہے، خوشامد اس کا خاص آلہ ہے۔ اس کو سکون اور اطمینان کبھی حاصل نہیں ہوتا۔ مثل ہے۔’’ پراگندہ روزی پراگندہ دل۔‘‘ (یعنی جس کی روزی پراگندہ ہے، اس کا دل بھی پراگندہ ہے) لیکن میں تو یہ کہوں گا کہ پراگندہ دِل پراگندہ روزی پرا گندہ دل روزی کو پرا گندہ کردیتا ہے۔ جب تک انسان قانع نہیں ہوتا وہ مطمئین نہیں ہوتا۔ مولانا روم فرماتے ہیں؎
’’کاسۂ چشم حریصاں پُر نہ شد
تا صدف قانع نہ شد پُر دُرنہ شد‘‘
مولوی صاحب کا خیال غلط ہے، یقیناً قرآن شریف اور احادیث نبوی تصوّف معرفت کا درس دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے’’ عبادت کر خدا کی یہاں تک کہ تجھ کو یقین حاصل ہو جائے۔‘‘ دوسری جگہ اِرشاد ہوتا ہے: ’’بیشک اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے قلب کے درمیان گذرتا رہتا ہے۔‘‘ اِسی بنا پر اہلِ تصوّف و انسان کامل قلبی عبادت کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔
دوسری جگہ اِرشاد ہوتا ہے: ’’کہہ دو (اے محمد) یہ میرے خدا راستہ ہے میں اپنے آپ اور ان کو جو میرے پیرو ہیں راہ بصیرت کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ راہ بصیرت سے مراد راہ طریقت ہے۔
حدیث قدسی ہے:’’ میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سُنتا ہے اور زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جسس سے وہ پکڑتا ہے، اور پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔‘‘ یہ مقام اہلِ تصوّف کے یہاں فنافی الذات ہو کر میسّر ہوتا ہے۔
شیخ (پیر) اپنی قوم (مریدین) میں مثل نبی کے ہم اپنی اُمّت میں۔ نیز فرمایا: جس کا کوئی پیر نہ ہو بے دین ہے۔‘‘ اور یہ بھی ارشاد فرمایا:’’ جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے۔‘‘ ایک جگہ آپ ارشاد فرماتے ہیں:’’ میری آنکھوں سوتی ہیں، میرا دل نہیں سوتا۔‘‘ یعنی قلبی عبادت میں قلب مشغول رہتا ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے :‘‘ میرے اولیاء میری قبا میں چھُپے ہوئے ہیں انہیں میری سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘
حضرت ابنِ عبّاسؓ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ مجھے سرور عالم نے دو علم سکھائے ہیں ایک یہ جسے میں لگوں سے کہتا پھرت اہوں یعنی علم شریعت دوسرا علمِ وہ ہے جسے اگر میں لوگوں سے کہوں تو وہ (نا سمجھی کے باعث) میرا گلا کاٹ ڈالیں۔‘‘ یہ علم علمِ تصوّف یا معرفت ہے جس کے اظہار پر حضرت با یزید بسطامیؒ پر تلواریں چلیں۔ حضرت منصورؒ رسولی پر چڑھے، غوث پاکؒ پر کفر کا فتویٰ لگا۔ دیگر بہت سے جلیل القدر اصفیا کو ملحد اور زندیق کہا گیا۔
علماء عبادت ظاہری پر زور دیتے ہیں اور اصفیا عبادت ظاہری و باطنی کو بلا یکسوئی (حضوری قلب) ناقص کہتے ہیں۔ ان کے یہاں یکسوئی کے لئے ضروری ہے کہ پانچویں مادی حواس خمسہ کے ساتھ پانچ باطن بھی یعنی دسوں ایک مرکز پر آئیں تب یکسوئی تامہ حاصل ہوتی ہے۔ ہندو فقراء انہیں اندر یاں کہتے ہیں۔
اسلامی تصوّف میں بنیادی چیز یہ ہے کہ سکون ذات اور حرکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جب سکون کو حرکت ہوئی ظہورِ محمد ہوا اور جب حرکت میں جنبش ہوئی تو ظہور عالم ہوا۔
اور عالم میں ہر شے نورِ محمّدی سے ہوئی۔ اصفیا تمام موجودات کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ تمام موجودات کو جلوۂ ذات اور نُور محمد کہتے ہیں۔ خواہ وہ عالم میں کسی صورت سے ظاہر ہو اور اس کا کچھ ہی نام رکھا گیا ہو۔
حضرت شبلیؒ نے تصوّف کو بڑے اچھّے پیرائے میں سمجھایا ہے۔ جب لوگوں نے پوچھا تصوّف کیا ہے۔؟
فرمایا:’’ تم ایسے رہو جیسے اس وقت تھے کہ وجود میں نہیں آئے تھے۔‘‘
فرمایا: ’’تصوف دل کو غیر سے نگاہ رکھنا ہے اور غیر سوائے میرے کوئی نہیں ہے۔‘‘
فرمایا: فنا نا سوتی ہے اور ظہور لاہوتی۔‘‘
فرمایا : تصوّف ضبط کرنا قوتوں کا یعنی حواس کا اور نگاہ رکھنا انفاس کا ہے۔‘‘
فرمایا: ’’صوفی وہ ہے جو تمام خلق کو اپنی عیال جانے۔ یعنی سب کا بار بر دار ہے۔‘‘
فرمایا: ’’صوفی وہ ہے جو تمام خلق کو اپنی عیال جانے۔ یعنی سب کا بار بردار ہے۔‘‘
فرمایا: صوفی وہ ہے جو خلقِ خدا سے جُدا رہے اور خدا سے ملا ہو۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو خلائق سے منقطع کیا۔‘‘ چنانچہ فرمایا’’ ومطفتیک لنفسی‘‘ یعنی چُن لیا میں نے تجھے اپنے واسطے، اور اپنے ساتھ پیوند کیا کہ کہ لن ترانی بہ محل تحیر ہے۔ اور فرمایا حضرت شبلیؒ نے’’ صوفیاں اطفال ہیں۔ حق کے لطف کی گود میں۔‘‘
فرمایا’’ تصوّف باز رکھنا اپنے کو اپنی ہستی دیکھنے سے۔‘‘ فرمایا’’ تصوّف ایک برق سو زندہ ہے۔‘‘
فرمایا۔’’ تصوّف حضور میں حق تعالیٰ کے بے غم بیٹھنا ہے۔‘‘
شیخ ابوالحسن خرقانیؒ عینیت کو اس طرح ظاہر فرماتے ہیں کہ’’ جب حق تعالیٰ نے الست بربّکم کہا۔ جواب اس کا بلیٰ ابوالحسن نے کہا۔ پس ابوالحسن اس کا وہ ہی تھا۔ اور معنی دلیل قرآن سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’مارمیت اذرمیت ولکیٰ اللہ رمی۔
یعنی اے حبیب جب تو نے تیر علا یا تو وہ تو نے نہیں چلایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے چلایا
شیخ ابوالحسن نوریؒ فرماتے ہیں: ’’ تصوّف نہ رسول ہے نہ علوم، لیکن اخلاق ہے۔ اگر رسوم ہوتا تو کوشش سے پا سکتے، اگر علم ہوتا تو سیکھ کر حاصل کر لیتے بلکہ اخلاق ہے ’’تخلقو با خلاق اللہ‘‘ یعنی اخلاق سیکھو اخلاق خدا سے۔‘‘ کیونکہ خلق الٰہی کا حاصل کرنا نہ رسول سے نہ علوم سے۔ فرمایا’’ نفس کے تمام حصّوں کو ترک کرنا حق تعالیٰ کے حصّے کے واسطے۔‘‘
اور فرمایا‘‘ دشمنی دُنیا کی اور دوستی مولا کی تصوّف ہے۔‘‘
یہا سید الطایفہ حضرت جنید بغدادیؒ کے چند کلمات تصوّف سے متعلق لکھنا مفید ہوگا۔ فرمایا’’ تصوّف وہ ہے کہ بندہ خدا وند تعالیٰ کے ساتھ بغیر علاقوں کے رہے۔‘‘
فرمایا’’ تصوّف وہ ہے کہ خدا تجھے تیرے سے مارے اور اپنے سے جلادے۔‘‘
فرمایا ’’ تصوّف ایک ذکر ہے، پھر وجد ہے، پھر نہ یہ ہے نہ وہ ، اس لئے کی نیت ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے نیست تھا۔‘‘
فرمایا‘‘ توحید حق تعالیٰ کو جاننا اور اس کے قدم کو جاننا ہے۔‘‘
فرمایا ’’ نہایت درجہ توحید کا انکار توحید ہے۔ یعنی جو توحید جانے، اس سے انکار کرے کہ توحید نہیں ہے۔‘‘
فرمایا ’’محبت خدائے تعالیٰ کے امانت ہے۔‘‘ فرمایا’’ جو محبّت غرض سے ہو، وہ محبت نہیں، کیوں کہ جب غرض نِکل جائے گی تو محبّت بھی چلی جائے گی۔‘‘ فرمایا’’ مشاہدہ حالتِ غرق ہے اور وجد حالت بلا کی۔‘‘ فرمایا ’’ وجد زندہ کرنے والا سب کا اور مشاہدہ سب کا مارنے والا۔‘‘ اور فرمایا’’ ظہور ذات کی خوشی میں اپنے آپ کو بھُول جانا وجد ہے۔‘‘
فرمایا ’’ قرب معہ وجد مقام جمع ہے۔‘‘ فرمایا’’ مراقبہ وہ ہے کہ بندہ اپنے سے فوت ہو جائے۔‘‘
لوگوں نے پوچھا کہ حیا اور مراقبہ میں کیا فرق ہے؟ فرمایا’’ مراقبہ غائب کا انتظار ہے اور حیا حضوریٔ مشاہدہ سے شرمانا۔’’ فرمایا ’’عبدیت دو خصلتوں میں ہے۔ اوّل خدا کے ساتھ ظاہر و باطن رہنا۔ دوسرے رسول دا صلعم کی پیروی پوری پوری بجالانا۔’’فرمیا ’’شکر وہ ہے کہ اپے نفس کو صاحب نعمت نہ سمجھے۔‘‘ اور فرمایا’’ حد زہد کی تہی دست رہنا ہے۔‘‘ فرمایا’’صد وہ ہے کہ جہاں بغیر جھوٹ کے نجات نا ممکن ہو وہاں سچ بولے۔‘‘ فرمایا’’ صبر کی انتہا توکل ہے۔’’فرمایا ’’صبر سختیوں پر تحمل کرنا اور نا خوشی کا اظہار نہ کرنا۔‘‘ فرمایا، گوکّل یہ ہے کہ بندہ خدا ہی کا ہورہے جیسا کہ پیدا ہونے سے پہلے تھا۔‘‘ فرمایا ’’فتوت وہ ہے کہ فقیروں سے کینہ نہ رکھے اور امیروں سے معاوضہ نہ کرے اور جوانمردی یہ ہے کہ اپنا بوجھ دوسروں پر نہ رکھے‘‘۔ فرمایا ’’یقین وہ ہے جو پھر نہ بدلے اور نہ نکلے۔‘‘ فرمایا’’خلق چار چیزیں ہیں۔ سخاوت، اُلفت، اُلفت، نصیحت اور شفقت۔‘‘ فرمایا’’ رضا وہ ہے کہ اختیار اُٹھ جائے اور بلا کو نعمت سمجھے۔‘‘ فرمایا’’ فقیر ایک دریا ہے آفتوں کا اور دِل کا اشکال سے خالی ہونا ہے۔‘‘ صوف آدھی طریقت ہے۔‘‘ توبہ اپنے کو ظلموں اور حضومت سے پاک کرنا ہے۔‘‘ فرمایا’’حقیقت ذکر کی ذاکر کا ذکر میں فنا ہونا ہے، اور کومراجعت خلق سے اور جُدائی اختیار کرنا طبیعت کی پیروی اور خواہشوں سے اور مارڈالنا صفات بشری کو اور دور رہنا نفسانی دعووں سے اور قائم ہونا صفات روحانی کا اور ترقی کرنا علوم حقیقی کی طرف اور عمل میں لانا ان چیزوں کا جو تا ابد کام اائیں، اور نصیحت کرنا خلق کو اور باوفا رہنا حقیقت حال پو اور متابعت رسول خُدا کی۔‘‘ فرمایا’’ توحید یہ ہے کہ بخوبی پہچانے کہ سب خیرو شر منجانب اللہ ہیں، کسی کو اس کے ساتھ شرکت نہیں۔‘‘ پوچھا گیا کہ فنا بقا کیا ہے؟
فرمایا’’ بقا حق کو ہے اور فنا اس کے ماسوا کو۔‘‘ پوچھا تجرید کیا ہے؟ فرمایا’’ بندہ کا ظاہر خالی اغراض سے اور باطن پاک رہے اغراض سے۔‘‘ پوچھا محبّت کیا؟ فرمایا ’’محبوب کی صفات محبت کی صفات ہو جائیں۔‘‘ پوچھا تفکّر کیا ہے؟
فرمایا’’ خدا کی نشانیوں میں ،نعمتوں میں، اس کے وعدوں میں، نفس کی صفتوں میں احسانوں میں فِکر کرنا تفکر ہے۔‘‘ پوچھا اخلاص کیا ہے؟ فرمایا’’ جیسے نماز اہلِ شریعت میں فرض ہے، اسی طرح اخلاص طریقت میں فرض ہے۔‘‘ پوچھا خلق پر شفقت کِس طرح ہو؟
فرمایا’’ جس وقت نفس سے کنارہ کش ہو جائے گا۔‘‘ پوچھا حِلم میں زیادہ عزیز کون ہے۔؟
فرمایا ’’ درویش راضی برضائے الٰہی۔‘‘ عرض کیا’’ صحبت کِس کی چاہئیے؟ فرمایا’’ جو ہمارے ساتھ نہیکی کرے اور بھُول جائے اور توم اس کا قصور کرو تو معاف کردے۔‘‘ پوچھا گریہ سے بہتر کیا ہے؟ فرمایا’’رونے پر رونا۔‘‘ پوچھا بندہ کون ہے؟ فرمایا جو دوسروں کی بندگی سے آزاد ہو۔‘‘ پوچھا مرید کون اور مُراد کیا ہے؟ فرمایا’’مرید وہ ہے کو سیاست میں حلم کے ساتھ رہے اور مراد وہ ہے جو رعایت میں حق تعالیٰ کی رہے۔‘‘ پوچھا تواضع کیا ہے؟ فرمایا’’سرنگوں ہونا زمین پر سوناؤ۔‘‘ فرمایا’’ حرام کی طرف حلال سے رغبت کرنا عالم کی لغزش ہے اور بقا سے فنا کی طرف میل کرنا زہد کی لغزش ہے اور کریم سے کرامت کی طرف جانا عارف کی لغزش ہے۔‘‘
مولوی صاحب کشف و کرامات سے کیوں بیمار ہیں؟ جب کوئی مافوق العادات چیز کِسی پیغمبر سے ظاہر ہوتی ہے اسے معجزہ کہتے ہیں۔ جب اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتی ہے اسے کرامت کہا جاتا ہے۔ غیر مسلم سے جب ظہور کرامت ہوتا ہے تو اسے استدراج کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ معجزوں اور کرامتوں کا تذکرہ تو کلام مجید میں بھی موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کا واقعہ دیکھئے، بی بی مریم نبی نہ تھیں، مگر ان سے کرامت کا ظہو ہوا۔
ان کی کرامت کا تذکرہ کلام مجید میں موجود ہے۔ پس اِن حالات میں کارمت سے انکار گویا کلام مجید سے انحراف ہے۔
مولوی صاحب بتائیں، کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا نہیں بنا؟ کیا حضرت موسی علیہ السلام سے بیماروں نے شفا نہیں پائی، مُردے زندہ نہیں ہوئے، کیا مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم سے نے سیکڑوں امور کشف فرما کر بہت پہلے ان کے ہونے کی خبر نہیں دی؟ کیا آپ سے صد ہا معجزوں کا ظہور نہیں ہوا؟ یہ بھی رسول خدا کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ اپنی اُمّت میں آں حضرت نہ ہزاروں اولیاء کو صاحب کرام بنا دیا۔ کیا حضرت عمر رضی اللہ نے سیکڑوں کوس دُور سے فوج کو کمانڈ نہیں کیا۔؟ کیا امام الاولیاء حضرت علی کرم اللہ وجہ سے سینکڑوں کرامتوں کا ظہور نہیں ہوا؟ کیا آپ کے مقلدین سے آج تک کرامتیں ظاہر نہیں ہورہی ہیں۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ہی کو لیجئے، آپ مولانا علی کرم اللہ وجہہ کی روحی اور نسبی اولاد میں ہیں۔ آپ کی مبارک زندگی شاہد ہے کہ آپ سے ہزاروں کرامتوں کا ظہور ہوا۔ سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ ہندوستان میں آکر ہزاروں کو انسان اور اِنسان کامل بنا دیا ہند النبی کا خِطاب پایا۔ اب تک سینکڑوں آپ کی آستانہ بوسی سے صاحب کرامت ہو رہے ہیں۔ یہ بھان متی کا تماشا نہیں ہے بلکہ انبیاء کو معجزات اور اولیاء اللہ کو کرامتیں ثبوتِ صداقت کے لئے عطا کی گئی ہیں۔ علمائے ظاہر نے بدلائل و بُرہان اسلام کی صداقت لوگوں پر ظاہر کرکے تبلیغ کا کام انجام دیا۔ اولیا،، اصفیا، مشائخین سے ظہور کرامت ہوا اور لوگوں نے کرامتوں سے متاثر ہو کر سرِ تسلیم بالمشاہدہ جھُکا دیا۔ ان حضرتا نے محبّت کی زنجیروں میں ایسا جکڑا کہ قیامت تک رہائی نہ ہوئی۔
خیر طلب
محمد خَادِم حسن
زبیری عثمانی معینی گُدڑی شاہی
Page-65
دسویں خط کا جواب
جھالرہ۔ اجمیر القدس
۸؍ اکتوبر۵۲ء
عزیز قلبی ظہور میاں سلمہ‘، دُعائے خیر۔
تمہارا خط مِلا۔ میں اس دوران میں کافی مشغول رہا۔ حضرت قطب صاحبؒ کے حالات ترتیب دے رہا ہوں۔ حضرت قطب صاحبؒ کا پورا نام حواجہ قطب الدّین بختیار کاکیؒ ہے۔ آپ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے خلیفۂ اعظم و جانشین ہیں، اور بابا فرید گنج شکرؒ کے پیرو مرشد ہیں۔
حضرت قطب صاحبؒ کے حالات میں اب تک کوئی مستند کتاب اُردو میں نہ تھی اس کمی کو پورا کرنے کی غرض سے یہ کتاب کھی ہے۔ خدا کرے حضرت قطب صاحبؒ یہ ادنیٰ خدمت قبول فرمائیں اور ناظرین اس کتاب سے پورا پورا فائدہ اُٹھائیں۔ یہ کتاب قطب الاقطاب حضرت قطب صاحبؒ کے حالات زندگی، کمالات، کرامات اور اقوال، سیرت و سوانح پر پہلی مستند کتاب ہے۔ جدید تحقیقات و انکشافات کی روشنی میں ان روایات کی تصحیح کی گئی ہے جو اب تک غلط طور پر زبان زد خاص و عام ہونے کی وجہ سے مستند سمجھی جاتی تھیں۔
اس کتاب کے لکھنے کے سلسلہ میں جو کتابیں نظر سے گذریں ان کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ خواجگان چشت نے مذہبی، اخلاقی علمی و عملی خدمات انجام دے کر سرورِ عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور صحابۂ کرام کی علمی و اخلاقی وراثت کو ہندوستان کے باشندوں تک پہنچانے کا فریضہ بحُسن و خوبی انجام دیا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خواجگان چشت کو معلّمِ حقیقی نے دعوت و تجدید و تبلیغ و تعلیم رشد و ہدایت کے لئے مخصوص فرما کر یہ خدمات تفویض کردی تھیں۔ انہوں نے جو اپنے گفتارو کردارسے معیاری زندگی کا ایک اعلیٰ نمونہ چھوڑا ہے۔ اس کا اثر ہماری تہذیب و تمدن، ہمارے افکار و خیالات، علمِ و ادب ، ہماری شعر وشاعری، غرض زندگی کے ہر شعبے پر ایسا گہرا پڑا ہے کہ اس کے آثار آج تک نمایاں ہیں۔
میرا یہ خیال ہے کہ ان کی تعلیمات ہی مادّہ پرستی، اقتدار طلبی کی اس دوڑ میں اور زندگی کی روز مرّہ جدوجہد میں ہماری طبیعت کا اندرونی سُکون قائم و برقرار رکھنے کے لئے کافی مواقر سرمایہ ہے۔
انشاء اللہ کتاب جلد مکمل ہو جائے گی۔ آج کل کتاب میں ھیان لگا ہوا ہے۔ تمام تر توجہ اس طرف ہے۔ تمہارے سوال کا جواب تو رہ ہی گیا۔ یہاں تمہارے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ نماز روزہ، حج اور زکوٰۃ نجات کے اچھّے ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعہ جنّت حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن فقیری میں ایک بڑا اور اہم وسیلہ شیخ ہے ۔ شیخ یعنی پیرو مرشد راہ تصوّف میں رہبر اور وسیلہ ہے۔ پیری مریدی کے معنی بیعت کے ہیں۔ یعنی اپنا ہاتھ شیخ کے ہات پر رکھنا اور عہد کرنا۔
صحابہ کرام نے رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسّلام سے زیر درخت بیعت کی ہے۔ یہ بیعت بیعت الشجر کہلاتی ہے۔ صحابہ کی رسول سے بیعت پیری مریدی کی ابتدا ہے۔
تم کو طالب صادق پاکر میں نے یہ کوشش کی ہے کہ تم بخوبی سمجھ لو کہ تصوّف کِس لئے ضروری ہے اور اس سے کیا حاصِل ہوتا ہے۔ اس کے موٹے موٹے متعلقات تمہارے لئے جاننا ضروری معلوم ہوتے ہیں۔ پیری مریدی در اصل ایک روحانی رشتہ ہے، یہ ایک ایسا رشتہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی نہیں ٹوٹتا۔ یہ محبّت کا تعلّق ہے، محبّت کو فنا نہیں، جب محبّت کو فنا نہیں تو محبّت کے تعلق کو بھی کیسے فنا ہو سکتی ہے۔ مریدی ایک پاک اور پُر خلوص محبّت کی زندگی کی راہوں پر چلنے کا نام ہے اور اس نئی زندگی کے نئے اصولوں کو اختیار کرنا ہے۔
مریدی اپنے آپ کو دوسرے کے حوالے کر دینا ہے۔ اپنی تقصیروں کی معافی چاہنا ہے۔ مریدی اخلاق ذمیمہ سے پر ہیز کرنا ہے۔ مردی ہونا آّان نہیں، مرید کرنا آسان نہیں، مریدی کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا اور ان پر عمل کرنا آسان نہیں۔
مریدی ایک پکّا عہد کرنا ہے اور ابتدا اور آزمائش میں بھی اس عہد پر قائم رہنا ہے۔ مریدی گناہوں کی پناہ گاہ ہے۔ مریدی حصار دین وایمان ہے۔
حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کا فرمان ہے کہ’’ جب تک مرشد کی تربیت حاصل نہ ہوگی منزل پر نہیں پہنچے گا۔‘‘ مرید کے لئے پیر کی صحبت سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے۔
خواجہ غریب نوازؒ اس باب میں فرماتے ہیں کہ’’ نیکیوں کی صحبت سب چیزوں سے زیادہ ضروری ہے۔
خواجہ غریب نوازؒ اس باب میں فرماتے ہیں کہ’’نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر ہے اور بُروں کی صحبت بد کام سے بد تر ہے۔‘‘
مولانا روم اچھّی صحبت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں؎
’’صحبت صالح ترا صالح کُند
صحبتِ طالع ترا طالع کُند
اہل دل کی صحبت کے لئے مولانا روم فرماتے ہیں کہ ؎
’’یک زمانہ صحبت با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا‘‘
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مرید کے لئے صحبت مرشد سب سے زیادہ مفید ہے سرور عالم کا فرمان ہے کہ’’تنہا کے ساتھ شیطان ہوتا ہے، اور دو سے وہ بہت دُور رہتا ہے۔‘‘
مرید کے لئے ترک مراد بہت ضروری ہے حضرت خواجہ غریب نوازؒ فرماتے ہیں کہ ’’لوگوں میں عاقل ترین وہ فقراء ہیں جنہوں نے درویشی اور نامرادی اختیار کر لی ہے۔کیوں کہ اس میں مُراد نامرادی ہے، اور نامرادی مراد ہے بر خلا اس کے کہ اہلِ غفلتنے صحت کو زحمت اور زحمت کو صحت خیال کر رکھا ہے۔ پس دانا وہ ہی ہے جو دنیاوی مراد ترک کرکے فقر و نامرادی اختیار کرے اور اپنی مراد چھوڑ کر نا مرادی سے موافقت کرے۔
مرید کو چاہئے کہ حرص و ہوا کو ترک کرے۔ بغیر حرص و ہوا کو ترک کئے گوہر مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ: ’’ جس نے اپنی خواہشاتِ نفسانی کو روکا اس کا ٹھکانا بہشت ہے۔‘‘
’’جس کو معرفت حاصل ہوئی اور خدا کو پہچانا وہ کبھی حرص و ہوا میں نہیں پھنستا۔ وہ کوئی آرزو نہیں رکھتا، اس کی کوئی خواہش نہیں ہوتی، وہ کبھی سوال نہیں کرتا۔‘‘
ایک شب حضرت خواجہ بایزید بسطامیؒ نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا۔’’ بایزید کیا چاہتے ہو؟‘‘ آپ نے عرض کیا’’ جو تو چاہتا ہے۔‘‘ اس پر فرمانِ باری تعالیٰ ہوا’’ اچھّا جس طرح تو میرا ہے اسی طرح میں تیرا ہوں۔‘‘
اہلِ معرفت کی علامت ترک ہے، بغیر ترک کے کوئی معرفتِ حق کی بُو نہیں سونگھ سکتا۔ مال و منال، عزّت و جاہ، شہرت و عظمت و مرتبہ یہ سب کیا ہے۔ یہ سب بڑے بڑے اندھی ہے۔ وہ ان بُتوں کی پرستش میں مشغول ہے۔ در اصل یہ معبود خلائق بن گئے ہیں۔ اصل ترک ان بُتوں کی محبّت کو اپنے دِل سے نکالنا ہے۔ ہمارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’ دُنیا کا ترک کرنا تمام عبادتوں کی جڑ ہے اور دنیا کی محبّت تمام خطاؤں کی جڑ ہے۔ ترک بغیر غایت محبّت کے حاصل نہیں ہوتا۔ محبت ایک عطیۂ الٰہی ہے جو ہر ایک کو نہیں دیا جاتا۔‘‘ حضرت سرمدؒ فرماتے ہیں کہ؎
سر مد غم عشق بو الہوس راند ہند
سوز غم پروانہ مگس راند ہند
عمرے باید کہ یاد آمد بہ کنار
ایں دولت سرمد ہمہ کس راند ہند
محبّت خُدا وند تعالیٰ کی مخصوص توفیق کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہدایت پیر کی استعانت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ پس مرید کے لئے پیر کی خدمت اور صحبت ضروری ہے۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ کا فرمان ہے کہ’’ اصلاح باطن کے لئے مرشد کامل سے رابطہ کی ضرورت ہے۔ فنافی الشیخ، فنا فی الرسول، فنا فی اللہ اور فنافی البقا اس کے مدارج ہیں۔‘‘ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ‘ نے نفی اثبات کے متعلق فرمایا کہ’’نفی اپنے آپ کو نہ دیکھنا اور اثبات اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ہے کیوں کہ کوئی خود بیں خدا بیں نہیں ہوسکتا۔ پس نفی کی نفی کرنے والا ہونا چاہئے، ورنہ نفی کا کچھ فائدہ نہیں۔ اگر صرف یہ خیال کریں کہ ہستی صرف اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے تو مطلب حاصل ہوجاتا ہے۔‘‘ طالب شروع شروع میں اندھا ہوتا ہے، جب پیر کی استعاعت اور خداوند تعالیٰ کی مہربانی سے اُس بینائی حاصل ہوتی ہے تو و ہ دیکھا ہے، اس کا دیکھنا کیا ہوتا ہے اپنے آپ کو فراموش کر دینا اور مرشد کو دیکھنا ہوتا ہے۔ مرید کو چاہئے کہ اپنے شیخ یعنی پیر کے تصوّر میں ہمہ وقت رہے۔ فنا الشیخ کا درجہ اسی سے حاصل ہوتا ہے۔ اپنے پیر پر پورا پورا اعتقاد ہو اور پیر کے کسی حکم کی بجا آواری میں ہر گز تساہل و پس و پیش نہ کرے۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب آپ کے پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ‘۔ نے جارہے ہیں ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جب آپ بُت خانے پہنچے تو صرف خواجہ غریب نوازؒ موجود تھے۔ صفائی یاروں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ مگر ذات کا یار ساتھ تھا۔ خواجہ غریب نوازؒ نے اس کے مطلق پرواہ نہ کی کہ آپ کے پیر کہاں جارہے ہیں، اور کیوں جارہے ہیں۔ بالفاظ دیگر حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ‘ نے غریب نوازؒ کو بُت خانے کے اندر بُلایا اور پیر سے جو جو نعمتیں آپ کو ملیں وہ روزِ روشن کی طرح ظاہر ہیں، بس مرید پر پیر کے حکم کی بجا آوری ضروری ہے۔ چنانچہ حافظ صاحب شیرازی فرماتے ہیں:
’’بمئے سجّادہ رنگیں کن اگر پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود از راہ ورسم منزل ہا
جس نے اس پر عمل کیا وہ مراد کو پہنچا، اور اس کو مقصد حاصل ہوا، جس نے ایسا نہیں کیا وہ محروم رہا۔
مرید کو ایمانِ کامل حاصل ہونا چاہئیے۔ اس کو مفلسی و ناداری و نامرادی سے نہ گھرانا چاہئیے۔ نہ دل برداشتہ ہونا چاہئیے۔ اس کا دل تنگی و گرانی سے آزاد ہونا چاہئیے اس کے لے بذل، وجود و سخاوت، ایثارقربانی بھی ضروری ہیں۔ جیسا کہ خدا وند تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ’’اپنی جانوں پر ایثار کرتے ہیں، اگر انہیں تنگی ہو۔‘‘ جب تک انسان اس چیز کو خرچ نہ کرے گا جس کو وہ سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، وہ ہر گز نیکی کے اعلیٰ درجہ کو نہیں پہنچے گا۔
خدا وند تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو حکم ہوا کہ اس چیز کی قربانی کرو جس کو تم سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہو۔ وہ سوچتے رہے کہ وہ کیا چیز ہے جس کو وہ سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔
آخرکار انہیں معلوم ہوا کہ وہ سب سے زیادہ اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل کو عزیز رکھتے ہیں۔ انہوں نے بیٹے کی قربانی کا اہتمام شروع کیا، اور جب ان کی گردن پر چھُری چلائی تو ان کے بجائے مینڈھا پایا۔ حکم الٰہی کی تعمیل میں پورے اُترے، امتحان میں ثابت قدم ثابت ہوئے، اعلیٰ مرتبہ پایا۔ ان کی یہ سنّت امّتِ محمدی پر ضروری ٹھہری۔
حضرت مخدوم علی ہجویریؒ جو داتا گنج بخش کے لقب سے مشہور ہیں۔ فرماتے ہیں: کہ آدمی پر روح کے خرچ کرنے اور اپنے دوست سے ہاتھ اٹھا لینے (ترک دُنیا) سے کوئی چیز زیادہ سخت نہیں ہے۔ خدا وند بزرگ و بلند نے سب نیکیوں کی چابی اپنے محبوب کے بزدل کو بنایا ہے۔‘‘ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ’’ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے۔ یہاں تک کہ خرچ کرو اس چیز کو جو دوست رکھتے ہو۔‘‘
خدا قربت اور حیات ابدی روح کے خرچ کرنے سے ہی مِل سکتی ہے۔ خدا کے فرمان کو بجالانا، اس کے دوستوں کی فرماں برداری میں ہم وقت کمر بستہ رہنا اور اپنی خواہشتا اور اپنے نفس کو ترک کرنا۔ بلا شک و شبہ یہ مشکل باتیں تو ہیں، لیکن طالبِ صادق کے لئے ضروری باتیں یہی ہیں۔ اس مقام پر پہنچ کر ایثار ایک نیا مژدہ اور ایک نیا پیغام لاتا ہے چنانچہ اس کے متعلق حضرت داتا گنج بخشؒ فرماتے ہیں کہ ‘’’ اور ایثار جو ترک نصیب ہے، اصل نصیب ہے۔‘‘
ایک شخص مولانا رومیؒ کے پاس آیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس کو کوئی نصیحت کریں۔ آپ نے فرمایا کہ’’ اے بیٹے اگر تو کر سکتا ہے تو سُن، یہ کام جان کے خرچ کرنے کے سوا نہیں ہے اور اگر نہیں کرسکتا تو صوفیوں کے سخنوں میں مشغول نہ ہو اور جو اس سکے سوا ہے سب بیہودہ سخن ہے۔‘‘ جو روح کی قربانی دیتے ہیں ان کو یہ رُتبہ ملتا ہے۔
ایثار اس کوچہ میں بڑی چیز ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’ جو شخص خواہش سے کسی چیز کی آرزو کرتا ہے اور جب اسے پائے تو ہات اُٹھائے تو بالضرور خدا وند تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔‘‘
یہ بھی تمہارے لئے جاننا ضروری ہے کہ ایثار دو طرح پر ہوتا ہے ایک توصحبت میں اور دوسرا محبّت میں۔ صحبت کے ایثار کرنے میں ایک طرح کا رنج واندوہ ہوتا ہے برخلاف اس کے کہ جو ایثار دوست کے حق میں کیا جاتا ہے اس میں راحت ہی راحت اور خوشی ہی خوشی ہے۔ جس رات دشمنوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جان مبارک لینے کا قصد کیا اور تیاریاں شروع کیں ت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ مکّہ سے غار حرا کی طرف روانہ ہوئے یہ بڑا نازک وقت تھا۔ اغیار کافی تعداد میں تھے اور کافی طاقتور تھے اور سرور عالم کی جان لینے پر تُلے ہوئے تھے ، اس نازک وقت میں حضرت علیؓ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے میں پس و پیش نہ کیا اور بلا تامل سرورِ عالم کے بستر پر سوئے۔ اغیار یہ سمجھے رہے کہ سرور عالم بستر مبارک پر استراحت فرمارہے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سرور عالم کے بستر پر اس پُر آشوب رات میں سونا اپنی زندگی کو سرور عالم پر فدا و نثار کرنا تھا یہ تھا سچا ایثار، جس کی مثال مِلنا دُشوار ہے۔ اس وقت اس واقعہ سے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں ایک آیتہ نازل ہوئی جس کا ترجمہ ہے کہ :’’ اور بعض لوگوں میں سے وہ شخص جو اللہ کی رضا مندی چاہنے کے واسطے اپنی جان کو سجیپتا ہے اور اللہ کے بندوں پر شفقت کرنے والا ہے‘‘ روٹی یا رزق کا ایثرا کرنا تو معمولی بات ہے، مرد وہ ہے جو اپنی جان اور اپنی زندگی کا ایثار کرے۔
خدا کے ایسے بندے بھی ہیں جو عشقِ الٰہی میں سرشار ہیں، انہوں نے اپنی ہستی مٹا دی۔ مشاہدہ دوست سے باقی ہیں۔ وہ اسی کے خیال میں رہتے ہیں اور ان کا ہر فعل اسی کے واسطے ہے۔
’’چوں میرو مبتلا میرو چوں خیز و مبتلا خیزد‘‘
ان کا اٹھنا، بیٹھنا، بولنا، کھنا، پینا، آرام کرنا غرض ان کی ہر حرکت، ان کی ہر جنبش اور ان کا ہر فعل اسی کے واسطے ہے اور اسی کی محبت میں ہے۔ اگر ایک لحظہ بھی وہ اس کے مشاہدہ سے محروم ہو جائیں تو ان کے وجود سے شور پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک لمحہ بھی وہ اس کے خیال اور اس کی یاد سے غافل ہو جائیں تو وہ ان کے نزدیک ان کی موت ہے۔
ایک درویش کا قصّہ ہے کہ وہ ایک فقیر سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں ان درویش نے پرندوں کو کہتے ہوئے سُنا کہ فلاں فقیر یعنی جس سے وہ ملنے جارہے تھے انتقلا کر گئے۔ ان کو یہ سُن کر تعجّب ہوا۔ یعنی چونکہ کافی راستہ طے کرچکے تھے، اس لئے واپس ہونا مناسب نہیں سمجھا۔ مسافرت طے کرتے ہوئے اس فقیر کے پاس پہنچے، دیکھا کہ وہ بالکل توانا و تندرست، زندہ و سلامت بیٹھے ہیں۔ ان کو بڑا تعجّب ہوا۔ ان فقیر سے یہ بولے کہ تمہارے مرنے کی خبر راستہ میں سنی تھی، لیکن تم تو زندہ ہو، فقیر نے جواب دیا کہ ’’ آپ نے جو کچھ سُنا تھا وہ صحیح تھا۔ واقعی میری موت واقع ہوگئی تھی۔ میں خدا کی یاد سے چند لمحات غافل رہا۔ وہ ہی میری موت تھی۔‘‘ اس قصّہ سے یہ بات بخوبی سمجھ لو گے کہ فقیر کا ہر کام بہ نیت صادق خدا کے لئے ہوتا ہے۔
ایک اور قصّہ ہے کہ ایک درویش نے اپنی بیوی سے ایک دوسرے فقیر کے لئے جو دریا کے پار بیٹھا تھا، روٹی لے جانے کو کہا۔ ان کی بیوی جب روٹی لے کر دریا کے کنارہ پہنچی۔ دیکھا کہ دریا خوب چڑھا ہوا ہے۔ واپس آئی اور کہا کہ دریا چڑھا ہوا ہے، پار کرنا دشوار ہے۔ ان فقیر نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تو دریا کے کنارہ پہنچے تو کہنا کہ اس فقیر کے صدقہ میں جس نے زند و شوہر کے تعلقات نہ برتے، مجھے راستہ دے۔ چنانچہ دریا کے کنارے کھڑے ہو کراس نے وہ ہی الفاظ دُہرائے۔ راستہ پیدا ہوگیا اور وہ عورت بخیر دریا پار پہنچ گئی۔ اور جو فقیر وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان کو روٹی دی، انہوں نے روٹی کھائی اور پوچھا کہ تو یہاں تک کیسے آئی، دریا چڑھا ہوا ہے اس نے وہی کلمات دہرائے۔ ان فقیرنے کہا کہ اب جو تو جائے تو کنارہ پر کھڑے ہو کر کہنا کہ’’ اس فقیر کے صدقہ میں جس نے ساری عمر روٹی نہیں کھائی، مجھے راستہ دے۔‘‘ عورت حیران تھی کہ یہ کیا مارجرہ ہے۔ اس کے شوہر نے اس سے بار ہا صحبت کی اور پھر کہتا ہے کہ صحبت نہیں کی اور اس فقیر نے خود اس کے سامنے بیٹ بھر کر روٹی کھائی اور کہتے ہے کہ ساری عرم روٹی نہیں کھائی۔
غرض وہ کنارہ پر پہنچی اور وہ ہی الفاظ جو اُن فقیر نے اس کو بتائے تھے۔ دہرائے راستہ پیدا ہوگیا ، اور وہ صحیح سلامت اپنے شوہر کے پاس واپس آگئی۔ اس نے شوہر سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ تم دونوں نے جھوٹ بولا، مگر باوجود اس کے دریا نے راستہ دیا۔ اس کے شوہر نے کہا کہ نہیں ہم میں سے کوئی جھوٹا نہیں۔ میں نے ساری عمر تجھ سے صحب اپنے نفس کے خاطر نہیں کی بلکہ خدا کے واسطے کی، اور اس فقیر نے ساری عمرروٹی اپنے نفس کی خاطر نہیں کھائی بلکہ خدا کو یاد رکھنے کے واسطے۔
اس قصہ سے تم کو اندازہ ہوگا کہ نیت عمل کے واسطے کتنی ضروری چیز ہے۔ اچھیّ نیت سے بدتر کام بہر ہو جاتا ہے اور بُری نیت سے بہتر کام بدتر، ہو جاتا ہے۔ پس صدق کے ساتھ نیت کا درست رکھنا لازم و ضروری ہے۔ نماز ہو یا روزہ، خیرات ہو یا زکوٰٖ، حج ہو یا اور کوئی عمل، غرض کچھ بھی ہو نیک نیت ضروری ہے۔
نماز بغیر نیت اطاعت حق تعالیٰ کے اُٹھک بیٹھک روزہ فاقہ، زکوٰۃ دادو دہش، خیرات اقتدار طلبی اور حج سیّاحی ہے۔ مرید کے لئے نیّت کا ٹھیک اور درست رکھنا اور خلوص ضروری چیزیں ہیں۔ نیّت درست ہو اور طلب صادق ہو جب منزل مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے۔
مریدی بھی عجب چیز ہے۔ اپنی جان، اپنا مال، اپنا ایمان غرص اپنا سب کچھ یرو مرشد کے سپرد کر دینا ہے۔ مرید کی خود کوئی خواہش یا آرزو نہیں رہتی، جو اس کے پیر کی خوشی اور رضا مندی ہو وہ ہی مرید کی عین خوشی اور رضا مندی ہوتی ہے۔ پیر کی تعلیم اور تلقین اس کے لئے شمع راہ ہے۔
مرید مردہ کی طرح ہے جو ایک زندہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن مرید اصل مقصد کے لئے بغیر پیر کا اتباع کئے، اور اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلے، منزل مقصود پر نہیں پہنچتا۔ بغیر مجاہدہ کے مشادہ نہیں ہوتا۔ بغیر تکلیف کے راحت نہیں ملتی، بغیر تلاش کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اچھّا اب یہ خط ختم کرتا ہوں۔ آج کل موسم بڑا اچھّا ہے۔ میں شام کو اکثرچلّہ حضور غریب نوازؒ پر چلا جاتا ہوں۔ مُنّی اچھی طرح ہے۔ روز اسکول جاتی ہے۔ انعام اور مہر نور کو پیار شکیلہ کو دُعا۔ تمہاری چچی شکیلہ کو دُعا اور چُنی کو پیار کہتی ہیں۔ خدا وند تالعیٰ تمہارے کام بنائے اورتم کو شاد آباد رکھے۔
دُعا گو
خادم گُدڑی شاہ
Page-81
گیارھویں خط کا جواب
جھالرہ، اجمیر القدس
۱۵؍ نومبر ۵۲ء
عزیز القدر سلمہ‘، دُعائے خیر
تمہارا خط ملے ہوئے کئی روز ہوگئے۔ دن بھر کتاب میں مصروف رہتا ہوں۔ چند ایسی روایتیں ہیں جن کی تصحیح نہایت ضروری ہے۔ جب تک روایات کی تصحیح نہ ہو اور سنین کی تحقیق نہ ہو، اس قسم کی کتاب مستند نہیں سمجھی جاتی۔ چنانچہ اسی جستجو و تجسّ میں لگا رہا۔ بحمد اللہ کامیابی ہوئی۔
جدی تحقیقات و انکشافات کی روشنی میں ان روایات کی تصحیح کی جواب تک زبان زد خاص و عام ہونے کی وجہ سے مستند سمجھی جاتی تھیں۔ آپؒ کی سنین ولادت شریف و مریدی، خرقہ خلافت و تبرکات پانے کا سنہ، آپ ؒ کے دہلی کے قیام کی دوران کے واقعات آپؒ کی شادی۔ آپ ؒ کی اولاد، آپؒ کا اجمیر شریف آنا آپؒ کا باب صاحبؒ کو مرید کرنا، آپ ؒ کا سنہ وفات اور عمر بوقت وفات شریف، غرض زندگی کا کوئی پہلو بھی تشنہ نہیں چھوڑا گیا ہے۔ اب تو کتاب پوری ہی سمجھ لو۔ معمولی کام باقی ہے۔
طالب پیر کی انگلی کیسے پکڑے اور کس کی اُنگلی پکڑے، یہ بڑا نازک سوال ہے لیکن دشوار نہیں ہے۔ ہر طالب حقیقی کا کسی نہ کسی کے یہاں حصّہ ہوتا ہے، اس کو وہ حصّہ وقت پر مِل جاتا ہے۔ پیر کامل کی شناخت یہ ہے کہ اس کی صحبت میں دنیا فراموش ہو جاتی ہے۔ خدا یاد آتا ہے، نیک کاموں کی توفیق عطا ہوتی ہے، دِل بُرائی سے ہٹ کر بھلائی کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی صحبت میں یہ بات حاصل ہو سمجھ لو کہ وہ پیر کامل اور برگزیدہ ہے۔ اگراس کے یہاں تمہارا حصّہ ہوگا وہ تم کو مُرید کرے گا ورنہ انکار کردے گا۔
تمہارے دوست لطیف صاحب کا دوسرا پیر تلاش کرنا غلط ہے۔ کیا انہوں نے پیر کی درسگاہ کو نوکری دلانے کا دفتر سمجھ رکھا ہے، اور پیر کو اس دفتر کا ہیڈ یا ڈائرکٹر تصوّر کر لیا ہے۔ اگر پیر اپے مرید سے واقعی خوش ہے تو وہ اس کو کبھی تکلیف میں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ اس کے بغیر کہے اس کی باطنی ہمّت اور استعانت سے مرید کا ہر کام بخیر وخوبی انجام پاجاتا ہے۔ لیکن یہ بات جب ہوتی ہے جب مرید راسخ الاعتقاد ہو اور اس کو پیر پر پورا پورا بھروسہ ہو۔
پیر مرید تجارت نہیں ہے اور نہ یہ مشترکہ کاروبار کی کوئی مشترکہ کمپنی ہے اور نہ پیری مریدی دنیا وی نفع کو آپس میں مساوی طور پر باٹنے کی کوئی کوآپریٹیو سوسائٹی ہے جو مرید اپنے پیر سے صرف دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے مرید ہوتا ہے، وہ در اصل مرید دُنیا ہے، وہ تاجر ہے اور مریدی کے نام کو اور اس کے وقار کو بدنام کرنے والا ہے۔
’’بدنام کنندۂ نکونامے چند‘‘
اسی طرح جو پیراپنے مرید سے یا دنیا مںی کسی سے بھی کوئی دنیاوی غرض یا اُمیّد فائدہ رکھتا ہے۔ وہ اصل میں پیر نہیں، بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ وہ خود بھی ڈوبتا ہے اور اپنے مُریدوں کو بھی لے ڈوبتا ہے۔ پیری رنگے ہوئے کپڑے پہننے یا بال بڑھانے کا نام نہیں۔ اور مریدی بتا شوں یا شیرینی پر فاتحہ کرکے رسم ادا کرنے کا نام نہیں۔
مریدی ایک بڑا عہد وپیمان اور ایک پڑا عزم بالخبرم ہے۔ صداقت ہو، محبّت ہو تو لطافت پیدا ہوتی ہے۔ جب لطافت پیدا ہوئی تو کثافت دُور ہوئی۔ جب کثافت دُور ہوئی تو ایذار سانی ظلم وجور بغض وحسد، بخل، کینہ لالچ وغیرہ وغیرہ سب کی موت واقع ہوئی اور دل مثلِ آئینہ کے صاف ہوگیا۔
لیکن یہ سب کچھ پیر کی توجہ سے ہوتا ہے۔ پیر کی توجہ اس وقت ہوتی ہے جب مُرید کی طلب صادق ہو، اعتقاد درست ہو، رابطۂ محبّت ہو۔
خواہش پرست خدا رسیدہ نہیں ہوسکتا۔ پیر پرست خدا پرست ہے، اس سے انکار گناہ ہے۔ پیر کے آستانہ پر سرِ نیاز خم کرنے سے تمکنت و وجاہت حاصل ہوتی ہے پیر، رسُول اور خدا کافی ہے۔
مرید کا پیر تو ایک ہی ہوتا ہے، جس طرح وفا شعار بیوی کا ایک ہی خاوند ہوتا ہے اسی طرح پیر پرست مرید کا صرف ایک ہی پیر ہوا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں کسی دوسرے سے طالب ہونا رواج پذیر ہے، ایک پیر کے بہت سے مرید ہو سکتے ہیں۔
جس نے پیر کے حکم سے یا پیر سے رو گردانی کی وہ نعمت سے محروم رہا۔ حضرت خواجہ غریب نواؒ فرماتے ہیں کہ’’ مدہب حقیقی یہ ہے کہ مرشد کی مطابقت اور پیروی کرے یعنی اِطاعت باطنی میں پیرو مرشد مثل راہ کے ہے اور رہنما خدا ہوتا ہے۔ مذہب مخلص ہوتا ہے نہ کہ مختلطہ۔ اختلاط توقف ہے اور اخلاص ترقی ہے‘‘۔ جو صفاتی مرید ہوتی ہیں وہ پکّے اور راسخ الاعتقاد نہیں ہوتے لیکن جو ذات سے تعلّق رکھتے ہیں وہ حقیقی مرید ہوتے ہیں۔
مرید دو قسم کے ہوتے ہیں۔ رسمی وحقیقی۔ رسمی مرید وہ ہے جو پیر سے کلاہ و شجرہ حاصل کرے۔ پیر پر سچا اعتقاد رکھے۔ پیر کے حکم پر چلے۔ پیراگر رات کہے تو رات کہے اور اگر پیردن کہے تو دن کہے۔ پیر کے فرمان پر ثابت قدم رہے، جس بات سے پیر منع کرے اس سے پرہیز کرے۔
مرید حقیقی وہ ہے کہ پیر کی حرکات وسکنات کے موافق ہو۔ پیر کی راہ و روش کے خلاف کسی وقت اور کسی حالت میں بھی نہ چلے۔ جب پیر ومرید میں صدق وسچائی دیکھتا ہے تو اس کو خرقہ پہناتا ہے، ذکر وفکر، مراقبہ کی تلقین کرتا ہے اور خلوت میں بیٹھنے کی ہدایت کرتا ہے مجاہدہ اور ریاضت کراکے اس کو اپنےمثل بناتا ہے اور اپنے مثل تصویر کرتا ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ مریدی کے متعلق فرماتے ہیں کہ’’ مریدی یہ ہے کہ حاضر وغائب پیرو مرشد کی اطاعت وادب ملحوظ رہیں اور پیر کی صحبت میں دل وجان سے حاضر ہو۔ ریائی اعمال سے پرہیز کرے۔ عند الوصال رات دن خدا کی یاد میں بفرمان مرشد مشغول رہے۔‘‘
پیر و مرشد کا ادب مرید پر لازمی ہے بغیر پاسِ ادب کے مرید پیر تک قربت حاصل نہیں کرسکتا۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں۔ ع ’’بے ادب محروم مانداز فضل رب‘‘ اور؎
’’بے ادب تنہا نہ خود را داشت بد
بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد‘‘
بغیر پیر و مرشد کی خدمت کی عظمت نہیں مل سکتی جس نے پایا پیرو مرشد کی خدمت سے پایا۔ خواجہ غریب نوازؒ جب اپنے پیر حضرت عثمان ہارونی نور اللہ مرقدہ‘ سے پیوستہ ہوئے اور ارادت کے ساتھ بیعت کا شرف پایا تو آپ بائیس سال تک مرشد کی خدم گزاری میں ہم تن کمر بستہ رہے۔ یہاں تک کہ ایک لمہ بھی اپنے نفس کو آسودگی نہ دی۔
حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سّرہ‘ جہاں مسافرت فرماتے حضرت خواجہ غریب نوازؒ حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سِرّہ‘ کا جامۂ خواب اور توشۂ سفر سر پر لئے ہمرکاب رہتے۔ یہ کتنی مشکل بات ہے۔ لیکن نتیجہ کیا ہوا۔ حضرت خوجہ عثمان ہارونی قدس سرہ‘ نے غریب نوازؒ کی یہ خدمت دیکھ کر آپ کو وہ عظمت و نعمت بخشی کہ جس کا کوی حدوحساب نہیں۔
حضرت شیخ شہاب الدین عمر شہروردی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نامی تو تم نے سُنا ہوگا۔ آپ سے سہروردی کا سلسلہ چلا۔ آپ بہت برگزیدہ بزرگ ہیں۔ آپ شیخ الدین عمر شہر وردی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نامی تو تم نے سُنا ہوگا۔ آپ سے سہروردی کا سلسلہ چلا۔ آپ بہت برگزیدہ بزرگ ہیں۔ آپ شیخ سعدیؒ (جن کی تصنیف گلستاں و بوستاں‘‘ تم نے پڑھی ہے) کے پیر ہیں۔ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردیؒ نے بھی غریب نوازؒ کی طرح اپنے پیرو مرشد کی خدمت اور اطاعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ آپؒ اپنے پیرو مرشد کی خدمت اور اطاعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ آپؒ اپنے پیرو مرشد کا سامان سفر سر پر رکھ کر اپنے پیرکے ہمراہ حج کو جاتے تھے اور اسی طرح واپس آتے تھے۔ آخر کار پیر نے یہ دیکھ کران کو لازوال نعمت سے مالا مال کیا۔
تعظیم پیرو مرشد اگر کسی کو سیکھنا ہو تو حضرت خواجہ غریب نوازؒ سے سیکھ لے۔ آپؒ کے دل میں پیر ومرشد کی تعظیم بے انتہا تھی۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ آپؒ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور سلوک کی نسبت کچھ فرما رہے تھے۔ جب آپؒ کی نظر دائیں طرف پڑتی تھی تو آپؒ کھڑے ہو جاتے تھے۔ جو لوگ آپ کے پاس بیٹھے تھے حیران تھے کہ آپؒ بار بار کِس لئے کھڑے ہوتے تہیں، اور کس کو بار بار تعظیم دیتے ہیں۔ دریافت کرنے پرآپ نے فرمایا کہ اس طرف ان کے پیرو مرشد کا روضہ ہے۔ جب وہ اس طرف دیکھتے تھے تو روضۂ مبارک نظر آجاتا تھا اور وہ بار بار تعظیم کے لئے کھڑے ہوتے تھے۔
خواجہ غریب نوازؒ کا فرمان ہے۔’’ مرید کو چاہیئے کہ پیر کے فرمان سے ذرّہ بھر تجاوز نہ کرے۔ مرشد جو کچھ نماز اور ادو وظائف کے لئے فرمائے اس کو گوش و ہوش سے سُنے اور اس پر عمل کرے تاکہ اس مقام پر پہنچے۔ جہاں پیر و مرید کا مشاطہ ہے۔ پیر جس امر کی مرید کو ترغیب دے گا وہ حصول کمال کے لئے ہوگی۔‘‘
پیر کی خدمت کرنا اور پیر کو دیکھنا خود ایک عبادت ہے۔ چنانچہ غریب نوازؒ فرماتے ہیں کہ پانچ چیزوں کا دیکھنا اہل سلوک کے لئے عبادت ہے۔ سوئم علماء کی طرف عزت سے دیکھنا عبادت ہے۔ چہارم خانۂ کبعہ کا دیکھنا عبادت ہے۔ پنجم اپنے پیر کو دیکھنا اور ان کی خدمت کرنا عبادت ہے۔
غریب نواز ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ’’معرفتہ المریدین‘‘ میں لکھا دیکھا ہے کہ شیخ عثمان ہارونی قدس سرہ‘ نے فرمایا’’ جو شخص اپنے پیر کی خدمت کما حقہ بجالائے، اللہ تعالیٰ اسے بہشت میں ہزار مرواریدی محل عطا فرمائے گا۔ اور ہزار سال کی عبادت کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا۔‘‘
غریب نوازؒ فرماتے ہیں کہ میں نے’’معرفتہ المریدین‘‘ میں لکھا دیکھا ہے کہ شیخ عثمان ہارونی قدس سرّہ‘ نے فرمایا’’ جو شخص اپنے پیر کی خدمت کما حقہ بجالائے، اللہ تعالیٰ اسے بہشت میں ہزار مرواریدی محل عطا فرمائے گا۔ اور ہزار سال کی عبادت کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا۔‘‘
غریب نوازؒ کا فرمان ہے کہ’’مرید کو لازم ہے کہ جو کچھ پیر کی زبان سے سُنے اس پر بہ کوششِ عمل کرے اور پیر کی خدمت بجالائے، حاضرِ خدمت رہے، اگر متواتر خدمت نہ بجا لا سکے تو کم از کم کوشش ہی کرے۔‘‘
حضرت خواجہ قطب صاحبؒ کا ایک واقعہ حضرت بابا فرید الدّین گنج شکرؒ نے بیان فرمایا ہے کہ قطب صاحبؒ اپنی زبان فیض ترجمان سے فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ وہ نماز نفل میں مشغول تھے۔ انتے میں ان کے پیرو مرشد حضرت خواجہ غریب نوازؒ نے آپ کو آوازدی۔ آپ نے فوراً نماز کی نیّت توڑ کر کہا’’حاضر۔‘‘
ایک زاہد کا انتقال ہوا، کسی نے اس کو خواب میں دیکھا، پوچھا کہ’’ خدا نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟’’ زاہد نے جواب دیا ’’ میں دن رات بیدار رہا کرتا تھا، کسی وقت آرام نہیں لیتا تھا۔ مگر یہ عمل خدا نے پسند نہ فرمایا۔ بلکہ میری بخش کا سبب یہ ہوا کہ میں اپن پیر کی خدمت کیا کرتا تھا۔ اس لئے یہ حکم باری تعالیٰ ہوا ’’ چونکہ تم نے اپنے پیر کی خدمت میں کوتاہی نہیں کی، اس لئے ہم نے بخش دیا۔‘‘
مرید کو چاہئیے اپنا ہاتھ اپنے پیرو مرشد کے ہاتھ میں دے۔ پیر کا ہاتھ خدا تک پہنچنے کا زینہ ووسیلہ ہے۔ جب مرید کو کوئی آفت یا کوئی مصیبت پہنچے یا اس کو کوئی خوف ہو تو اس کو چاہئیے کہ شیخ کی ولایت میں رجوع کرے۔
خدا وند تاعلیٰ اور اپنے پیرو مرشد پرکسی قسم کا کوئی اعتراض نہ کرے اور جو کچھ اس پر قبض وبسط، رنج و راحت، کشائش وبستگی پہنچے اس کی شکایت نہ کرے۔ اس پر راضی رہے اور بخوشی صبر کرے۔ اپنے پیرو مرشد کے قول و فعل اور حال وصفت پر کوئی نکتہ چینی نہ کرے۔ جو کچھ دیکھے دیکھتا رہے، خاموش رہے۔ اپنے پیر کے ظاہر و باطن تصرفات میں ہمہ وقت مشغول رہے۔ بغیر اعتقاد کے مرید پیر سے کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ کل احوال واقوال او کل گفتار و کردار کو نظر ارادت سے دیکھے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ طالبِ صادق نہیں ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں مرید نہیں ہے۔ وہ مرید طریقت نہیں ہے۔ مرید کو چاہئیے کہ ہر فتح و فیض کو جو اپنے پیر سے حاصل کرے اس کو اپنے پیر کی قبولیت کا آثار جانے۔
پیری مریدی ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے جو مرید اپنے پیر سے منحرف ہوا وہ خدا اسے منحرف ہوا۔ اس کا ٹھکانہ کہیں نہیں۔ جو پیراپنی پیری کو اپنا پیشہ اور دُنیاوی مقاص کی کنجی بنائے اور پیری کی آڑ میں دُنیاوی فائدہ حاصل کرلے وہ ہرگز پیر نہیں، بلکہ گمراہ ہونے والا ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ جو پیر خود اپنی آرزو رکھتا ہو وہ بھلا دوسروں کی حاجت براری کیسے کر سکتا ہے؟ جو خود اندھا ہو وہ دوسروں کو راستہ کیسے دکھا سکتا ہے؟ جو خود حرص و ہوا، طمع و لالچ، جاہ پرستی اور خود پرستی میں پھنسا ہو وہ دوسروں کو ان عیوب سے کیسے نجات دلا سکتا ہے؟ جس کا آئینہ دِل خود ہی زنگ آلود ہو وہ دوسروں کے دلوں کو کدورت، بغض و عناد، لالچ و طمع سے کیسے صاف کر سکتا ہے؟
صوفیا کے نزدیک جِس عبادت میں نمائش ہو، حرص و ہوا ہو وہ عبادت نہیں جو عبادت تکلیف و مصیبت دور کرنے کی غرض سے یا عیش و آرام، نیک نامی، راحت و انبساط حاصل کرنے کی نیت سے کی جائے وہ دھوکہ ہے، وہ در اصل بُتِ باطن کی پرستش ہے جس کو حق پرستی نہیں کہا جاسکتا یہ سالکوں اورغارفوں کے نزدیک عین بُت پرستی ہے۔ جو عبادت لالچ و غرض کی وجہ سے کی جائے وہ ریا کاری ہے۔ ایسی عبادت خدا تک نہیں لے جاتی۔
کفر مجازی غریب نوازؒ فرماتے ہیں یہ ہے کہ ’’کثرتِ اعمال اور رسوم عادات سے مخلوق میں شہرت اور تعریف کا خواستگار ہو یعنی مخلوق کو بلا درمیان خدا اپنی حاجات پراری کا ذریعہ جانے اور ان سے فتوحات کی اُمید رکھے۔ چونکہ یہ امر غیر اللہ ہے، اس لئے ایسے خطرات کا دل میں آنا بت ہے۔‘‘
غرض پیر مریدی بڑا مشکل کام ہے۔ یہ رشتہ اعتقاد، ذوق و شوق اور محبّت سے استوار ہوتا ہے۔
آخر یہ کیا بات ہے کہ وہ بٹیا جو اپنے باپ سے لاکھوں روپے کی جائداد بطور ترکہ پاتا ہے، کچھ ہی روز میں اپنے باپ کو بھول بیٹھتا ہے۔ بہت کیا تو اس نے سوئم دسواں، بیسواں، چہلم، چھ ماہی، بری اچھّی طرح کردی، کچھ لوگوں کو کھانا کھِلا دیا تھوڑی بہت مرحوم کے نام پر خیرات کردی اور بس پھر اس کو بھول گیا لیکن ایک مرید اپنے پیر کو ساری عمر نہیں بھولتا۔ پیر کی حیات میں یا اس کےوصال کے بعد مرید برابر اور یکساں طور پر اس کی خدمت میں لگا رہتا ہے۔ اس کا نام روشن کرتا ہے۔ اس کے مشن کی تکمیل اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے اور اسی میں راحت پاتا ہے۔
یہ خط لکھتے لکھتے تھک گیا۔ لیکن بات ایسی تھی کہ دل چاہتا تھا کہ لِکھتا ہی رہوں۔
دو چار روز میں میرا ارادہ چند گھنٹوں کو سرواڑ شریف جانے کا ہو رہا ہے۔
سرواڑ شریف میں حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے فرزند حضرت خواجہ فخر الدینؒ کا مزار شریف ہے۔ بڑی اچھّی جگہ ہے وہاں دل و دماغ کو سکون مِلتا ہے۔
شکیلہ سے بعد دُعا کے کہنا کہ دوا برابر جاری رکھو اور اگر ضرورت سمجھو تو انجکشن لگوا لو۔ انعام حسن اور مہر نور کو بہت بہت پیار۔ ماہ نور اچھّی طرح ہے، روزانہ اسکول جاتی ہے۔
خدا وند تعالیٰ تم کو شاد آباد رکھے۔
دُعا گو
خادِم حسن مُعینی گُدڑی شاہ
Page-96
جھالرہ، اجمیر القدس
۱۷؍ دسمبر۵۲ء
عزیزم سلمہ‘، دُعائے خیر۔
تمہارا خط ملا۔ تم گوالیار ہو آئے۔ میں بھی جے پور ہو آیا۔ یہ تم نے بہت اچھّا کیا کہ حضرت غوث گوالیاریؒ حضرت خواجہ خانونؒ۔ اور حضرت چھنگا شاہؒ کے مزارات پر حاضر ہوئے۔ عطر کی دوکان پر بیٹھنے سے خوشبو آنے لگی ہے۔ اور کوئلہ کی دوکان پر بیٹھنے سے کپڑے کالے ہو جاتے ہیں۔
میں بھی جے پور میں مولانا حضرت ضیاء الدین صاحبؒ کے مزار شریف پر کئی مرتبہ حاضر ہوا۔ بڑا با فیض مزار ہے۔ جے پور جانے سے قبل میں’’ معین الاقطاب‘‘ لکھ کر ختم کر گیا تھا۔ اب جے پور میں رہ کر یہ سوچا ہے کہ ’’معین العارفین‘‘ کا دوسرا ایڈیشن تحقیق و تنقید، تصحیح و ترتیب اور تالیفات و حواشی کے جدید طریقوں سے آراستہ کرکے منظر عالم پر لاؤں۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے حالات میں قریب قریب دوہزار تذکرے اُردو و فارسی میں اب تک لکھے جا چکے ہیں۔ لیکن ان تذکروں میں یہ دیکھ کرحیرت ہوتی ہے کہ واقعات کے چار پانچ سننین سے زائد نہیں ملتے۔ ان تذکروں میں الحاقی الفاظ، غیر واضح بیانات اور متضاد روایات کا ایک کافی ذخیرہ ملتا ہے۔ ایسی حالت میں بلا تحقیق صحیح نتیجہ پر پہنچنا آسان نہیں۔
روحانی تاجدار ہند حضرت خواجہ غریب نوازؒ سرچشمۂ اولیاء عالم دین اور حامل شرع متین ہیں۔ آپ کی ولادت۵۲۰ھ میں ہوئی۔۵۸۷ھ میں اجمیر پہلی بار بفرمان سرور عالم آپ تشریف لائے۔ آپ ہندوستان پانچ مرتبہ تشریف لائے۔ اجمیر کو اپنی سکونت سے رونق بخشی۔ سلطان شمس الدین التمش آپ سے بہت اعتقاد رکھتا تھا۔ آپ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان باطنی کی تعمیل میں شادی کی اور آپ کے بچّے بھی ہوئے۔ ااپ کا وصال ۶؍رجب۶۲۷ھ کو بمقام اجمیر ہوا، اس وقت آپ کی عمر ۹۷ سال کی تھی جس حجرہ میں آپ کا وصال ہوا، اسی میں آپ کو دفن کیا گیا۔
آپ علمائے عصر اور فضلائے روز گار سے بھی تھے۔ آپ کا درویشانہ پیغام آپ کے نام کے ساتھ زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔
’’ثبت است برجریدۂ عالم دوام ما‘‘
آپ کا مسلک و مشرب فرقہ پرسی، تنگ دلی، او تنگ نظری سے پاک ہے۔ اگر ان کو مجاہد اعظم مصلّح اعظم اور مبلّغ اعظم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ ہندوستان میں صفیانہ تہذیب کے بانی اور حامی ہیں ہندوستان اور بیرونی تمدّن کے اختلاط سے ایک ایسی دل کش و دل فریب تہذیب پیدا ہوئی جس کی زمین تو ہندوستان تھی مگر اس کے گُل بوٹے اور آب درنگ خراسانی تھا یہی دِل کش تہذیب ہندوستان کی معیاری تہذیب قرار پائی۔ اس کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ مٹانے سے نہیں مِٹ سکتے۔ اس تہذیب کی خصوصیات قناعت، توکّل امیدو بیم استقامت، محبّت، خلوت، مجاہدہ، شکر، مراقب، خلوص، صدق، خلق، ادب مساوات معرفت، دُعا، محاسبہ، ذکر، فکر، صبر یقین وغیرہ وغیرہ ہیں۔
کیا چیز ایسی ہے کہ جو ہزاروں کیا لاکھوں آدمیوں کو غریب نوازؒ کے دربار میں حاضر ہونے اور جھُکانے پر مجبور کرتی ہے؟ کیا چیز ایسی ہے جو لوگوں کو جوق جوق آئے دِن سردی گرمی، برسات میں غریب نوازؒ کے دربار میں کھینچ کر لاتی ہے؟ عورتیں، مرد جوان اور بوڑھے، امیر و غریب ، تندرست و بیمار اپنی حاجتیں اور مُرادیں اپنی آرزوئیں، اپنی امیّدیں، اپنی تمنّائیں لے کر دربارِ غریب نوازؒ میں حاضر ہوتے ہیں، اور اپنا دامن اُمیّد مقصد کے سدا بہار پھولوں سے پُر کرکے واپس جاتے ہیں۔
تم نے خود دیکھا ہے کہ عرس کے موقعہ پر ہزاروں آدمی دور دراز کا سفر طے کرکے اجمیر حاضر ہوتے ہیں۔ کوئی کھڑا کھڑا آتا ہے، کوئی ریل کا ہینڈل پکڑے ہوئے، کوئی بستر پر بیٹھ کر آتا ہے۔ راستہ کی سب صعوبتیں اور تکالیف ہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں۔ اجمیر حاضر ہو کر ہزاروں روپیہ دربار غریب نواز میں لُٹاتے ہیں۔ اور یہ روپیہ وہ لوگ لٹاتے ہیں جو پیسے کو اپنی جان کی برابر رکھتے ہیں۔ اگر ان کا یک پیسہ کھو جاتا ہے تو افسوس کرتے ہیں اور گھنٹوں تلاش کرتے ہیں۔ بھئی دُنیا دار تو پیسہ کا طلب گار ہے۔ پیسہ اس کا معشوق ہے۔
پھر کیا وجہ ہے کہ یہاں آکردربار غریب نوازؒ میں بے دریغ پیسہ نذرونیاز میں، دیگ پکوانے میں، چادر، پھول اور عطر پیش کرنے میں قوّالوں کو دینے میں حاجت مندوں محتاجوں اور مساکین کی امداد میں خرچ کرنا اپنے لئے باعثِ سعادت اور باعث برکت سمجھتے ہیں۔ کیا اصغر صاحب اس بات سے بے خبر ہیں؟ ان سے پوچھا جائے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ وہ اس کی کیا وجہ سمجھتے ہیں۔ یہ غریب نوازؒ کے تصرّفات نہیں تو اور کیا ہیں۔ غریب نوازؒ کے وصال کو توسات سو برس کا زمانہ گذرگیا، لیکن رجوعِ خلائق زندگی سے زیادہ وصال کے بعد ہے۔
آپ کا مزار پُر انوار مرجع خلائق ہے۔ آپ کا روحانی فیض اب بھی اسی طرح جاری ہے جس طرح آپ کی حااتِ بابرکات میں تھا۔ آپ کی برکات صوری و معنوی ے اب بھی لوگ اسی طرح فیض ہو رہے ہیں جس طرح آپ کی حیات ظاہری میں فیض یاب ہوتے تھے۔
شہنشاہ اکبر پا پیادہ اجمیر آتا ہے اور دربار غریب نوازؒ میں حاضر ہو کر عقیدت کے پھول کرتا ہے، احاطہ درگاہ میں ایک مسجد تعمیر کراتا ہے، جو اکبری مسجد کے نام سے موسوم ہے۔ شہنشاہ جہانگیر حاضر دربار ہو کر دیگیں پیش کرتا ہے۔ شہنشاہ شاہ جہاں دربار غریب نوازؒ میں حاضر ہوتا ہے تو ایک شان دار مسجد سنگِ مرمر کی تعمیر کراتا ہے جو آج تک اس کی یاد کوتازہ کرتی ہے۔ یہ مسجد شاہ جہانی مسجد کہلاتی ہے۔
شاہجہاں کی لڑکی جہاں آرا بیگم حضرت غریب نوازؒ کی بڑی معتقد تھی۔ اس نے غریب نوازؒ کے حالات میں ایک چھوٹی سی کتاب بھی لکھی ہے۔ جس کا نام’’مونس الارواح‘‘ ہے شہزادی جہاں آرا نے اپنی پلکوں سے دربار غریب نوازؒ میں جھاڑو دی ہے۔
تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے درگاہ میں کتنی عمارات تعمیر ہوگئیں۔ کوئی عمارت تعمیر کر رہا ہے، کوئی درگاہ کے نام وقف کر رہا ہے، کوئی آپ کی سوانح حیات مرتّب کررہا ہے کوئی اپنی دوکان، اپنی فیکٹری، اپنی کمپنی کو غریب نوازؒ کے نام سے منسوب کر رہا ہے۔ کوئی آپ کے مناقب لکھ رہا ہے۔ غرص جسے دیکھو غریب نوازؒ سے قریب تر ہونے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، اور ان کی خوشنودی و فیضان کو اپنے دنیاوی اور دینی کاموں کے لئے کافی سمجھتا ہے۔
اصغر صاحب سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہے؟ غریب نوازؒ اس دنیا مںی بحیات ظاہر تشریف فرما تو نہیں ہیں، پھر کیا بات ہے کہ لوگ جوق جوق مزارِ اقدس پر حاضر ہوتے ہیں۔
اصغر صاحب کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ جب انسان مرگیا، خک میں مِل گیا، خاک ہو گیا۔ روح کو موت نہیں جسم فانی ہے۔ روح زندہ رہتی ہے اور زندہ رہنے والی ہے جسم سے علٰیحدہ ہونے کے بعد بھی وہ فنا نہیں ہوتی۔ روح کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے قوائے خاصہ بھی زندہ و باقی رہتے ہیں۔ پس مرنے کے بعد بھی انسان کو روحانی طور پر احسا و ادراک اور روحانی علم وشعور باقی رہتا ہے۔
اس میں شک و شبہ نہیں کہ جسم کے عدم سے روحانی ادراک و شعور کا عدم ہرگز واقع نہیں ہوتا۔ ایں سے طرح طرح کے غیر معمولی امور سرزد ہوتے ہیں۔ روح کی طاقت وقوّت کچھ عجیب طاقت و قوّت ہو جاتی ہے۔ ارواح مقدّسہ ملاء اعلیٰ میں جا کر ملکوتی صفات سے متّصف ہو جاتی ہے اور ملکوتی آثار ان میں پائے جانے لگتے ہیں۔ ان کے علم ادراک و شعور وسیر و تصرف کیلئے عالم میں کوئی حجاب مانع و باقی نہیں رہتا۔ وہ اعلیٰ علیّن میں رہتی ہیں۔ قبر سے ان کا پورا تعلّق رہتا ہے، جہاں کی چاہتی ہیں سیر کتی ہیں۔ مختلف جگہ، مختلف احوال میں پائی جاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ارواح سیارہ و درّا کہ و متصرفہ ہیں، اصحاب مشاہدہ نفوس قدسیہ اولیا وانبیاء سے عجیب عجیب قم کے تصرفات برکات کا برابر تجربہ و مشاہدہ کرتے آئے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ’’روح علاقات جسمانیہ سے مجرد ہونے پر اپنے مزاج اصلی کی طرف راجع ہو کر ملائکہ سے ملحق ہوتی ہے اور صفاتِ ملکوتیہ سے متصف ہو جاتی ہے اور ان کے کاموں میں شریک ہوتی ہے، اور اکثر ایسی روحیں اعلاء کلمۃ اللہ و نصر حزب اللہ میں مصروف پائی جائی ہیں۔‘‘
ظاہری موت کے بعد ایک حیات ہے جو دنیا کی حیات سے اونچی ہے۔ مرنے کے بعد بھی مرنے والے سے ہمارا تعلّق منقطع نہیں ہوتا۔ اس سے ہم امداد حاصل کر سکتے ہیں وہ اب بھی ہمارا وسیلہ ہے۔
اب یہ توتم کو معلوم ہی ہوگیا کہ روح کو ادراک شعور علم، سیر وتصرّف حاصل ہے اب اس سے استمداد کے اہم مسائل کو سمجھنا تمہارے لئے کچھ دشوار نہ ہوگا۔ انبیاء اور اولیاء حیاتِ ظاہری میں خالق اور مخلوق کے درمیان ایک وسیلہ ہوتے ہیں۔ وہ مظہر عون الٰہی ہوتے ہیں، ظاہری زندگی میں مخلوق ان کے فیض صحبت و برکات سے، ان کے وجود وہمّت و تصرّف سے، ان کے توسّل و تشفع سے اپنے دینی ودنیاوی مقاصد میں کام یاب ہوتی ہے۔
جس طرح انبیاء واولیاء حیاتِ ظاہری میں مظہرعون الٰہی ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس ظاہری زندگی کے بعد عالم برزخ و روحانیات میں وہ مظہر عون الٰہی ہوتے ہیں جس طرح حیاتِ ظاہری میں تھے اور مخلوق ان کے روحانی فیوض وبرکات، توسل شفع سے فیضیاب ہوتی رہتی ہے۔ ان سے مخلوق کی حاجت اور حل مشکلات برات ہوتی رہتی ہیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم حیات النبی ہیں۔ اولیاء اللہ کی حالتِ حیات وحالتِ موت دونوں برابر ہوتی ہیں۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ : ’’ جس سے اسمتداد اس کی زندگی میں ہوسکتا ہے، اس سے اس کے مرنے کے بعد بھی استمداد درست ہوگا۔‘‘
استمداد طالبان حق کا اور ہے اور عام لوگوں کا اور ہے وعام لوگوں کا استمداد و استغاشہ دنیاوی مشکلات کے حل کے لئے ہوا ہے۔ لیکن سالکانِ طریقت وطالبانِ حق اپنے پیروں اور بزرگوں کی حیات ظاہری میں نہ ان کے وصال کے بعد اپنی دنیوی ضروریات وحاجات ان کے پاس لے جاتے ہیں اور نہ ان سے دُنیاوی مُرادیں مانگتے ہیں۔
وہ ان کی حیات ظاہری میں اور ان کے وصال کے بعد اپنے سیر وسلوک میں ان کو مُمدِّ کار سمجھتے ہیں۔ اور ان سے روحانی استفادہ، استغاثہ واستعانت حاصل کرتے ہیں۔ کشود کار و فتح باب ووصول الی اللہ کے لئے اپنی روح ان کی روح کی طرف متوجہ کرکے فیص و مدد وامداد حاصل کرتے ہیں، اور اس طرح ذریعہ اور وسیلہ سے منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں۔
محدثین کی ایک بڑی تعداد توسل واستمداد کی قائل وفاعل تھی۔ وہ مزارات انبیاو اولیاء کو محلِ اجابتِ دعا بتلاتے ہیں اور صالحین کی قبور کی زیارت کو باعثِ حصول فیض و برکات وموجب قضائے حاجات سمجھتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ سرور عالمؐ نے ارشاد فرمایا۔’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے فرمایا: ’’ اے آدمؑ جب کوئی حاجت پیش آیا کرے تو پنجتن پاک کے واسطہ سے میری بارگاہ میں وسیلہ اختیار کیا کرو۔‘‘ سرورِ عالمؐ فرماتے ہیں: ہم (پنجتن) نجات کی کشتی ہیں جس نے اس کشتی کے ساتھ تعلق رکھا وہ مخلصی پاگیا۔ اور جس نے اس کشتی سے مونہہ پھیرا ہلاک ہوگیا۔ پس جس کو بارگاہِ الٰہی سے اپنی حاجت براری مطلوب ہو اس کو لازم ہے کہ ہم (پنجتن) کو درگاہ ایذدی میں وسیلہ بنائے۔‘‘
امام شمس الدّین جزریؒ فرماتے ہیں کہ : ’’انگیاء علیہم السلام کی قبروں پر دُعا قبول موتی ہے۔ اور صالحین کی قبروں کے نزدیک دُعا کا جو بشرائط معروضہ ہو مقبول ہونا مجربات سے ہے۔
حافظ علامہ ابن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں ایک دفعہ سخت قحط پڑا۔ ایک شخص نے روضۂ اقدس پر حاضر ہو کر فریاد کی کہ یا رسول اللہ امّت کے خبر لیجئے۔ اس شخص کو حضور پُر نور نے خواب میں دفع قحط کی بشارت دی۔
حضرت امام شافعیؒ سے مروی ہے کہ ’’سیّدنا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قبر شریف اجابت دُعا کے لئے تریاق مجرب ہے۔’’ امام شافعیؒ توسّل و تشفع من اہل القبور کے قابل تھے اور بزرگان وصالحین کے مزارات سے وہ خود استفاضہ فرمایا کرتے تھے۔ امام شافعی کاؒ امام ابوحنیفہؒ کے مزار پُر انوار سے تبرک و توسّل کرنا ثابت ہے۔
علی بن میمون کہتے ہیں کہ انہوں نے امام شافعیؒ کی زبان فیض ترجمان سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ ’’ میں ابو حنیفہؒ کی قبر سے برکت حاصل کرتا ہوں اور برابر ان کی زیارت کو جاتا ہوں، اور جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز ادا کرتا ہوں۔ پھر ان کی قبر پر اور وہاں خدا سے (تبوسّل ابو حنیفہؒ) دُعا کرتا ہوں، فی الفور میری وہ حاجت پوری ہو جاتی ہے۔‘‘
علامہ ان حجر سے یہ معلوم ہوا ہے کہ امام شافعیؒ کی طرح دیگر علماء کا بھی قدیماً و حدیتاً امام ابو حنیفہؒ کے مزار شریف کی زیارت پر بہ نیّت تبرّک و توسّل و انتفاع واستثفاع جانا معمول رہا ہے۔
مشہور محدث ابو حاتم ابن خبان فرماتے ہیں کہ ’’ ہم پر جب کوئی مصبت ناز ہوتی تو ہم حضرت سیدنا امام رضا سلام اللہ تعالیٰ علیہ کے مشہور مشہد مقدّس حاضر ہوئے اور امام کے رضۂ مقدّسہ پر تبوّسل امام دُعا کی اور فیض و برکت رضویہ سے میری بلائیں ٹل گئیں۔
اور میری دُعا قبول ہوئی اور ایسا متعدّد بار میں نے تجربہ کیا ہے۔‘‘
اسی طرح سے بہت سے واقعات ہیں جن کو وضاحت سے بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں۔ قرون ثلٰثہ میں توسّل و استمداد کا بکثرت ثبوت مِلتا ہے۔ یہ نہ صرف سرورِ عالم کی ذاتِ پاک تک محدود و مخصوص تھا بلکہ صحابہ اہلِ بیت و صالحین کی قبور سے بھی قرونِ سابقہ میں توسل واستفاضہ واستغاثہ معمول تھا۔
اگلے محدثین اہل قبور سے توسل واستمداد کے برابر قائل و فاعل تھے اور اس کو شرعاً جائز و مندوب سمجھتے تھے اور صاف و صریح الفاظ میں کہتے تھے۔
متقدمین کی جماعت میں سے وہ محدثین بھی جن کا صوفیہ کرام سے اختلاف و تعصب اور تشدّد و تقشف مشہور ہے۔ اس مسئلہ میں مشائخ دین کے ہم مسلک وہم مشرب تھے۔ علامہ ابن جوزی جو ایک مشہور محدّث گذرے ہیں، اپنی کتاب ’’احید الخاطر‘‘ میں لکھتے ہیں’’ مدایۃ الام میں کثرتِ زہد نے میرے قلب میں ایک خاص لذّت و حلاوت پیدا کردی تھی پھر وہ حالت بعض وجوہ سے متغیر ہوگئی۔ جب میں اس کی اصلاح سے عاجز آگیا اور پریشانی بڑھنے لگی تو میں نے قبور صالحین کی طرف توجّہ کی اور ان سے توسل کیا اور بحمد اللہ پھر وہ پہلی بات جو گم ہوگئی تھی، اہلِ قبول کی برکت سے مجھے حاصلِ ہوگئی ۔‘‘
اس سے بِلا شک و شبہ صاف ظاہر ہے کہ وہ قبور اولیاء وصالحین سے توسل واستفاضہ و تبرک واستمداد کے پوری طرح قائل تھے۔
قبر کے بوسہ دینے کو کفر قرار دینا غلط ہے۔ تعصب اور نفسانیت انسان کو حق شناسی سے دُور رکھتی ہے۔ ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ صحابہ کرام حضرتِ سرور عالم کی ہر چیز کو تبرک سمجھتے تھے اور اس سے برکت حاصل کرتے تھے۔ آپ کا لعابِ دہن و غسالہ وپسینہ غرض سب کو صحابہ پاک و تبرک حاصل تھے۔
آں حضرت کی حیات ظاہری کے بعد آپ کی زرہ، عصا، تلوار، پیالہ اور مہر، ااپ کا لبادہ، آپ کے موئے مبارک، آپ کے کپڑے کو صحابہ و عاشقانِ رسولؐ نہایت حفاظت و احترام سے اپنے پاس رکھتے تھے۔ لوگوں کو ان کی زیارت کراتے تھے۔ موئے مبارک اور کپڑوں کو پانی میں ڈال کر اس کا غسالہ لوگوں کو پلاتے اور لوگ اس ذریعہ سے صحتیاب ہوتے۔
حضرت عائشہؓ کے پاس سرور عالمؐ کا لبادہ تھا۔ وہ اس کی لوگوں کو زیارت کراتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ حضور کے انتقال کے وقت یہی زیبِ تن تھا۔ حضرت اُنسؓ کے پاس نعلین شریف تھیں۔ حضرت عبداللہ بن سلام کے پاس سرورِ عالمؐ کا ایک پیالہ تھا۔ اس میں وہ لوگوں کو برکت کے لئے پانی پلاتے تھے۔ پھر اس پیالہ کو عمر بن عبدالعزیز نے تبرک و برکت کے لئے رکھ لیا۔ حضرت ام سلمہؓ کے پاس آں حضرتؐ کے موئے مبارک تھے۔ جب کوئی بیمار ہوتا وہ اسے پانی میں ڈال کر اس کا غسالہ بیمار کو پلاتیں اور وہ شفا پاتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آں حضرت کی سب چیزیں متّبرک ہیں اور آں حضرت کیا حیات ظاہر کے بعد ان سب چیزوں کو لوگ بطور تبرک اپنے پاس رکھتے اور ان کی برکت سے فیضیاب ہوتے تو کیا آں حضرت کی قبرِ مبارک متبرک نہیں ہے، کیا اس سے لوگ فیضیاب نہیں ہوسکتے؟ جبکہ آئمہ کے مزارات سے جیا کہ اوپر لکھ چکا ہوں لوگ فیضیاب ہوئے۔
بس آں حضرت کی قبرِ مبارک ضرور بدرجہ اتم فیض و برکت کا سرچشمہ ہے۔ اسی وجہ سے حضرت ابو ایوب نے اپنا سر رکھا اور مردان سے کہا کہ میں پتھر کے پاس تھوڑا ہی گیا ہوں۔
اس سے یہ مطلب ہوا کہ آں حضرتؑ کی قبر مبارک کا قرب در حقیقت خود قرب آں حضرت تھا، اور حضرت ابو ایوں سرور عالم کے قدموں کی جانب اپنا مونہہ رکھے ہوئے تھے۔
سرور عالم خود شہدائے احد کی قبر پر تشریف لے گئے ہیں۔ مسلمانوں کے عالم قبرستان یعنی جنت البقیع میں بھی تشریف فرما ہوئے ہیں۔ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے ہیں نیز ارشاد فرمایاہے کہ:
’’زیارت کیا کرو قبروں کی کہ اس سے موت یاد آتی ہے۔‘‘
غرض مزارات پر جانا نہ صرف سنت رسولؐ ہے بلکہ حکم رسولؐ کی تعمیل بھی ہے۔ ان سے فیوض و برکار واستمداد حاصل نہ کرنا نہ سنت صحابہؓ ہے نہ مشرب شافعیؒ ہے اور نہ مسلک آئمہ ہے۔ اس فعل کو مذموم اور خلافِ شرع قرار دینا حقائع سے دُور رہنا ہے۔
مورج تو روز نکلتا ہے، کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اس کی روشنی تو ضرور پھیلتی ہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔ چمگادڑ اگر یہ کہے کہ اس کو سورج کی روشنی دکھائی نہیں دیتی تو اس میں سورج کا کیا قصور۔
اگر کوئی اولیاء اللہ کے تصرفاتِ باطنی وروحانی فیوض و برکات کو نہ دیکھے، اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے تو اس میں کس کا قصور ہے۔ ان کے فیوض تو حیاتِ ظاہری کے بعد بھی اسی طرح جاری ہیں جیسے کہ ان کی زندگی میں تھے۔ اب یہ اپنی اپنی قسمت ہے کہ اس بات کو سمجھ لے اور اس سے فائدہ اٹھالے۔ اولیاء اللہ کے مزارات پر دُعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
اعراس پر جو مسلمانوں کا پیسہ خرچ ہوتا ہے اس کو صرف بے جا بتانا بے جا ہے۔ اگر کل وہ حج کو صرفِ بے جا کہنے لگیں تو کسی کے پاس کیا علاج، اور پھر وہ زکوٰۃ کو صرف بے جا کہیں تو ان کو کون روک سکتا ہے۔
عرس بزرگانِ دین کی یاد کو تازہ و زندہ و زندہ رکھنا ہے۔ اپنے اپنے بزرگوں اور اکابرین کی یاد کو قائم رکھنا زندہ قوموں کا شعار ہے۔ عیسائی بڑے تزک واحتشام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو مناتے ہیں۔ ہندو دسہرہ کے نام سے رام چندرجی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔ مغرب میں ادیبوں، شاعروں، سائنس دانوں، مشائخین واکابرین کی سالانہ برسیاں منائی جاتی ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، ریڈیو پر ایک خاص پروگرام نشر کیا جاتا ہے۔ اخبار اور رسالوں کے خاص نمبر نکالے جاتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے ان کی یادان کا نام اور ان کے کام کو زندہ وباقی رکھنا مقصود ہوتا ہے۔
دنیا کی کوئی قوم اپنے اکابرین و مشائخین سے الہام حاصل کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ ان کے کارنامے کو عوام الناس کے سامنے لانے سے پبلک کو ان کی پیروی اور ان کے بتائے ہوئے راستہ پر گامزن ہونے کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے۔ یہ پبلسٹی کارآمد ہوتی ہے، او روپیہ اس پر خرچ ہوتا ہے وہ عین ضروری کاموں پر خرچ ہوتا ہے۔
عرس کیا ہے؟ اپنے بزرگانِ عظام کی سالانہ برسی منانے کا نام عرس ہے۔ فقیر کی موت فقیر کے واسطے باعثِ مسرّت ہے۔ موت کے ذریعہ فقیر اپنے دوست سے ملتا ہے۔ فقیر کا دوست خدا ہے۔ دوست سے ملنے کے بعد فقیر کی روحانی طاقت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جس دِن وہ دوست سے ملتا ہے اس دن فیوض و برکات کی عام بارش ہوتی ہے۔ عرس ان ظاہری وباطنی فیوض و برکات سے لگووں کو فائدہ اٹھانے کا ایک موقعہ بہم پہنچاتا ہے۔ اگر عرس نہ کئے جائیں تو عوام الناس اپنے بزرگان دین کی نام اور پیغام کو فراموش کر بیٹھیں گے۔
عرس کی ذریعہ ان کے کام اور پیغام کی تبلیغ ہوتی ہے۔ لوگوں کو ان کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کا شوق ہوتا ہے اور اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کے سدھارنے کا جذبہ پیدا ہوتی ہے۔ اعلیٰ معیارِ زندگی تک پہنچنے کی رغبت ہوتی ہے۔ اعلیٰ معیار زندگی تک پہنچنے کی کوشش کرنا تعمیری کام ہے۔ کسی تعمیری کام پر روپیہ خرچ کرنا صرف بے جا ہرگز نہیں ہوسکتا۔
اسلاف کرام کی مبارک سیر، بزرگانِ دین کے مقدس کارنامے، صلحائے ملک کے پاک حالات قومی جماعت کی ترقی و عروج کے لئے از بس ضروری ہیں۔ مجودہ اور آئندہ نسلوں کا فرض ہے کہ ان کا نام اور ان کا کام اور ان کی یاد کو زندہ قائم اور باقی رکھیں اور ان کی راہ پر گامزن ہو کر فلاح و بہبود حاصل کریں۔
آج کل کے انگریزی داں نوجوان سینٹ پال، جان، مارٹن، لوتھرشیکسپیر اور ملٹن کے متعلق تو بہت کچھ جانتے ہیں لیکن اپنےاکابرین کے متعلق ان کو کچھ نہیں معلوم۔ یہ ہماری پستی کا نتیجہ ہے۔
اس سے کون انکار کرتا ہے کہ مساجد کی تنظیم ضروری نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اصغر صاحب مساجد اور درگاہوں کو ایک دوسرے کا رقیب سمجھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مسجد اپنی جگہ ہے اور درگاہ اپنی جگہ۔ مساجد کی تنطیم اگر ہو جائے تو کیا کہنا۔ در حقیقت مساجد کی تنطیم خود مسلمانوں کی تنظیم ہے۔
اصغر صاحب منکرِ سماع معلوم ہوتے ہیں۔ ایسا شخص یا تو سنن و آثار سے ناواقف ہے یا اس کی طبیعت منقبض اور بستہ ہے۔ قرآن شریف میں ہے‘‘ ہم نے تمہیں بجنی مٹی سے بنایا ہے۔‘‘ حضرت داؤد علیہ السّلام کو لحنِ داؤدی کا معجزہ دیا گیا تھا۔ سرورِ عالم نے نہ صرف سماع سُنا ہے بلکہ فرمایا بھی ہے۔ جب آں حضرت ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو لڑکیوں سے سماع سُنا ہے۔ مسجد قبا کی تعمیر کے موقعہ پر خوش الحانی کے ساتھ صحابہ کی آواز سے آواز ملائی ہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے موقعہ پر پورا اشعر خوش الحانی کے ساتھ پڑھا ہے۔
حضرت امام غزالیؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو راگ سے حرکت نہ ہو وہ ناقص اور اعتدال سے ہٹا ہوا ہے اور روحانیات سے دُور اور بہائم سے طبیعت میں کثیف تر ہے، اس لئے کہ موزوں مضمون سے سب کو اثر ہوتا ہے۔
حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارون قدس سرہ‘ کافرمان ہے کہ’’ سماع اللہ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے۔ دورانِ سماع میں خدائے عزو جل اور بندے کے درمیان کوئی چیز حاصل و مانع نہیں ہوتی۔ کس کی طاقت ہے کہ ہمیں سماع سے منع کرے۔ اس کو کوئی موقوف نہیں کر سکتا۔ میں اللہ پاک سے دُعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ہمارے مرید اور ہماری اولاد قیامت تک سماع سفنے اور اہلِ سماع پر کوئی شخص فتح نہ پائے۔ ہمارے اکثر پیروں نے سماع سماعت فرمایا ہے۔ پس اگر میں سماع سے توبہ کروں تو خطاوار و گنہگار ہوں۔‘‘
شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں؎
’’اشتر بشعیر عرب درحالت است از طرب
گر ذوق نیست ترا بتّر از طبع جانورے
اس میں کوئی شک نہیں کہ شرائط آداب و حالات و مقام کا اثر حلت و حرم اور حُسن و قبیح پر پڑتا ہے۔ ایک چیز خاص صورت وحالت میں ضروری اور فرض ہے۔ دوسری حالت میں مضر اور منع ہے۔ یہی حال سماع کا ہے کہ اہل کے لئے بہ پابندی آداب و شرائط جائز و مستحب ہے۔ نیز باعثِ برکات و حسنات ہے، لیکن نا اہل کے لئے نا جائز و مضرو حرام ہے۔
حضرت سُلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ سماع کے چار اقسام ہیں۔ حلال و حرام، مباح و مکروہ۔
سامع کو حق کی طرف زیادہ میل ہے تو اس کے حق میں مباح ہے۔ اگر میلان مجاز کی طرف زیادہ ہے تو مکروہ ہے۔ جس کا میلان کلیتہً حق کی طرف ہو اس کو حلال ہے۔ جس کا رجحان بالکل مجاز کی طرف ہو اس کو حرام ہے۔
پس معلوم ہوا کہ سماع کا مفید اورغیرمفید، جائز اور نا جائز ہونا خارجی اثرات اور حالات پر منحصر ہے۔
عباداتِ شریعت کا مدارا احکام شرع پر اور عباداتِ طریقت کا احکام طریقت پر ہے عبادت شریعت کے لئے طہارتِ جسم اور پارچہ و توجہہ سمت قبلہ ضروری ہے۔ عبادت طریقت کے لئے طہارت قلب اور حضوری لازمی ہے۔ شریعت کا مدار ظاہری احکام پر اور طریقت کا باطنی پر ہے۔
شرائط سماع کا تعلق عبادات باطنی پر ہے۔
شرائط سماع کا تعلق عبادات باطنی (روحی) سے ہے۔ سماع کا مبدا اور ماخذ در اصل صدائے دکن ہے۔ اس صدائے کُن کے نغمۂ روح نواز کی مستی نے ارواح کو سرشاریٔ وجود عطا فرمایا ہے ان سے جو اب بلیٰ کہلوایا۔
سماع اس نغمۂ اولین کی یاد اور اس معاہدۂ ازل کی تجدید ہے۔ نغموں کی آواز سالک کو روحانیت کی طرف اور پھر روحانیت سے تنزیہ کی طرف لے جاتی ہے۔ سماع کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سماع میں تین باتوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔
(1) زمان۔ سامع کو اطمینان کلی ہونا چاہئیے۔ تمام افکار و علائقِ دنیوی سے یکسو ہو کر خیالات کو ایک مرکز پر جمع کرکے ضروریات اور حوائج سے فارخ ہو کر ہمہ تن ذوق و شوق بن کر سماع میں شریک ہونا چاہئیے۔
(2) مکان۔ گذرگاہ عام نہ ہو۔
(3) اخوان۔ منکرین سماع اور زاہدانِ خشک و متکبر اور بے ادب لوگ محفل سماع میں نہ ہوں۔ چونکہ بُرے خیالات کا انعکاس دوسروں پر پڑے گا۔
ان کے علاوہ اور چند باتیں بھی ضروری ہیں۔ مثلاً
(فالف) با وضو اور خوشبو لگا کر محفل سماع میں بیٹھنا چاہئیے
(اب) سماع کی ابتداء اور ختم آیاتِ قرآنی اور درود شریف سے کرنا چاہیئے۔ حضرت ممشاد علودنیویؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا غرض کیا: ’’ یا رسول اللہ آپ سماع کو بُرا جانتے ہیں؟ ’’ حضور نے فرمایا کہ’’ میں اس کی کسی چیز کو بُرا نہیں جانتا۔ مگر ان سے (اہل سماع) سے کہہ دو کہ سماع کا آغاز اور اختتام قرآن کے ساتھ کیا کریں۔‘‘
(ج) محفل سماع میں مودب بیٹھنا چاہئیے۔ بالکل ساکت وصامت دوزانو بیٹھنا چاہئیے۔ کوئی ایسی حرکت نہ کرنا چاہیئے جس سے اہلِ محفل کو تکلیف پہنچے یا ان کی یکسوئی میں فرک آئے۔
(د) برزخ مرشد پیش نظر رکھنا چاہئیے تاکہ لغزش سے محفوظ رہے۔
(س) جہاں تک ممکن ہو طبیعت کو ساکن اور مطمئن رکھنا چاہئیے۔ جذبات کو مضطرب اور مشتعل نہ ہونے دینا چاہئیے۔ قلب کو اپنے اختیار اور قابو سے باہر نہ ہونے دینا چاہئیے۔
(ش) کھڑے ہونے میں اہل مجلس کو اتباع کرنا ضروری ہے۔
(ص) الفاظ اور نغمہ کو حقیقت سمجھ کر محبوبِ حقیقی پر منطبق کرنا چاہئیے۔
اچھا اب یہ خط خم کرتا ہوں۔ کیا تمہارا یہاں عنقریب آنے کا ارادہ ہے؟ اگر ممکن ہو تو ہر جمعرات کو ورنہ جب بھی تمہیں فرصت ہو اور موقع ملے تو سرفردار صاحبؒ کے مزار پر ہو آیا کرو دھولپور میں سرفردار صاحبؒ کا مزار باعث خیر و برکت ہے۔ انعام حسن کیسا ہے؟ منی تو اب پابندی سے اسکول جاتی ہے۔ شکیلہ کے لئے خمیرہ آبریشم حکیم ارشد والا عنقریب کسی آتے جاتے کے ہاتھ بھیج دوں گا۔ مہر نوراب خوب تماشے کرتی ہوگی۔
خدا وند تعالیٰ تم کو شاد و آباد رکھے۔
دُعا گو
محمّد خادم حسن
زبیری عمثانی معینی گُدڑی شاہی
Page-115
تیرھویں خط کا جواب
اجمیر شریف
۱۸ جنوری۵۳ء
عزیزم سلمہ الرحمٰن۔ دُعائے خیر
تمہارا خط ملا، میں تو آج کل لکھنے پڑھنے میں اتنا منہمک ہوں کہ خطوط کے جواب دینے کا ہوش نہیں شام کو ٹہلنے چلا جاتا ہوں۔
آج تمہارا خط پھر بغور پڑھا۔ لطیف صاحب اگر اپنے پیر سے منحرف ہو گئے ہیں تو اس میں ان کے پیر کا یا کسی کا کیا قصور، انسان کو بصیرت جب تک خدا ہی نہ چاہے حاصل نہیں ہوتی جس کو خدا وند تعالیٰ ہدایت سے محروم رکھنا چاہتا ہے، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر اس کے دل و دماغ پرمہر لگا دیتا ہے۔ نہ وہ سُن سکتا ہے، نہ وہ دیکھ سکتا ہے نہ وہ سوچ سکتا ہے۔ وہ تاریکی میں رہتا ہے اور اسی حالت میں مرتا ہے۔
پیری مریدید جائنٹ اسٹاک ٹریڈنگ کمپنی تو نہیں ہے۔ نہ پیری مریدی دنیاوی فائدہ حاصل کرنے اور دنیاوی فائدے پہنچانے کا کوئی ذریعہ ہے۔ اس کو اس قسم کا ذریعہ سمجھنا ابتدائی غلطی کرنا ہے۔
پیری مریدی نہ کوئی قانونی معائدہ ہے کہ معاہدہ نامہ کی کسی شرط کی خلاف ورزی ہونے سے معاہدہ ٹوٹ جائے یا فریقین کو اس معاہدہ نامہ پر کار بند رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہو جائے۔ پیری مریدی دنیاوی کشودکار کی نہ ٹھیکے داری ہے نہ پیری مریدی دولت و عزّت طلبی کی کوئی جنگ ہے، نہ پیری مریدی کوئی سیاسی دستور العمل ہے کہ جس میں شہریوں کے حقوق کی دفعات ہوں اور جس میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا پورا پورا وعدہ کیا گیا ہو۔
پیری مریدی تو ایک محبت کا رشتہ ہے، یہ ایک روحانی تعلّق ہے۔ اس رشتہ محبّت میں نسلی امتیازات، ذات پات، ذاتی وقار، خاندانی شرافت، چھوڑ بڑا، مرد عورت،کالا گورا دھن دولت وغیرہ وغیرہ کو کوئی دخل نہیں۔ یہ رشتہ تمام دنیاوی رشتوں سے بالا تر ہے۔ اس رشتہ کی ابتداء، انتہا اور بقا محبّت سے ہے۔
اگر لطیف صاحب اپنے پیر کے ذریعے دنیاوی کام بآسانی نِکالنا چاہتے ہیں تو وہ پھر کسی وزیر کو پیر کیوں نہیں بنالیتے۔ کیا ایسا شخص صحیح معنوں میں پیر کہا جا سکتا ہے؟
پیری مریدی کے رشتہ کی بنیاد عشق و محبت پر ہے۔ ہر ایک رنگین کپڑے پہننے والے کو پیر نہیں کہا جا سکتا۔ حقیقی معنوں میں پیر وہ ہے کہ جو اپنے پیر سے اجازت و خلافت یافتہ ہو، مسلک صحیح رکھتا ہو۔
طریقت میں پیر کے واسطے بہت سے شرائط ہیں جن کی پابندی اس پر لازم ہے۔ پیر کے لئے اکل حلالی، صدق مقالی ضروری ہے۔ دنیا کی محبت اور دنیا کی حرص اور لذات و شہوات کو تکر کرنا پیر کی لئے از بس ضروری ہے۔ اس کو رجوع و قبول خلق پر مطلق التفات و فخرنہ کرنا چاہئیے۔ فتوحات کو خرچ کر دے، مال کو جمع کرنا پیر کے شایانِ شان نہیں خلق کی ایذارسانی سے، ترش روئی سے اور مردم آزاری سے پرہیز کرے، حُسنِ خلق اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائے اپنے کو عزت سے ہرگز نہ دیکھے مخلوق سے بے پرواہ رہے، خالق سے دل لگائے رہے۔ خلق کی جفا پر اور مخلوق کی ایذا رسانی پر صبر کرے، صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے ذنوب و معاصی کو ترک کرے، کشف و کرامات کا طالب نہ ہو، کرامت سے بہت استقامت ہے، مرید پر پیر کی اطاعت لازم ہے۔ پیر پرست خدا پرست باشد۔
جب صحابہ کرامؓ نے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیر درخت بعیت کی تو خدا وند تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ اے محمدؐ! جو انہوں نے تجھ سے بیعت کی ہے وہ مجھ سے بیعت کی ہے۔‘‘ حضرت عثمانؐ اس وقت حاضر نہ تھے۔ پس اگر طالب صادق اس وقت حاضر نہ ہو تو اس کو غائبانہ مرید کرنا جائز ہے۔ آں حضرت نے عورتوں سے بیعت لی ہے۔ پس عورتوں کا مرید کرنا بھی جائز ہے۔
مرید کو پیر شجرہ عطا کرتا ہے۔ بعض خاندانِ طریقت میں پیر مرید کو کلاہ دیتا ہے، اور سر پر مقراض چلاتا ہے۔ مقراض خدا وند تعالیو کا ایک بھید ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مقراض بندہ و مولیٰ کے درمیان قطع علائق ہے۔ پیر مرید کو خرقہ بھی دیتا ہے۔ خرقہ دنیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی سنّت ہے۔ کلاہ کے یہ معنی ہیں کہ کلاہ پانے والے کو دو عالم کے شر سے پناہ ملی۔ تاجِ فقر و شوکتِ شاہی حاصل ہوئی؎
سر برہنہ نیستم دارم کلاہ چار ترک
ترکِ دُنیا ترکِ عقبیٰ، ترکِ مولا ترکِ ترک
پیر کو چاہئیے کہ صرف طالبان صادق کو خالصاً مخلصاً خرقہ پہنائے خرقہ رونق مشیخت ناموری، شہرت کا ذریعہ نہیں ہے نہ اس کو ذاتی وجاہت کا اشتہار بنانا چاہئیے۔ جب خرقہ پہنے تو اس کو دولتِ دارین وسعادت کونین سمجھے۔ وسوسے اور فضول فکر کو ترک کرے۔ خرقہ کی شرائط سے رو گردانی نہ کرے۔
طالب صادق کے لئے ذکر و فکر و مراقبہ بھی ضروری ہے۔ مراقبہ خدا وند تعالیٰ کو حاضر وناظر جاننا ہے۔ ذکر نفی و اثبات میں خلوص کے ساتھ مشغول رہے اور کبھی ذکرِ ذات میں مشغول ہو۔ اربعین میں آٹھ شرائط ہیں۔
خلوتِ خانہ میں تنہا رہے، خلوتِ خانہ تاریک ہو، آواز وہاں نہ آسکے، مونہہ قبلہ کی طرف ہو، مربع بیٹھے، ہاتھوں کو زانو پر رکھے، نیّت غسل مردہ کی کرے۔ خلوتِ خانہ کو اپنی لحد تصوّر کرے، ہمیشہ وضو سے رہے، ذکر ہر وقت کرے، خواطر کی نفی و مدافعت کرے، روزہ رکھے۔ روزہ تعلقاتِ بشری وہاوئے نفس کے قطع کرنے کے لئے بہت موثر ہے۔ سکوت اختیار کرے کِسی سے بات چیت نہ کر۔ التبہ بقدر ضرورت بات چیت کرے۔ اپنے دل کو اپنے شیخ کے دِل سے پیوستہ کرے تاکہ شیخ کے دل سے مرید کے دل کو توجہ پہنچے۔
جب مرید کو کوئی آفت یا کوئی خوف پیش آئے تو اس کو چاہئیے کہ اپنے حال کو شیخ کی ولایت سے رجوع کرے۔ جو کچھ اس پر قبض وبسط، رنج وراحت، صحت و شقم و کشاکش وبستگی پہنچے، چاہئیے کہ اس پر راضی رہے۔ اپنے پیر کے قول وفعل وحال وصفت پر جو کچھ دیکھے اس پراعتراض نہ کرے۔ اپنے شیخ کے ظاہر و باطن تصرفات میں مشغول رہے۔ کل احوال واقوال کو نظرِ ارادت سے دیکھے ورنہ مرید طریقت نہیں ہے۔
فقر و فاتہ کی شدت سے سالک کو چاہئیے کہ تنگ نہ ہو ملول نہ ہو اور زبان پر حرفِ شکایت نہ لائے۔ کیوں کہ فقر وفاقہ، ترقی درجات سعادتِ و قربِ قاضی الحاجات کا ذریعہ ہے۔ فقر و فاقہ خدا وند تعالیٰ کا عطیہ ہیں جو ہر ایک کا نہیں دئے جاتے۔
عزّت قناعت میں ہے اور ذلت طمع میں۔ سالک کو چاہئیے کہ طمع دسوال کے دروازہ کو استغنا کے قبل سے اپنے حق میں مسدود کرے۔
ایک درویش تھے، ان کو شیطان ہر روز وسوسہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا اوران سے کہتا کہ’’ آج کیا کھاؤ گے؟ وہ درویش جواب دیتے ’’ موت‘‘ اور جب شیطان پوچھتا’’ کیا پہنو گے؟‘‘ تو وہ درویش جواب دیتے’’ کفن‘‘ اور جب شیطان پوچھتا’’ کہاں رہو گے؟ کہاں جاوگے؟‘‘ تو وہ درویش کہتے’’ قبر میں‘‘ شیطان ان جوابات سے واپس چلا جاتا۔
بزرگوں کا قول ہے کہ عام لوگوں کا رزق ان کے ہاتھ میں ہے اور خاص لوگوں کا رزق ان کے یقین میں ہے۔ درویش کا توشہ اس کا یقین ہے۔ اس کی سواری اس کے دو پیرہیں اور سواری اس کا عشق وشوق ہے۔
خدا وند تعالیٰ نے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے ارشاد فرمایا کہ ’’ اے موسیٰ! تو اس وقت تک رزق کی فکرنہ کر، جب تک کہ تو یہ نہ جان لے کہ میرے خزانہ میں ایک دانہ بھی باقی نہ رہا۔‘‘
بعض اہل دل نے کہا ہے کہ رزق کا اہتمام نہ کرنا چاہئیے کیوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رزق کے اہتمام کرنے والے تمہارے رازق بن جائیں۔
سالک کو چاہئیے کہ اپنے آپ کو خواہشات نفسانی ولذّات شہوانی سے آزاد رکھے۔ حرص و ہوا کو ترک کرے اور اپنی ہمّت کی آنکھ کو دنیا کی آرائش سے بند کرے۔ بغیر اس کے حیاتِ ابدی ملنا ممکن نہیں۔ اپنے کاموں کو خداوند تعالیٰ کے سپرد کرنا اور اس کی مرضی پر راضی رہنا اور اپنی خواہش وآرزو کو اس کی مرضی کے تابع کرنے کا نام توکّل ہے۔
سمجھنا چاہئیے اول میں وہ ہی ہے جو عدم سے وجود میں لایا۔ آخر میں وہ ہی ہے جس کے پاس پھر تم کو آنا ہے۔ ظاہر میں وہی ہی ہے، جس نے تمہاری صورت کو خوب آراستہ کیا اور باطن میں وہ ہی ہے کہ جس نے حقائق تمہارے دل میں و دیعت کئے۔
تمہارے دوست لطیف صاحب کا تو یہ منشا معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کردیا جائے۔ رہنمائی حاصل کرنا جس طرح مردوں کا پیدائشی حق ہے، اسی طرح عورتوں کا بھی پیدائشی حق ہے۔ کیا صرف مردوں کے ہی لئے روشنی ہے اور بے چاری عورتوں کے لئے تاریکی ہے۔ موجودہ سوسائٹی نے عورتوں کو بے دست و پا کرکے اُن کو ان کے جائز حقوق سے ایک بڑی حد تک محروم کردیا ہے۔ حالانکہ اسلام نے عورتوں کو برابری کا درجہ دیا ہے۔
رہنمائی علم سے حاصل ہوتی ہے۔ رہنمائی صحبت سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ اگر عورتیں اپن پیر کی صحبت میں رہ کر رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں تو اس میں کیا بُرا ہے۔ کسی کی صحبت میں رہ کر کچھ حاصل کرنا بعیر خدمت کے ممکن نہیں۔ عورتوں میں خدمت کا جذبہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان کی ساری عمر خدمت اور اطاعت شعاری میں گذرتی ہے۔ شادی سے پہلے اپنے بھائی بہن اور اپنے والدین کی خدمت، شادی کے بعد اپنے شوہر کی خدمت پھر بچّوں کی پرورش اور خدمت غرض خدمت ہی خدمت ہے۔
ایک پیرکے لئے مرد اور عورت سب برابر ہیں جس طرح وہ اپنے مرد مریدوں کا خیال کرتا ہے۔ اس کی فلاح و بہبود کا خواہاں ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی مرید عورتوں کا بھی خیال رکھتا ہے، ان کو ہدایت کرتا ہے، ان کی رہنمائی کرتا ہے۔
ایک اہلِ دل سب کا راز دار ہوتا ہے۔ اس کو صحیح معنوں میں صحیح راز دار پا کر غریب اور لا چار عورتیں اس سے اپنی دکھ درد کہتی ہیں اور اس کی امداد کی طالب ہوتی ہیں۔ کیا دنیا دار حاکمِ وقت سے اپنا دکھ درد نہیں کہتے اور اس سے امداد نہیں چاہتے؟ کیا حاکم وقت صرف مردوں کی شکایت و دکھ درد سُنتا ہے؟ حاکم وقت تو سب کا حاکم ہوتا ہے۔ عورتیں بھی اس کے سامنے اپنی تکالیف زبانی یا بذریعہ درخواست پیش کرتی ہیں۔ پیر ایسا حاکم ہے کہ جس کے پاس سیکڑوں حاکم آتے ہیں اور در مقصود پاتے ہیں۔ عورتیں فطرتاً حوش اعتقاد ہوتی ہیں اور بغیر چون و چرا کے مذہبی باتیں سیکھ کر فلاح حاصل کرتی ہیں۔
لطیف صاحب کو معلوم ہونا چاہئیے کہ پیر کی نگاہ میں امیر وغریب کا امتیاز نہیں ہے اگر کوئی شخص باہر جائے اور اس کا کوئی مال دار دوست اس کو اپنے پاس ٹھہرانے کی کوشش کرے تو کیا اس بنا پر اپنے دوست کے پاس نہیں ٹھہرنا چاہئیے کہ وہ مال دار ہے۔ اسی طرح اگر کسی پیر کے مال دار مرید ہیں اور وہ اس کو پاس ٹھہرائیں تو کیا پیر کو ان کے پاس اس وجہ سے نہیں ٹھہرنا چاہئیے کہ وہ مال دار ہیں۔ یہ تو عجیب منطق ہے۔
پیر پر پیسہ خرچ کرکے مرید اپنے لئے فلاح اور اپنے مال کے لئے برکت سمجھیں تو کیا بیجا ہے۔
شادی میں دوستوں اور شناساؤں کو بلایا ہی جاتا ہے۔ اگر پیر صاحب نے بلایا تو کیا بُرا کیا۔
قرآن شریف کا حکم ہے’’ سیروفی الارض‘‘ یعنی زمین کی سیر کرو۔ تصوف کی زندگی میں سیرو سیاحت کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ سیر وسیاحت کے ذریعہ قدرت کے مطالعہ کا موقعہ ملتا ہے۔ بعض فقراء نے کافی حصّہ زندی کا سیروسیاحت میں گذارا ہے۔ بابا فرید گنج شکرؒ نے کافی سیاحت فرمائی ہے اور حضور غریب نوازؒ نے بھی بہت سیاحت کی ہے شیخ سعدیؒ نے خود چالیس سال سیرو سیاحت میں گذارے۔ حضرت مخدوم جہانیان گشت نے بھی بہت سیاحت کی ہے۔
اچھا اب یہ خط بند کرتا ہوں، تمہاری آمد کا انتطار ہے۔ ماہ نور بخیریت ہے۔ انعام حسن اور مہر نُور کو دُعا۔ خُدا وند تعالیٰ تم کو شاد آباد رکھے۔
دُعا گو
خادم حسن معینی گدڑی شاہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.