Font by Mehr Nastaliq Web

سلام اس پر کہ جو ہم صورت_وہم_راز_حیدر تھا

آرزو سہارن پوری

سلام اس پر کہ جو ہم صورت_وہم_راز_حیدر تھا

آرزو سہارن پوری

MORE BYآرزو سہارن پوری

    سلام اس پر کہ جو ہم صورت وہم راز حیدر تھا

    سلام اس پر جو دست و بازوئے سبط پیمبر تھا

    سلام اس پر کہ جو بحر شجاعت کا شناور تھا

    سلام اس پر جو ناز جرأت حمزہ و جعفر تھا

    سلام اس پر بنی ہاشم کا جس کو چاند کہتے تھے

    سلام اس پر کہ جس کا نام عباس دلاور تھا

    سلام اس پر کہ عالی تھا زمانے میں نسب جس کا

    سلام اس پر کہ سقائے سکینہ تھا لقب جس کا

    سلام اس پر جلال ہاشمی تھا جس کی فطرت میں

    سلام اس پر کہ شان حیدری تھا جس کی صورت میں

    سلام اس پر کہ جو حسن اعتبار قلب زینب تھا

    سلام اس پر کہ انس فاطمی تھا جس کی سیرت میں

    سلام اس پر علم کی شان اب تک جس سے قائم ہے

    سلام اس پر جواب اب تک نہیں جس کی شجاعت میں

    سلام اس پر کہ جو اک نور تھا برج فضیلت کا

    سلام اس پر کہ جو اک راز تھا قلب امامت کا

    سلام اس پر کہ دی شمع یقیں کی روشنی جس نے

    سلام اس پر کہ بخشا روح کو عیش خودی جس نے

    سلام اس پر جو صبر و شکر کی منزل کا رہرو تھا

    سلام اس پر کہ شانے کٹ گئے اور اف نہ کی جس نے

    سلام اس پر کہ ٹھوکر مار دی جس نے حکومت پر

    سلام اس پر نہ بدلی فقر سے شاہنشہی جس نے

    سلام اس پر جو خضر منزل ایمان و ایقاں تھا

    سلام اس پر جو نباض مزاج اہل عرفاں تھا

    سلام اس پر جو وارث تھا امیر ہفت کشور کا

    سلام اس پر جو ناظم تھا علوم حق کے دفتر کا

    سلام اس پر کہ جس کا آج تک ثانی نہیں کوئی

    سلام اس پر کہ جس میں زور تھا نفس پیمبر کا

    سلام اس پر کہ بار غم اٹھایا جس نے خوش ہو کر

    سلام اس پر کہ جو غم خوار تھا زہرا کی دلبر کا

    سلام اس پر کہ دشمن کانپتے تھے جس کی ہیبت سے

    سلام اس پر فرات اب تک ہے لرزاں نام سے جس کے

    سلام اس پر جفا سے بڑھ کے ٹھکرا دی وفا جس نے

    سلام اس پر ہلا دی سرزمین کربلا جس نے

    سلام اس پر سنواری زلف تسلیم و رضا جس نے

    سلام اس پر نہ سمجھا کوئی بھی جس کا مقام اب تک

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد گیارہویں (Pg. 37)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے