بہ سرت کہ جز سر زلف تو بسرم سر دگرے نہ شد
بہ سرت کہ جز سر زلف تو بسرم سر دگرے نہ شد
برخت کہ جز رخ تو گہے برخ دگر نظرے نشد
قسم ہے آپ کے سر کی کہ میرے سر میں آپ کی زلف کے خیال کے سوا کسی کا خیال نہیں آیا، قسم آپ کے رخِ روشن کی، سوائے آپ کے جمال کے کسی کا جمال میری نظروں میں نہیں سمایا۔
چو سگم کمیں بہ سگان تو و از جملہ بے قدرم ولے
بدرت کہ جز در پاک تو بدر دگر گزرے نشد
میں آپ کے سگانِ کمترین میں ہوں اور سب سے زیادہ حقیر و بے قدر ہوں لیکن قسم ہے آپ کے در کی کہ کسی دوسرے دروازہ پر میرا گذر نہیں ہوا۔
ہمہ شب ہمی گذرد مرا بخیال وصل تو تا سحر
من و آہ و نالہ کہ یک شبے بہ وصال تو سحرے نشد
آپ کے وصل کے خیال میں میری تمام رات گزر جاتی ہے، میں ہوتا ہوں اور آہ و نالہ ہوتا ہے کہ میری کوئی ایک رات بھی آپ کے وصال میں روشن نہ ہوئی (صبح والی نہ ہوئی یعنی وصال میں نہ گزری)
دل و جان و صبر و قرار من بیک آمد تو ز دست رفت
متحیرم بہ چنیں روش کہ بہ نصرؔ تو خبرے نشد
میرا دل و جان، میرا صبر و قرار، آپ کے ایک ہی جلوے میں ہاتھ سے جاتے رہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ نصر کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 202)
- Author : شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.