Font by Mehr Nastaliq Web

بہ سرت کہ جز سر زلف تو بسرم سر دگرے نہ شد

نصر پھلواروی

بہ سرت کہ جز سر زلف تو بسرم سر دگرے نہ شد

نصر پھلواروی

MORE BYنصر پھلواروی

    بہ سرت کہ جز سر زلف تو بسرم سر دگرے نہ شد

    برخت کہ جز رخ تو گہے برخ دگر نظرے نشد

    قسم ہے آپ کے سر کی کہ میرے سر میں آپ کی زلف کے خیال کے سوا کسی کا خیال نہیں آیا، قسم آپ کے رخِ روشن کی، سوائے آپ کے جمال کے کسی کا جمال میری نظروں میں نہیں سمایا۔

    چو سگم کمیں بہ سگان تو و از جملہ بے قدرم ولے

    بدرت کہ جز در پاک تو بدر دگر گزرے نشد

    میں آپ کے سگانِ کمترین میں ہوں اور سب سے زیادہ حقیر و بے قدر ہوں لیکن قسم ہے آپ کے در کی کہ کسی دوسرے دروازہ پر میرا گذر نہیں ہوا۔

    ہمہ شب ہمی گذرد مرا بخیال وصل تو تا سحر

    من و آہ و نالہ کہ یک شبے بہ وصال تو سحرے نشد

    آپ کے وصل کے خیال میں میری تمام رات گزر جاتی ہے، میں ہوتا ہوں اور آہ و نالہ ہوتا ہے کہ میری کوئی ایک رات بھی آپ کے وصال میں روشن نہ ہوئی (صبح والی نہ ہوئی یعنی وصال میں نہ گزری)

    دل و جان و صبر و قرار من بیک آمد تو ز دست رفت

    متحیرم بہ چنیں روش کہ بہ نصرؔ تو خبرے نشد

    میرا دل و جان، میرا صبر و قرار، آپ کے ایک ہی جلوے میں ہاتھ سے جاتے رہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ نصر کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 202)
    • Author : شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے