Font by Mehr Nastaliq Web

بگلشن بسے آنکہ گردیدہ باشد

میرتقی میر

بگلشن بسے آنکہ گردیدہ باشد

میرتقی میر

MORE BYمیرتقی میر

    بگلشن بسے آنکہ گردیدہ باشد

    گل نازکے چوں تو کم دیدہ باشد

    جو بھی گلشن میں بہت گھوما ہوگا

    (اس نے) تجھ جیسا نازک پھول کم دیکھا ہوگا

    بدیں رنگ اگر از در باغ آئی

    ندامت کشد ہر کہ گل چیدہ باشد

    اس رنگ سے اگر تو باغ کے دروازے سے آیا

    جس نے بھی پھول چنا ہوگا، شرمندہ ہوجائے گا

    نیامد بچشم من امروز سنبل

    ز گیسوئے او شانہ دزدیدہ باشد

    سنبل آج میری نظر میں نہیں جچا

    اس کے گیسو سے کترارہا ہوگا

    چہ نا عاقبت بیں کسے بود ظالم

    نخست‌‌ آنکہ عشق تو ورزیدہ باشد

    ظالم وہ کتنا نا عاقبت بیں تھا

    جس نے تیرے عشق کو سب سے پہلے اختیار کیاہوگا

    بہ خود نیست امروز از صبح نرگس

    مگر چشم مخمور او دیدہ باشد

    آج صبح سے نرگس ہوش میں نہیں ہے

    ضرور اس کی نشے میں چور آنکھوں کو دیکھا ہوگا

    یقین است آں کم سخن حال زارم

    پس از مرگ من ہم نہ پرسیدہ باشد

    یقین ہے اس کم سخت نے میرا حالِ زار

    میرے مرنے کے بعد بھی نہیں پوچھا ہوگا

    خرامت بہ طرزے کلامت بہ طورے

    ترا کم کسے میرؔ فہمیدہ باشد

    تیری چال ایک خاص طرز کی، تیری بات ایک خاص طور کی

    تجھے میرؔ کسی نے کم (ہی) سمجھا ہوگا

    مأخذ :
    • کتاب : دیوانِ میر فارسی (Pg. 188)
    • Author : افضال احمد سید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے