جہاں تک ہے نظر جس کی وہاں تک جلوہ_گر سہرا
دلچسپ معلومات
سہرا بموقعۂ تقریبِ نکاح خواجہ شاہ شاہد حسین نقشبندی (سجادہ نشیں : بارگاہ حضرت عشق، تکیہ شریف، پٹنہ) سالِ نکاح : 1362ہجری
جہاں تک ہے نظر جس کی وہاں تک جلوہ گر سہرا
ہے اپنے حسن کی وسعت میں تا حد نظر سہرا
قریب زلف سونے کی کرن ہے رہنما دل کی
سواد شام میں ہے جلوۂ نور سحر سہرا
اسی حسن آدب نے سرفرازی اس کو بخشی ہے
تمہاری پائے پوشی کو جھکا ہے کس قدر سہرا
فروغ حسن دیکھا حسن کا اعجاز بھی دیکھا
چپک جاتی ہیں آنکھیں دل میں آتا ہے نظر سہرا
مبارک ہو شہ شاہد حسین با جفا تم کو
یہ شادی جشن غازی تخت شادی تاج سر سہرا
یہ ہے مقصودؔ سال تہنیت کا مصرع روشن
سواد شام میں ہے آمد نور سحر سہرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.