جہاں میں ہر طرف پھیلا اجالا غوث_اعظم کا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)
جہاں میں ہر طرف پھیلا اجالا غوث اعظم کا
ملا رستوں کو بھی روشن اشارہ غوث اعظم کا
چمکتا ہے فلک پر بھی ستارہ غوث اعظم کا
رہے گا قائم و دائم اجالا غوث اعظم کا
جہاں میں ہر طرف چلتا ہے سکہ غوث اعظم کا
فلک تک گونجتا رہتا ہے نعرہ غوث اعظم کا
جو عشق مصطفیٰؐ کا معتبر رہبر بنا کوئی
وہ دریائے کرم سے ہے پیالہ غوث اعظم کا
جو صدیوں سے جلا کرتے تھے غم کی تیز لپٹوں میں
وہ اب کہتے ہیں ملتا ہے سہارا غوث اعظم کا
قیامت تک رہے گا جلوہ ان کی شان و عظمت کا
مٹا سکتا نہیں کوئی اجالا غوث اعظم کا
قلندر بھی ولی بھی عاشق مولا سبھی جھک کر
بیاں کرتے رہے جلوہ آرا غوث اعظم کا
جہاں سے لٹ رہی تھی بخششیں سب بے حساب اب تک
وہیں سے مل گیا ہم کو خزانہ غوث اعظم کا
اگر چاہو شفاعت حشر میں پکی تو سن لو تم
پکڑ لینا سدا دامن رضا کا غوث اعظم کا
مری خوش قسمتی دیکھو کہ مجھ پر بھی نظر کر دی
بنا جو کچھ بھی ہوں میں بس ہے صدقہ غوث اعظم کا
لحد میں جب اتر جاؤں تو سرہانے پہ لکھ دینا
غلامی میں مرا ہوں میں غلاما غوث اعظم کا
جو ڈوبے تھے گناہوں میں انہیں ساحل ملا آخر
خدا نے دے دیا ہم کو سہارا غوث اعظم کا
جہاں والے سمجھتے ہیں جسے مشکل کا حل کوئی
حقیقت میں وہی تو ہے اشارہ غوث اعظم کا
قیامت تک رہے گا میرے لب پر بس یہی نعرہ
نشان بندگی ہے یہ غلاما غوث اعظم کا
میں امجدؔ ہوں غلام ان کا کرم ہوتا ہے ہر لمحہ
غلام مصطفیٰؐ ہوں اور غلاما غوث اعظم کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.