سر گذشت من ادا از ہر زبانے می شود
سر گذشت من ادا از ہر زبانے می شود
ایں حکایت رفتہ رفتہ داستانے می شود
میری سرگزشت ہر زبان سے ادا ہورہی ہے
یہ حکایت رفتہ رفتہ داستان بن رہی ہے
گر بہ ایں انداز خود را می نماید چند روز
خال رخسار تو اے مہ داغ جانے می شود
اگر تو اس انداز سے خود کو چند روز دکھا تارہے گا
اے مہ تیرے رخسار کا تل، جان کا داغ ہوجائے گا
ایں نہ پنداری کہ خواہی شد بہ پیر نا تواں
قامت خم گشتہ ہم بار گرانے می شود
یہ مت گمان کر کہ بڑھاپے میں ناتواں ہوجائے گا
جھکا ہوا قد بھی بارِ گراں بن جاتا ہے
ذرہ ذرہ خاک من لبریز شور عشق اوست
چوں بہم می آید ایں اجزا جہانے می شود
میری خاک کا ذرہ ذرہ اس کے عشق کے جنوں سے بھرا ہے
جب یہ اجزا بہم آتے ہیں، ایک دنیا بن جاتی ہے
در نظر قدر بلندے دارم از عجز و نیاز
ایں زمین پست روزے آسمانے می شود
عجز و نیاز (کی وجہ) سے نظروں میں بلند قدر رکھتا ہوں
یہ پست زمین ایک روز آسمان ہوجائے گی
دل قوی دارید رنداں شیخ شاہد باز شد
عاقبت ایں بے حقیقت قلتبانے می شود
رندو دل مضبوط رکھو، شیخ شاہد باز ہو چکا ہے
یہ ذلیل آخرِ کار عورتوں کا دلال بن جائے گا
از نیاز ہر زمان میرؔ می دانیم ما
کہ ایں جوان رفتہ خاک آستانے می شود
میرؔ کی ہر وقت کی آرزو مندی سے ہم سمجھتے ہیں
یہ رفتہ جوان کسی آستان کی خاک ہو جائے گا
- کتاب : دیوانِ میر فارسی (Pg. 164)
- Author : افضال احمد سید
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.