Font by Mehr Nastaliq Web

عشاق جو ہیں احمد_مختار تمہارے

نا معلوم

عشاق جو ہیں احمد_مختار تمہارے

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    عشاق جو ہیں احمد مختار تمہارے

    بیزار ہیں جینے سے دیدار تمہارے

    رہ کر یہی کہتے ہیں طلب گار تمہارے

    ہم گرچہ نہیں قابل دربار تمہارے

    کہلاتے تو ہیں بندۂ سرکار تمہارے

    اپنے ہم نفسو کوئی اگر جائے ادھر کو

    کہنا شہہ دیں سے خبر خستہ جگر کو

    دیدار کی دولت تو ملی اہل نظر کو

    اچھے رہے نزدیک برے جائیں کدھر کو

    گل ہیں تو تمہارے ہیں جو ہیں خار تمہارے

    تھا گرچہ منور مہ کنعاں کا ستارا

    نور آپ کا جب دیدۂ یعقوب سے گزرا

    وہ کہنے لگے دیکھ کے یہ صورت زیبا

    یوسف پہ تو عاشق تھی فقط ایک زلیخا

    یوسف سے ہزاروں ہیں خریدار تمہارے

    پیشانی پہ ابروئے محمد کی ہے تحریر

    یا معرکۂ بدر میں صمصام کی تنویر

    کہتے تھے شجاعان عرب دیکھ وہ تصویر

    مقتل میں جو آؤ تو نہ لو ہاتھ میں شمشیر

    بس کرتے ہیں دو ابروئے خم دار تمہارے

    قم کہنے کی تکلیف اٹھاتے تھے مسیحا

    تب پیروں میں کر پاتے تھے اک مردہ کو زندہ

    تم چشم زدن میں یہ دکھاتے ہو تماشا

    مردہ کو تو زندہ کرو اور زندہ کو مردہ

    دو وصف ہیں ان آنکھوں سے اظہار تمہارے

    گو سب سے نرالی ہے ہر اک آن تمہاری

    پھر آنکھوں میں خالق نے بھری کوٹ کے شوخی

    ہر اک کو یہی کہتے سنا جس پہ نظر کی

    اک میں ہی نہیں تیر نگہ کا تری زخمی

    بہتیرے ہیں ان آنکھوں کے بیمار تمہارے

    اب بہر خدا چھوڑ دے اے پیر فلک جور

    ممتازؔ کو پہنچا دے مدینہ میں تو فی الفور

    جز اس کے یہ حضرت سے کروں عرض میں کچھ اور

    خاموش نہیں قابل محفل جو کسی طور

    کوچہ میں وہ بیٹھے پس دیوار تمہارے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے