خدایا وہ کامل نظر دے مجھے
خدایا وہ کامل نظر دے مجھے
کہ ہر ایک ذرہ میں دیکھوں تجھے
وہ غم دے کہ ہو جائیں سب غم غلط
نہ ہو اور کچھ تو ہی تو ہو فقط
اگر غرق طوفاں ہو کل کائنات
نہ پھسلے مگر میرا پائے ثبات
رہے دھیان میں کچھ نہ دوزخ بہشت
تیری دید بن جائے میری سرشت
مجھے رنگ دے پاؤں سے تا بہ فرق
خمِ صبغۃ اللہ میں کر کے غرق
میرے دل سے زنگِ دوئی دور کر
میرے دل کو وحدت سے معمور کر
ملے وہم باطل نظر آئے حق
پڑھوں ذرہ ذرہ سے ترا سبق
تری شان پاؤں ہر انداز سے
ترا لہجہ سمجھوں ہر آواز سے
چمک تیری دیکھوں ہر اک رنگ میں
سنوں راگ تیرا ہر آہنگ میں
نگاہوں میں ہو جلوہ گر تو ہی تو
ہر اک گل میں پاؤں تیری رنگ و بو
کروں فہم تجھ کو ہر اک بات سے
سنوں تیرا نغمہ جمادات سے
ترا جلوہ بادۂ عشق سے ہو کے مست
سنوں گوش جاں سے ندائے الست
کہوں میں بلا اور ہو جاؤں لا
محبت کی آتش سے مجھ کو جلا
کہوں اور سنوں اور بنوں چشم و گوش
میری بیخودی پر ہوں قربانِ ہوش
محبت کے دریا میں مجھ کو ڈبو
تمنا ہے یہ اب تو جو ہو سو ہو
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 47)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.