توکل یہ نہیں ہے کہ ترکِ اسباب کر دے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے کیوں کہ یہ بے ادبی ہے بلکہ توکل نام اس کا ہے کہ سبب کو قائم و مقرر کرے مثلاً کتابت وغیرہ، البتہ سبب پر نظر نہ جمائے اور اس پر بھرسہ نہ کرے، سبب مثلِ دروازہ کے ہے کہ خدا نے مسبب تک پہنچنے کے لیے بنایا ہے۔
توکل یہ نہیں ہے کہ ترکِ اسباب کر دے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے کیوں کہ یہ بے ادبی ہے بلکہ توکل نام اس کا ہے کہ سبب کو قائم و مقرر کرے مثلاً کتابت وغیرہ، البتہ سبب پر نظر نہ جمائے اور اس پر بھرسہ نہ کرے، سبب مثلِ دروازہ کے ہے کہ خدا نے مسبب تک پہنچنے کے لیے بنایا ہے۔
خواجہ باقی باللہ
MORE BYخواجہ باقی باللہ
توکل یہ نہیں ہے کہ ترکِ اسباب کر دے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے کیوں کہ یہ بے ادبی ہے بلکہ توکل نام اس کا ہے کہ سبب کو قائم و مقرر کرے مثلاً کتابت وغیرہ، البتہ سبب پر نظر نہ جمائے اور اس پر بھرسہ نہ کرے، سبب مثلِ دروازہ کے ہے کہ خدا نے مسبب تک پہنچنے کے لیے بنایا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.