Sufinama

ساکھی

مشہورسنتوں کی ساکھیوں کا بہتریں ذخیرہ۔ کبیر، دادو دیال اور دیگر سنتوں کی ساکھیوں کو پڑھیں۔

کبیر سنگت سادھ کی ہرے اور کی بیادھی

سنگت بری اسادھ کی آٹھو پہر اپادھی

کبیر

سنگتی بھئی تو کیا بھیا ہردا بھیا کٹھور

نو نیجا پانی چڑھئے تؤ نہ بھیجئے کور

کبیر

آسے پاسے جو پھرئے نپٹ پساوے سوے

کیلا سے لاگا رہئے تا کو بکھن نہ ہوئے

کبیر

برہ بھونگم پیٹھی کئے کیا کلیجے گھاؤ

بِرہِن انگ نہ موڑہے جیوں بھاوئے تیوں کھاو

کبیر

بن پانون کی راہ ہے بن بستی کا دیس

بنا پنڈ کا پروش ہے کہے کبیرؔ سندیس

کبیر

ہنسو تو دکھ نا بیسرئے روؤں بل گھٹی جائے

منہیں ماہیں بسرنا جیوں گھن کاٹھہں کھاے

کبیر

کاجر کیری کوٹھری ایسا یہ سنسار

بلہاری وا داس کی پیٹھی کے نکسنہار

کبیر

اتم پریت سو جانئے ستگرو سے جو ہوئے

گنونتا او دربیہ کی پریتی کرے سب کوئے

کبیر

پریم تو ایسا کیجیے جیسے چند چکور

گھینچ ٹوٹی بھئں ماں گرے چتوے واہی اور

کبیر

پریتم کو پتیاں لکھوں جو کہں ہوئے بدیس

تن میں من میں نین میں تا کو کہا سندیس

کبیر

ہردے بھیتر دو بلیں دھواں نہ پرگٹ ہوئے

جا کے لاگی سو لکھے کی جن لائی سوئے

کبیر

پریم پریم سب کوئ کہے پریم نہ چینہئے کوے

آٹھ پہر بھینا رہے پریم کہاوے سوئے

کبیر

نینوں کی کری کوٹھری پتلی پلنگ بچائے

پلکوں کی چک ڈاری کئے پیا کو لیا رجھائے

کبیر

ایکم ایکا ہون دے بنسن دے کیلاس

دھرتی عنبر جان دے مو میں میرے داس

کبیر

ہنس ہنس کنت نہ پائیا جن پایہ تن رویے

ہانسی کھیلے پیہ ملیں تو کون دہاگنی ہوئے

کبیر

پریتی اڑی ہے تجھ سے بہو بہو کنت

جو ہنس بولوں اور سے نیل رنگاؤں دنت

کبیر

کبیرؔ ناؤ ہے جھانجھری کورا کھیونہار

ہلکے ہلکے تِر گیے بوڑے جن سر بھار

کبیر

برہ جلنتی میں پھروں مو برہنی کو دکھ

چھانہ نہ بیٹھوں ڈرپتی مت جلی اٹھے روکھ

کبیر

کبیرؔ چندن کے نکٹ نیم بھی چندن ہوئے

بوڑے بانس بڑائیا یوں جانی بوڑو کوے

کبیر

انک بھری بھری بھینٹیے من نہیں باندھے دھیر

کہہ کبیرؔ تے کیا ملے جب لگی دوئے سریر

کبیر

سر نر تھاکے منی جنا تھاکے بسنو مہیس

تہاں کبیراؔ چڑھی گیا ست گرو کے اپدیس

کبیر

یہ تت وہ تت ایک ہے ایک پران دئ گات

اپنے جے سے جانئے میرے جئے کی بات

کبیر

کاجر کیری کوٹھری کاجر ہی کا کوٹ

بلیہاری وا داس کی رہئے نام کی اوٹ

کبیر

نام نہ رٹا تو کیا ہوا جو انتر ہے ہیت

پتبرتا پتی کو بھجئے مکھ سے نام نہ لیت

کبیر

جہاں پریم تہں نیم نہی تہاں نہ بدھی بیوہار

پریم مگن جب من بھیا تب کون گنئے تتھی بار

کبیر

گاگر اوپر گاگری چولے اوپر دوار

سُلی اوپر سانتھرا جہاں بلابئے یار

کبیر

لے کا لاہا لیجیے لے کی بھر لے بھار

لے کی بنیجی کیجیے لے کا ساہوکار

غریب داس جی

نام ابھے پد نرملا اٹل انوپم ایک

یہ سودا ست کیجیے بنیجی بنج الیکھ

غریب داس جی

اس ماٹی کے محل میں ناتر کیجئے مود

راؤ رنک سب چلیں گے آپے کوں لے سودھ

غریب داس جی

پنچھی اڑے آکاس کوں کت کوں کنہا گون

یہ من ایسے جات ہے جیسے بدبد پون

غریب داس جی

سیوک سیوا میں رہئے عنت کہوں نہی جائے

دکھ سکھ سر اوپر سہے کہہ کبیرؔ سمجھاے

کبیر

کال چکر چکی چلئے سدا دوس ارو رات

سگن اگُن دئ پاٹلا تا میں جیو پسات

کبیر

جل میں بسیں کمودنی چندا بسیں اکاس

جو ہے جا کا بھاوتا سو تاہی کے پاس

کبیر

جو جن برہی نام کے سدا مگن من ماہں

جیوں درپن کی سندری کنہوں پکڑی نانہیں

کبیر

سیوک سوامی ایک متی جو متی میں متی ملی جائے

چترائی ریجھیں نہیں ریجھیں من کے بھاے

کبیر

سب گھٹ میرا سائیاں سونی سیج نہ کوئے

بلہاری وا گھٹ کی جا گھٹ پر گٹ ہوئے

کبیر

نین ہمارے باورے چھن چھن لوڑے تجھ

نا تم ملو نہ میں سکھی ایسی بیدن مجھ

کبیر

کبیرؔ ریکھ سندر ارو کاجر دیا نہ جائے

نینن پریتم رمی رہا دوجا کہاں سماے

کبیر

ساتھی ہم رے چلی گیے ہم بھی چالنہار

کاگد میں باقی رہی تا تیں لاگو بار

کبیر

کبیرؔ ناؤ تو جھانجھری بھری برانے بھار

کھیوٹ سے پرچیہ نہیں کیونکر اترے پار

کبیر

یہ من تا کو دیجئے جو ساچا سیوک ہوئے

سر اوپر آرا سہے تہو نہ دوجا جوے

کبیر

دھرتی عنبر جایں گیں بنسیں گے کیلاس

ایکمیک ہوئ جاینگیں تب کہاں رہیں گے داس

کبیر

نینن تو جھری لائیا رہٹ بہے نسو باس

پپہا جیوں پیو پیو رٹے پیا ملن کی آس

کبیر

رام بلاوا بھیجیا دیا کبیراؔ روئے

جو سکھ سادھو سنگ میں سو بیکنٹھ نہ ہوئے

کبیر

صاحب صاحب کیا کرے صاحب تیرے پاس

سہس اکیسوں سودھی لے الٹ اپوٹھا سوانس

غریب داس جی

پھونک پھانک فارغ کیا کہیں نہ پایا کھوج

چیت سکئے تو چیتیے یہ مایہ کے چوج

غریب داس جی

کبیرؔ مارگ کٹھن ہے کوئی سکئے نہ جاے

گیا جو سو بہرئے نہیں کُسل کہے کو جائے

کبیر

کے آبے پیہ آپہی کئے موہں پاس بلائے

آئے سکوں نہں توہں پے سکوں نہ تججھ بلائے

کبیر

ہریا جانے روکھڑا جو پانی کا نیہ

سکھا کاٹھ نہ جان ہی کیتہو بوڑا میہ

کبیر

در در کریں تو باہرے تو تو کریں تو جائے

جیوں گرو راکھیں تیوں رہئے جو دیوئیں سو کھاے

کبیر