Font by Mehr Nastaliq Web

در_نبی پہ اے جانے والو مرا بھی ان سے پیام کہنا

نا معلوم

در_نبی پہ اے جانے والو مرا بھی ان سے پیام کہنا

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    در نبی پہ اے جانے والو مرا بھی ان سے پیام کہنا

    جو پہنچو تم جالیوں کے آگے درود کہنا سلام کہنا

    نہ جانے آئے گا کب بلاوا نہ جانے کب ہوگی پھر حضوری

    حضور فرقت میں آپ کی اک تڑپ رہا ہے غلام کہنا

    اٹھی ہیں طیبہ کی اور آنکھیں کہ اشک ان میں مچل رہے ہیں

    بیان کرنا مری یہ حالت یہ قصۂ غم تمام کہنا

    سنا ہے خود آپ ہیں بلاتے سنا ہے قسمت بھی ہیں جگاتے

    حضور میرے کرم بھی جاگیں کہ خود ہی ہو انتظام کہنا

    اگر نہ ہو ساتھ ان کی رحمت اگر کرم نہ ہو ان کا شامل

    نہ اٹھ سکوں گا اگر گرا تو نہ چل سکوں گا دو گام کہنا

    بہ روز محشر ملے شفاعت وہاں پہ ڈھونڈیں گے سب سہارے

    مرے لبوں پر رہے گا جاری حضورؐ کا یہ نام کہنا

    سنا جو خیرات کا تو ارسلؔ میں لے کے کشکول آ گیا ہوں

    ہے تیرے اس میکدے کا چرچا پلا دو ہاتھوں سے جام کہنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے