Font by Mehr Nastaliq Web

رونق_بزم_جہاں ہیں عاشقان_سوختہ

احمد رضا خاں

رونق_بزم_جہاں ہیں عاشقان_سوختہ

احمد رضا خاں

MORE BYاحمد رضا خاں

    رونق بزم جہاں ہیں عاشقان سوختہ

    کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبان سوختہ

    جس کو قرص مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو

    ان کے خوان جود سے ہے ایک نان سوختہ

    ماہ من یہ نیر محشر کی گرمی تابکے

    آتش عصیاں میں خود جلتی ہے جان سوختہ

    برق انگشت نبی چمکی تھی اس پر ایک بار

    آج تک ہے سینۂ مہ میں نشان سوختہ

    کوچۂ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم

    بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلان سوختہ

    آتش تر دامنی نے دل کئے کیا کیا کباب

    خضر کی جاں ہو جلا دو ماہیان سوختہ

    آتش گلہائے طیبہ پر جلانے کے لئے

    جان کے طالب ہیں پیارے بلبلان سوختہ

    اے رضاؔ مضمون سوز دل کی رفعت نے کیا

    اس زمین سوختہ کو آسمان سوختہ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے