سہرا
سہرا اکثر پھولوں کا یا سنہری تاروں کا ہوتا ہے جو دلہے کے سر پر باندھا جاتا ہے، اس کی لٹکنے دلہے کے چہرے پر لٹکتی رہتی ہیں اور ان سے دلہے کا چہرا چھپا ہوتا ہے، صوفی خانقاہوں میں جب کسی سجادہ نشیں کی شادی ہوتی ہے تب قوال سہرا پڑھتے ہیں۔
داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں
ادبی میدان میں ایک انفرادی رنگ کے مالک، مایۂ ناز شاعر اور ہر دل عزیز صاحب تصنیف و تالیف تھے
معروف نعت گو شاعر اور ’’بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ‘‘ کے لیے مشہور
اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔
آگرہ کے معروف ادیب و شاعر اور خانقاہ نیازیہ، آگرہ کے سابق سجادہ نشیں