Font by Mehr Nastaliq Web

اے زائر_مدینہ

اسلم  لکھنوی

اے زائر_مدینہ

اسلم لکھنوی

MORE BYاسلم لکھنوی

    سردار انبیا سے میرا سلام کہنا

    سرتاج اولیا سے میرا سلام کہنا

    اللہ کے نبی کے روضے پہ جانے والے

    با شوق و با عقیدت سر کو جھکانے والے

    خوش قسمتی پہ اپنی اے مسکرانے والے

    سویا ہوا مقدر اپنا جگانے والے

    سرچشمۂ وفا سے میرا سلام کہنا

    محبوب کبریا سے میرا سلام کہنا

    روضہ کی جالیوں کا جب ہو تجھے نظارہ

    تیرا دل شکستہ پا جائے جب سہارا

    جب چمکے تیری قسمت بن کے فلک کا تارہ

    میری طرف سے ایسے ماحول میں خدا را

    سلطان انبیا سے میرا سلام کہنا

    اس جان مدعا سے میرا سلام کہنا

    سرکار کو مخاطب جس وقت بھی سمجھنا

    امت پہ ہو رہا ہے جو ظلم وہ سنانا

    اور بیکسوں کی حالت با چشم نم سنانا

    پھر چوم کر رسولؐ اکرم کا آستانا

    ہادی و رہنما سے میرا سلام کہنا

    عالم کے ناخدا سے میرا سلام کہنا

    یہ عرض کرنا دشمن عالم کی ہیں فضائیں

    طوفان غم سے کیوں کر اپنے کو ہم بچائیں

    اب ہم ہیں اور ہم پر اغیار کی جفائیں

    ظلم و ستم کی سر پر چھائی ہیں اب گھٹائیں

    پیغمبر خدا سے میرا سلام کہنا

    خورشید پر ضیا سے میرا سلام کہنا

    اور یہ بھی کہنا ہم میں پیدا ہو عزم و ہمت

    ماضیٔ گمشدہ کی مل جائے ہم کو دولت

    پامال ہوتے دیکھیں دنیائے کفر و بدعت

    ہر ایک لب پہ پھر ہوں نغمات عیش و عشرت

    سردار انبیا سے میرا سلام کہنا

    سرتاج اولیا سے میرا سلام کہنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے