Font by Mehr Nastaliq Web

رخ_پر_نور پر احمد کی یوں زلف_معنبر ہے

اسلم  لکھنوی

رخ_پر_نور پر احمد کی یوں زلف_معنبر ہے

اسلم لکھنوی

MORE BYاسلم لکھنوی

    رخ پر نور پر احمد کی یوں زلف معنبر ہے

    گھٹا رحمت کی جیسے سایہ افگن چاندنی پر ہے

    زمیں پر مصطفیٰ ہیں اور خدا عرش بریں پر ہے

    یہاں کچھ اور منظر ہے وہاں کچھ اور منظر ہے

    شب معراج کی بس مختصر روداد ہے اتنی

    ابھی تھا عرش پر سب کچھ ابھی سب کچھ زمیں پر ہے

    کوئی محشر میں دیکھے مرتبہ شاہ دو عالم کا

    کہ رحمت عام ہے تاج شفاعت زینت سر ہے

    خدا اس کا بہشت اس کی زمین و آسماں اس کے

    سب اس کا ہے محمدؐ کی نگاہ رحم جس پر ہے

    جو ان پر مٹ گیا سمجھو کہ عقبیٰ بن گئی اس کی

    جو ان پر مر گیا دنیا میں وہ زندوں سے بہتر ہے

    چلو اسلمؔ مدینے تم بھی محتاج کرم بن کر

    کہ اس در کی گدائی بادشاہی سے بھی بڑھ کر ہے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 45)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے