بوئے خوش تو ہر کہ ز باد صبا شنید
از یار آشنا سخن آشنا شنید
تیری خوشبو جس نے بھی باد صبا سے سونگھی، اس نے جانے پہچانے دوست کی جانی پہچانی بات سنی۔
اینش سزا نبود دل حق گزار من
کز غم گسار خود سخن ناسزا شنید
میرے شکر گزار دل کی یہ سزا نہ تھی، کہ اس نے اپنے غمگسار سے نامناسب بات سنی۔
اے شاہ حسن چشم بہ حال گدا فگن
کیں گوش بر حکایت شاہ و گدا شنید
اے حسن کے بادشاہ فقیروں کی حالت پر رحم کر، اس لئے کہ ان کانوں نے بادشاہ اور فقیروں کے بہت سارے قصے سنے۔
خوش می کنم ببادۂ مشکیں مشام جاں
کز دلق پوش صومعہ بوئے ریا شنید
میں مشکیں شراب سے جان کے دماغ کو خوش کرتا ہوں، اس لیے کہ عبادت خانہ کے گدڑی پہننے والے سے اس نے ریا کو بو سونگھی ہے۔
سر خدا کہ عارف سالک بکس نگفت
در حیرتم کہ بادہ فروش از کجا شنید
خدا کا راز جو عارف سالک نے کسی سے نہیں کہا، مجھے تعجب ہے کہ مے فروش نے کہاں سے سنا؟
ما بادہ زیر خرقہ نہ امروز می خوریم
صد بار پیر میکدہ ایں ماجرا شنید
ہم گدڑی میں چھپا کر آج ہی شراب نہیں پی رہے ہیں، میکدے کے شیخ نے سو بار یہ قصّہ سنا ہے۔
یا رب کجاست محرم رازے کہ یک زماں
دل شرح آں دہد کہ چہ دید و چہا شنید
اے خدا ایسا ہم راز کہاں ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے، دل اسکی تفصیل کرے کہ کیا دیکھا اور کیا کیا سنا۔
ما مے ببانگ چنگ نہ امروز می کشیم
بس دیر شد کہ گنبد چرخ ایں صدا شنید
ہم چنگ کی آواز پر شراب آج ہی نہیں پی رہے ہیں، بہت زمانہ ہو گیا کہ آسمان کے گنبد نے یہ آواز سنی ہے۔
ساقی بیا کہ عشق ندا می کند بلند
آنکس کہ گفت قصّۂ ما ہم ز ما شنید
ساقی آ جا کہ عشق پکار رہا ہے، جس نے ہمارا قصّہ بیان کیا ہے اس نے ہمیں سے سنا ہے۔
پند حکیم عین صوابست و محض خیر
فرخندہ بخت آنکہ بسمع رضا شنید
دانا کی نصیحت بالکل درست اور خالص بھلائی ہے، مبارک نصیب وہ ہے جس نے رضا مندی کے کان سے سنی۔
نشنید ہرچہ گفتم و بگذشت ویں عجب
سلطاں شنیدہ ام کہ حدیث گدا شنید
جو میں نے کہا اس نے نہ سنا اور چلا گیا اور یہ عجیب بات ہے، میں نے تو سنا ہے کہ بادشاہ نے فقیر کی بات سنی ہے۔
محروم اگر شدم ز سر کوئے او چہ شد
از گلشن زمانہ کہ بوئے وفا شنید
اگر میں اس کے کوچہ سے محروم رہا ہوں تو کیا ہوا، زمانہ کے گلشن سے کس نے وفا کی خوشبو سونگھی ہے۔
ہر شام ماجرائے من و دل شمال گفت
ہر صبح گفتگوئے من او صبا شنید
شمالی ہوا نے ہر شام کو میرا اور دل کا قصّہ بیان کیا ہے، ہر صبح کو صبا نے میرا اور اس کا قصّہ سنا ہے۔
حافظؔ وظیفۂ تو دعا گفتنست و بس
در بند آں مباش کہ نشنید یا شنید
اے حافظؔ تیرا وظیفہ بس دعا دینا ہے، اس فکر میں نہ پڑ کہ انہوں نے سنا یا نہیں سنا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.