لی حبیبٌ عربیٌ ٌمدنی ٌقرشی
کہ بود درد و غمش مایۂ شادی و خوشی
میرا ایک محبوب ہے جو عربی ہے، مدنی ہے، قریشی ہے، اس کے عشق کا دردوغم میرے لئے خوشی اور شادمانی ہے۔
فہم رازش نکنی او عربی من عجمی
لاف مہرش چہ زنم او قرشی من حبشی
اس کا راز تم سمجھ نہیں سکتے، وہ عربی ہیں ارو میں عجمی ہوں، ان کے عشق میں لاف زنی کیا کروں۔ وہ قریشی ہیں، میں حبشی ہوں ( یعنی ان کے اعلیٰ نسبی اور ان کے حسن تاباں کے سامنے میں بہت کمتر اور سیاہ رو ہوں)۔
گرچہ صد مرحلہ دورست بہ پیش نظرم
وجھہ فی نظری کل غداۃ و عشی
اگر چہ میرے سامنے (وہ محبوب) سینکڑوں مرحلہ دور ہیں (لیکن نگاہ تصور اور قربت دلی کی بنا پر) ان کا رخ روشن صبح وشام میری نظر کے سامنے ہے۔
صفت بادۂ عشقش ز من مست مپرس
ذوق ایں مے نشناسی بخدا تا نچشی
ان کے شراب عشق کی تعریف مجھ مست سے نہ پوچھو بخدا اس شراب (عشق رسول) کی لذت جب تک چھکو گے نہیں، جان نہیں سکتے۔
مصلحت نیست مرا سیری ازاں آب حیات
ضاعف اللہ بہ کل زمان عطشی
اس آب حیات (شرابِ عشق نبی) سے سیر ہوجانا، میرے حق میں بہتر نہیں ہے۔ اللہ میری اس پیاس کو بڑھاتا رہے (یعنی محبت نبوی ہمیشہ باقی رہے، اس محبت میں تڑپتے رہنا ہی ایمان کا کمال ہے)۔
جامیؔ ارباب وفا جز رہ عشقش نہ روند
سر مبادت گر ازیں راہ قدم باز کشی
جامی! جان لو اہل وفا ان کے عشق کے راستے پر ہی ہمیشہ چلتے رہتے ہیں۔ تمہارا سر بھی باقی نہ رہے اگر تم نے اس راہ سے قدم کھینچ لیا (یعنی اس راہ عشق اور راہ وفا کو چھوڑ دینے کے بعد تم زندہ نہیں رہ سکتے۔ ان کا عشق ہی عاشقین صادقین کی زندگی ہے)۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 302)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.