مخرام اے بت من زیں رشک سرو قامت
مخرام اے بت من زیں رشک سرو قامت
اے از قد بلندت قدقامت القیامت
اے میرے محبوب! اپنے رشک سرو، قدو قامت کے ساتھ ناز سے مت چل، تیرے قد بلند سے قیامت برپا ہوگئی ہے (یہاں محبوب سے رسول کی ذات مراد ہے، اور آپ کی خوش قامتی کی تعریف ہے کہ آپ کا قد بلند، سرو (بغیر پھول کا ایک درخت، جو بلند ہوتا ہے اورہمیشہ تر وتازہ اورخزاں کے اثر سے محفوظ ہوتا ہے) کے لیے قابل رشک ہے، جب آپ چلتے ہیں تو دیکھنے والوں پر قیامت گذرتی ہے، یعنی وہ بے خود ہوجاتے ہیں)۔
بے خود شوم چو آرد پیکے ز تو پیامت
چوں سازم از زبانت گر بشنوم کلامت
قاصد جب آپ کا پیام لے کر آتا ہے تو میں بے خود ہوتا ہوں (آپ کی باتیں راویوں کی زبانی سنتا ہوں)، اگر وہ باتیں خود آپ کی زبانی سن لوں تو میراکیا حال ہوگا (یعنی اے محبوب آپ کی باتیں دوسروں کی زبانی سن کر جب میں ایسا وارفتہ ہو جاتا ہوں، تو اگر آپ خود مجھ سے مخاطب ہوجائیں تو میرا حال اور دگر گوں ہوجائے گا)۔
برداشتی تو دستے بہر سلام و خلقے
برداشت دست از جاں زاندازۂ سلامت
آپ سلام کے واسطے جب ہاتھ اٹھاتے ہیں تو انداز سلام میں اتنی دلآویزی ہوتی ہے کہ لوگ جان سے ہاتھ اٹھانے لگتے ہیں (آپ پر قربان ہونے لگتے ہیں، اس شعر میں آپ کی دل نشیں اداؤں کا ذکر ہے کہ جب آپ اپنی امت کے افراد کے سلام کا جواب عطا فرماتے ہیں تو امت کے افراد آپ کی اس عنایت مخصوص پر بصد جان قربان ہوجاتے ہیں)۔
حسن تو روز افزوں یا رب ہمیشہ بادا
عالم اگر چہ رنجد مائیم و صد ملامت
آپ کا روز افزوں حسن (مراتب عالیہ بھی مراد ہوسکتے ہیں جن میں ہر آن اضافہ ہے) خدا کرے ہمیشہ رہے (آپ کے عشق میں) اگر دنیا ہم سے ناراض ہو جائے تو ہم ہوں گے اور سیکڑوں ملامتیں ہوں گی (آپ کے حسن اور مراتب میں کیا کمی آئے گی ؟ آپ کے عاشقوں میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا رہے گا)۔
نادیدہ شمع رویت پروانۂ تو گشتم
نام تو آفتم شد اے من فدائے نامت
آپ کے روئے منور کو دیکھے بغیر میں آپ کا پروانہ (دیوانہ) ہوں، آپ کا نام ہی میرے جذبات عشق کا بھڑکانے سبب ہے، اے وہ ذات کہ آپ کے نام پر میں فدا ہوں (آفت سے یہاں وارفتگی اور تڑپ مراد ہے)۔
ما خواجۂ نہ داریم غیر از تو سر پرستے
قربان یک نگاہے چوں فردؔ صد غلامت
آپ کے سوا میری سرپرستی کرنے والا کوئی مالک و سردار نہیں (آپ ہی سب کچھ ہیں) آپ کی ایک نگاہ پر فردؔ جیسے سیکڑوں غلام قربان ہیں۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 160)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.