Font by Mehr Nastaliq Web

آمدہ بہ قتل من آں شوخ ستم گارے

منیر

آمدہ بہ قتل من آں شوخ ستم گارے

منیر

MORE BYمنیر

    دلچسپ معلومات

    حاجی محبوب خاں قوال نے اس غزل کے مقطع میں "منیر" تخلص استعمال کیا ہے، اگرچہ یہ غزل عموماً حضرت امیر خسروؔ سے منسوب کی جاتی ہے، تادمِ تحریر اس کی کوئی مستند اور قابلِ اعتماد سند دستیاب نہیں ہو سکی، اس بنا پر قرینِ احتیاط یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسے منیرؔ تخلص رکھنے والے کسی شاعر کی طرف منسوب کیا جائے۔

    آمدہ بہ قتل من آں شوخ ستم گارے

    ایں طرفہ تماشہ بیں ناکردہ گنہگارے

    وہ شوخ ستمگر میرے قتل پر آمادہ ہے

    دیکھو یہ کیسا تماشہ ہے کہ ایک بیگناہ کو قتل کرتا ہے

    گر نام و نشان من پرسد تو بگو قاصد

    آوارہ و مجنونے رسوا سر بازارے

    اگر وہ میرا نام اور پتہ پوچھے تو اے قاصد کہہ دینا

    کہ وہ سر بازار ایک آوارہ، مجنون و رسوا ہے

    اے عیسیٰ بیماراں از ہجر تو رنجورم

    شاید نہ خبر داری از حالت بیمارے

    اے بیماروں کے مسیحی میں تمھارے ہجر میں رنجیدہ ہوں

    شاید تم بیمار کے حال سے بے خبر ہو

    خواہی کہ شفا باشد بیمار محبت را

    یک جرعہ خدا را دہ از شربت دیدارے

    اگر تم بیمار محبت کو صحت یاب دیکھنا چاہتے ہو تو

    خدا کے لۓ شربت دیدار کا ایک گھونٹ دے دو

    از کوچۂ معشوقاں باز منیرؔ آید

    سر بکف و جاں بر لب دل دار بہ عیارے

    محبوب کی گلی میں منیر اس طرح بن سنور کر آیا ہے

    کہ سر ہاتھ میں ہے، جان لبوں پر ہے اور وہ چالاک دلبر ہے۔

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حاجی محبوب علی

    حاجی محبوب علی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے