کفر زلفت آفت ایماں فتاد
کفر زلفت آفت ایماں فتاد
خال و خدت راحت چشماں فتاد
تیری زلفوں کا کفر ایمان کی آفت ہے،
تیری شکل و صورت آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
گل ز زلف عنبر نیست برد بودے
لا جرم بر گردن خوباں فتاد
تیری عنبرین زلفوں سے پھولوں کو خوشبو ملتی ہے،
بے شک جو (زلف)محبوب کے گردن کی زینت بنی ہوئ ہے۔
گر غنی وصلت ربود از سیم و زر
دولت ہجراں بدرویشاں فتاد
اگر امراء دولت و سونے و چاندی سے تیرے وصل کو خرید لیں،
تو درویشوں کے پاس صرف جدائی و فراق کی دولت رہ جائیگی۔
اے بطمع زخم تو جان و دلم
چوں نشانہ بیں کہ در میداں فتاد
ای محبوب ،دل و جان تیرے زخم کے مشتاق ہے کہ لیکن زرا دیکھو کہ تمھارا نشانہ کہاں لگ رہا ہے۔
حال اینست کیں دل من ہمچو گوئے
در خم آن زلف چوں چوگاں فتاد
میں تم سے کیا بیان کروں کہ میرے دل ایک گیند کی مانند ہے، جو اس خمدار زلفوں کے چوگان میں پھنس گیا ہے۔
شکر مرا یزد تعالیٰ را ازانک
نام من در دفتر رنداں فتاد
اس بات کے لۓ خدا کا شکر ہے کہ میرا نام بھی اب رندوں کے دفتر میں درج ہو گیا ہے۔
وصف زلفت می نبشتم بہر آں
کار احمدؔ بے سر و ساماں فتاد
تیری زلفوں کے وصف کو بیان کرنے کے لۓ میں نے یہ اشعار لکہے ہیں، ورنہ احمد کا کام تو بے سر و سامانی و در بدری ہے۔
- کتاب : ارمغانِ بہار شریف حضرت احمد لنگر دریا بلخی کی حیات اور شاعری اور ملفوظات کا تنقیدی جائزہ (Pg. 65)
- Author : ڈاکٹر حسن امام
- مطبع : لیبل آرٹس پریس شاہ گنج، مہندر روڈ، پٹنہ (1998)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.