Font by Mehr Nastaliq Web

مخرام اے بت من زیں رشک سرو قامت

فرد پھلواروی

مخرام اے بت من زیں رشک سرو قامت

فرد پھلواروی

MORE BYفرد پھلواروی

    مخرام اے بت من زیں رشک سرو قامت

    اے از قد بلندت قدقامت القیامت

    اے میرے محبوب اپنے رشک سرو قد و قامت کے ساتھ ناز سے مت چل، تیرے قد بلند سے قیامت برپا ہو گئی ہے (یہاں محبوب سے رسول کی ذات مراد ہے اور آپ کی خوش قامتی کی تعریف ہے کہ آپ کا قد بلند، سرو (بغیر پھول کا ایک درخت جو بلند ہوتا ہے اور ہمیشہ تر و تازہ اور خزاں کے اثر سے محفوظ ہوتا ہے) کے لیے قابل رشک ہے جب آپ چلتے ہیں تو دیکھنے والوں پر قیامت گذرتی ہے یعنی وہ بے خود ہو جاتے ہیں)۔

    بے خود شوم چو آرد پیکے ز تو پیامت

    چوں سازم از زبانت گر بشنوم کلامت

    قاصد جب آپ کا پیام لے کر آتا ہے تو میں بے خود ہوتا ہوں (آپ کی باتیں راویوں کی زبانی سنتا ہوں) اگر وہ باتیں خود آپ کی زبانی سن لوں تو میرا کیا حال ہوگا (یعنی اے محبوب آپ کی باتیں دوسروں کی زبانی سن کر جب میں ایسا وارفتہ ہو جاتا ہوں، تو اگر آپ خود مجھ سے مخاطب ہو جائیں تو میرا حال اور دگر گوں ہو جائے گا)۔

    برداشتی تو دستے بہر سلام و خلقے

    برداشت دست از جاں زاندازۂ سلامت

    آپ سلام کے واسطے جب ہاتھ اٹھاتے ہیں تو انداز سلام میں اتنی دلآویزی ہوتی ہے کہ لوگ جان سے ہاتھ اٹھانے لگتے ہیں (آپ پر قربان ہونے لگتے ہیں اس شعر میں آپ کی دل نشیں اداؤں کا ذکر ہے کہ جب آپ اپنی امت کے افراد کے سلام کا جواب عطا فرماتے ہیں تو امت کے افراد آپ کی اس عنایت مخصوص پر بصد جان قربان ہو جاتے ہیں)۔

    حسن تو روز افزوں یا رب ہمیشہ بادا

    عالم اگر چہ رنجد مائیم و صد ملامت

    آپ کا روز افزوں حسن (مراتب عالیہ بھی مراد ہو سکتے ہیں جن میں ہر آن اضافہ ہے) خدا کرے ہمیشہ رہے (آپ کے عشق میں) اگر دنیا ہم سے ناراض ہو جائے تو ہم ہوں گے اور سیکڑوں ملامتیں ہوں گی (آپ کے حسن اور مراتب میں کیا کمی آئے گی ؟ آپ کے عاشقوں میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا رہے گا)۔

    نادیدہ شمع رویت پروانۂ تو گشتم

    نام تو آفتم شد اے من فدائے نامت

    آپ کے روئے منور کو دیکھے بغیر میں آپ کا پروانہ (دیوانہ) ہوں، آپ کا نام ہی میرے جذبات عشق کو بھڑکانے کا سبب ہے، اے وہ ذات کہ آپ کے نام پر میں فدا ہوں (آفت سے یہاں وارفتگی اور تڑپ مراد ہے)۔

    ما خواجۂ نہ داریم غیر از تو سر پرستے

    قربان یک نگاہے چوں فردؔ صد غلامت

    آپ کے سوا میری سرپرستی کرنے والا کوئی مالک و سردار نہیں (آپ ہی سب کچھ ہیں) آپ کی ایک نگاہ پر فردؔ جیسے سیکڑوں غلام قربان ہیں۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 160)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے