سلام اللہ ما کر اللیالی لی
علیٰ ملک المکارم والمعالی
اللہ کا سلام ہو، جب تک بھی راتیں مکرّر ہوں، بزرگیوں اور بلندیوں کے بادشاہ پر۔
علیٰ وادی الاراک و من علیھا
و داری باللویٰ فوق الرمالی
پیلو کے جنگل پر اور ان پر جو وہاں ہیں، اور میرے گھر پر جو لویٰ میں ریتیلی زمین پر ہے۔
دعا گوئے غریبان جہانم
و اَدعو بالتواتر و التوالی
میں دنیا کے مسافروں کا دعاگو ہوں، اور میں متواتر اور پے در پے دعا کرتا ہو۔
منال اے دل کہ در زنجیر زلفش
ہمہ جمعیتست آشفتہ حالی
اے دل نالہ نہ کر اس لیے کہ اس کی زلف کی زنجیر میں پریشان حالی، پورا اطمینان ہے۔
اموت صابراًیا لیت شعری
متی نطق البشیر عن الوصال
میں صبر کرتے کرتے مرا جاتا ہوں اے کاش میں جان جاتا، وصل کی خوشخبری دینے والا کب بولے گا؟
فحبک راحتی فی کل حین
و ذکرک مونسی فی کل حالی
ہر گھڑی تیری محبّت میری راحت ہے، اور ہر حالت میں تیرا ذکر میرا مُونس ہے۔
سویدائے دل من تا قیامت
مباد از سوز سودائے تو خالی
میرے دل کا سیاہ نقطہ قیامت تک، خدا کرے تیرے عشق کی جلن سے خالی نہ ہو۔
کجا یابم وصال چوں تو شاہے
من بدنام رند لاابالی
تجھ جیسے بادشاہ کا میں وصل کب حاصل کر سکتا ہوں؟ میں بدنام لا پرواہ رند۔
ز خطت صد جمال دیگر افزود
کہ عمرت باد صد سال ہلالی
تیرے سبزۂ خط سے سو حسن اور زیادہ ہو گئے، خدا کرے تیری عمر سو قمری سالوں کی ہو۔
بر آں نقاش قدرت آفریں باد
کہ گرد مہ کشد خط ہلالی
قدرت کے اس نقاش کو شاباش ہے، جو چاند کے چاروں طرف ہلالی خط کھینچتا ہے۔
بہر منزل کی رو آرد خدایا
نگہدارش بحفظ لا یزالی
وہ جس منزل کی طرف بھی رُخ کرے اے خدا، دائمی حفاظت سے تو اس کی حفاظت کر۔
تو می باید کہ باشی ورنہ سہلست
زیان مایۂ جانی و مالی
چاہئے کہ تو رہے ورنہ آسان ہے، جانی اور مالی سرمایہ کا نقصان۔
خدا داند کہ حافظؔ را خبر چیست
و علم اللہ حسبی ذوالجلالی
خدا جانتا ہے کہ حافظ کا کیا مدعا ہے؟ اور میرے مانگنے کی بجائے اللہ کا جاننا میرے لیے کافی ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 293)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
- کتاب : دیوان حافظ (Pg. 409)
- Author :حافظ شیرازی
- مطبع : پروگریسو بکس، لاہور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.