Font by Mehr Nastaliq Web

مجھے جستجوئے_نبی ہے ازل سے بھلا میرا ذوق_نظر کون جانے

قیصر رتناگیروی

مجھے جستجوئے_نبی ہے ازل سے بھلا میرا ذوق_نظر کون جانے

قیصر رتناگیروی

MORE BYقیصر رتناگیروی

    مجھے جستجوئے نبی ہے ازل سے بھلا میرا ذوق نظر کون جانے

    ترستی ہیں نظریں مچلتے ہیں ارماں تڑپتا ہوں شام و سحر کون جانے

    چلا تو ہوں سوئے مدینہ میں اے دل مگر ہوں میں ناواقف راہ منزل

    قدم اٹھ رہے ہیں کھنچا جا رہا ہوں چلا ہوں کہاں سے کدھر کون جانے

    یوں صدمات فرقت سہے جا رہا ہوں کہ مر مر کے اب تک جیے جا رہا ہوں

    بلائیں گے کب در پہ کس روز ہوگی میری شام غم کی سحر کون جانے

    بلائیں گے روضہ پہ سرکار عالی نہ لوٹے گا محروم در سے سوالی

    میں تسکین یوں آج دیتا ہوں دل کو مگر کیا ہو کل کی خبر کون جانے

    چلوں سر کے بل ہے یہ عرض مدینہ دیار نبی میں بڑھوں با قرینہ

    ملے گا کہاں نقش پائے محمد ملے گی کہاں رہگزر کون جانے

    احد اور احمد میں ہے میم پر نہ تا حشر حل ہو سکے گا یہ عقدہ

    بشر کی سمجھ نے یہاں ہار مانی یہ ہے راز خیبر کون کون جانے

    تلاطم سا آنکھوں میں رہتا ہے برپا ان آنکھوں سے بہتا ہے اشکوں کا دریا

    سکوں ان دنوں میرے قلب و جگر کا ہوا کیوں ہے زیر و زبر کون جانے

    کب آئے گا یا رب وہ دن وہ مہینہ چلوں گا میں جس روز سوئے مدینہ

    طفیل نبی ہوگا مجھ کو میسر مدینہ کا کس دن سفر کون جانے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے