Font by Mehr Nastaliq Web

صوفی اقوال

اس سیکش میں آپ کومختصراً معلوم و نامعلوم صوفی۔ سنتوں کےحوصلہ بخش اقوال ملیں گے۔

718 -776

بادشاہ بلخ جنہوں نے خدا کی خاطر سلطنت کو خیرباد کہہ دیا

تیسری صدی میں فارسی ادب کے ماہر اور معروف صوفی

1260 -1309

سلسلۂ شاذلیہ کے عظیم صوفی اور "الحکم العطائیہ" کے مصنف، شریعت و طریقت کے امتزاج کو منظم انداز میں پیش کرنا آپ کا نمایاں علمی کارنامہ ہے۔

702 -765

امام محمد باقر کے فرزند اور اہلِ بیت کے عظیم عالم تھے، 80 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، حدیث و فقہ کے ممتاز استاد رہے اور 148 ہجری میں وصال فرمایا، آپ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔

625 -670

حضرت رسول اللہ کے نواسے، حضرت علی اور حضرت فاطمہ زہرا کے بڑے صاحبزادے تھے، 3 ہجری میں پیدا ہوئے اور 49 ہجری میں وصال فرمایا۔

626 -680

حضرت محمد رسول اللہ کے نواسے، حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت فاطمہ زہرا کے فرزند تھے، 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور 10 محرم 61 ہجری کو کربلا میں حق، انصاف اور حریت کی خاطر شہید ہوئے۔

766 -818

اہلِ بیت کے جلیل القدر امام تھے، آپ نے علم، تقویٰ اور دینی رہنمائی کے ذریعے اسلامی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ عباسی خلیفہ مأمون نے آپ کو ولی عہد مقرر کیا مگر بعد میں طوس میں آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

1058 -1111

اسلامی دنیا کے عظیم فقیہ، صوفی اور مفکر تھے، "احیا علوم الدین" ان کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔

676 -732

اہلِ بیتِ اطہار کے پانچویں امام، امام زین العابدین کے فرزند اور امام حسین کے پوتے تھے، آپ 57 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، لقب باقرالعلوم تھا اور حدیث، فقہ و تفسیر کے ممتاز عالم تھے، آپ کا وصال 114 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔

745 -799

اہلِ بیتِ اطہار کے ساتویں امام، امام جعفر صادق کے فرزند اور امام محمد باقر کے پوتے تھے، آپ 128 ہجری میں مقامِ ابواء میں پیدا ہوئے، علم، عبادت، حلم اور تقویٰ کے باعث ممتاز مقام رکھتے تھے اور کاظم کے لقب سے مشہور ہوئے، آپ کا وصال 183 ہجری میں بغداد میں ہوا، جبکہ آپ کا مزار کاظمین میں واقع ہے۔

1882 -1927

برصغیر کے ممتاز صوفی، موسیقار اور روحانی مفکر تھے، آپ نے حضرت سید ابو ہاشم مدنی سے روحانی تربیت حاصل کی اور 1910ء میں یورپ و امریکہ جا کر تصوف، محبت، رواداری اور اخوتِ انسانی کا پیغام عام کیا، آپ کی تعلیمات اور تصانیف آج بھی روحانیت اور انسان دوستی کا اہم سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔

بولیے