Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

ترور ایک مول بن ٹھاڑھا بن پھولے پھل لاگے

کبیر

ترور ایک مول بن ٹھاڑھا بن پھولے پھل لاگے

کبیر

MORE BYکبیر

    ترور ایک مول بن ٹھاڑھا بن پھولے پھل لاگے

    ساکھ پتر کچھو نہی تاکے سکل کمل دل گاجے

    چڑھ ترور دو پنچھی بولے ایک گرو ایک چیلا

    چیلا رہا سو رس چن کھایا گرو نرنتر کھیلا

    پنچھی کے کھوج اگم پرگٹ کہے کبیرؔ بڑی بھاری

    سب ہی مورت بیچ امورت مورت کی بلیہاری

    ایک درخت ہے کہ بغیر جڑ کے کھڑا ہوا ہے اور بغیر پھول کے پھل دے رہا ہے۔ اس میں شاخیں ہیں نہ پتیاں، وہ سارے کا سارا کنول ہے۔ اس پر بیٹھے ہوئے دو پنچھی بول رہے ہیں۔ ایک گرو اور ایک چیلا۔ چیلا چن چن کے رسیلے پھل کھا رہا ہے اور گرو خوش ہو کر دیکھ رہا ہے۔ کبیرؔ کہتے ہیں کہ اس کا سمجھنا دشوار ہے کہ پنچھی تلاش کی حدوں سے باہر ہے پھر بھی صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ہر مورت (شکل) کے اندر امورت (بے شکل) ہے۔ ہر مورت پر قربان جائیے۔

    (ترجمہ: سردار جعفری)

    مأخذ :
    • کتاب : کبیر سمگر (Pg. 771)
    • Author :کبیر
    • مطبع : ہندی پرچارک پبلیکیشن پرائیویٹ لیمیٹید، وارانسی (2001)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi

    Get Tickets
    بولیے