نہ دنیا را طلبگارم نہ عقبیٰ را پرستارم
نہ دنیا را طلبگارم نہ عقبیٰ را پرستارم
ولے وارستہ از عالم قلندروار می دارم
نہ میں دنیا کا طلبگار ہوں، نہ عقبیٰ کا پرستار ہوں لیکن قلندر کی طرح وارستہ اور بے نیاز دل رکھتا ہوں۔
بہ زاہد باد راہ حج مرا کوئے قلندر
قلندر مشربم گم کردہ خود را در رہ یارم
زاہد کو حج کی راہ مبارک ہو، میں قلندر مشرب ہوں میں نے دوست کی راہ میں خود کو گم کردیا ہے (زاہد رسمی حج کی ادائیگی کے لیے نکلا ہے اور میں دوست حقیقی اللہ تعالیٰ کی راہ میں گم ہوں کیوں کہ یہی رہ قلندر ہے اور حج کی راہ بھی رہ قلندری ہو سکتی ہے اگر عشق حقیقی ہو)۔
شکستم شیشۂ تقویٰ بہ سنگ آستان مغ
بکف جام شراب و پائے لغزاں مست و سرشارم
میں نے پیر مغاں کے آستانے کے پتھر سے تقویٰ کا شیشہ توڑ دیا، (اب حال یہ ہے کہ) ہاتھ میں جام شراب ہے پیر میں لغزش ہے اور مست و سرشار ہوں (شیشہ تقویٰ سے وہ رسوم ظاہری و شرعی مراد ہیں جو کیفیات روحانی سے خالی ہیں)۔
چہ می پرسی زمن اے فردؔ انجام غم عشقش
کہ من در بارگاہ خواجۂ خود نو گرفتارم
کیا پوچھتے ہو مجھ سے اے فرد! اس کے عشق کا انجام؟ ابھی تو میں اپنے خواجہ کی بارگاہ میں خود نو گرفتار ہوں (خواجہ سے، خواجۂ عالم بھی مراد ہو سکتے ہیں اور خواجہ عماد الدین قلندر بھی جن کے سلسلہ سے حضرت فردؔ وابستہ تھے)۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 251)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.