بے سہاروں کے سہارے مصطفیٰ کو ہو سلام
بے سہاروں کے سہارے مصطفیٰ کو ہو سلام
رحمتِ عالم حبیبِ کبریا کو ہو سلام
حیدر و حسنین و زہرا آئے جس چادر تلے
المزمل شان والی اس ردا کو ہو سلام
جن کی عظمت کا بیاں ہے آیۂ تطہیر میں
اہل بیت پاک کی شانِ علیٰ کو ہو سلام
جس کا چہرہ دیکھنا بھی ہے عبادت وہ علی
مرتضیٰ مشکل کشا شیر خدا کو ہو سلام
تیری آمد پر ہوئے سر خم سبھی کے حشر میں
نور چشمِ مصطفیٰ تیری حیا کو ہو سلام
اے حسن تیری فراست پر ہو کل دانش نثار
راحتِ جانِ نبی تیری ذکا کو ہو سلام
جس کی دلجوئی کی خاطر ہو گیا سجدہ طویل
راکبِ دوشِ نبی کی اس ادا کو ہو سلام
تادمِ آخر رہا تجھ کو پیاسوں کا خیال
اے علمدارِ وفا تیری وفا کو ہو سلام
قاسم و عون و محمد اکبر و اصغر سبھی
غنچہ ہائے نازنین و دلربا کو ہو سلام
اکبر و اصغر کے لاشے دیکھ کر بھیگی نہ آنکھ
کربلا میں صبر کی اس انتہا کو ہو سلام
دیں بچانے کے لیے جب کر دیا کنبہ نثار
منبعِ جود و سخا تیری سخا کو ہو سلام
جان و مال و آل دے کر زندۂ جاوید ہیں
اے شہیدِ کربلا ایسی بقا کو ہو سلام
دیکھ کر نوکِ سناں پر سر تیرا بولے ملک
مرحبا سبطِ نبی تیری انا کو ہو سلام
زیرِ خنجر کی ادا شبیر نے ایسی نماز
سب عدو کہنے لگے حسنِ ادا کو ہو سلام
مصطفیٰ کی آل کا جو درد رکھتے ہیں جلیلؔ
تا قیامت ان غلاموں کی وفا کو ہو سلام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.