Font by Mehr Nastaliq Web

بھارت کے شاعر اور ادیب

کل: 2674

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی تھے، غزل آپ کی محبوب صنف تھی، تاہم نثر نگاری اور ادارت میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی اہم تصانیف میں تیرِ نظر، شعلۂ رنگیں، فردوسِ سخن، بہارِ غم اور رموزِ سخن شامل ہیں۔

خاندانِ مجیبی میں سب سے زیادہ وسیع الدرس عالم اور شاہ نعمت اللہ قادری کے مرید و مجاز

بہرائچ کی تاریخ مرتب کرنے میں سرگرم

جگل پریا

1928 - 1978

عظیم آباد کے مایۂ ناز شاعر

اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر

اردو کے شاعر تھے جنہوں نے خود آموزی اور شعری ریاضت کے ذریعے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے رام بہادر لعل جویا آنولوی سے اصلاحِ سخن لی جبکہ ان کی اہم تصانیف میں "بادۂ تاثرات"، "کیفِ سرمدی"، "نعت و مناقب" اور "آتشِ خاموش" شامل ہیں۔

اردو کے شاعر تھے جنہوں نے غزل کے ساتھ نعت اور سلام بھی کہے، جن میں اہلِ بیت اور بارگاہِ رسالت سے عقیدت نمایاں ہے۔

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لیے معروف

اردو کے ممتاز شاعر تھے، ان کا تعلق بسواں، سیتاپور کے ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا اور شاعری کا ذوق انہیں اپنے والد شیخ امیر علی جزاؔ سے ورثے میں ملا، انہوں نے امیر مینائی کی شاگردی اختیار کی جس سے ان کے فن کو پختگی حاصل ہوئی، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت، زبان کی شستگی اور جذبات کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔

اٹھارہویں صدی کے ممتاز اردو شاعر تھے، وہ دہلی کی کلاسیکی شعری روایت سے وابستہ تھے اور خواجہ میر درد کے شاگرد ہونے کے باعث ان کے کلام میں سادگی، سوز، تصوف اور وارفتگی کی دل آویز جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

جے دیو

1170 - 1245

بارہویں صدی کے نامور سنسکرت شاعر اور بھکتی روایت کی ممتاز شخصیت تھے جو لکشمن سین کے دربار کے "پانچ جواہرات" میں شمار ہوتے تھے، ان کی شہرۂ آفاق تصنیف "گیت گووند" رادھا اور کرشن کے روحانی عشق پر مبنی سنسکرت ادب کا لازوال شاہکار ہے، جس نے ہندوستانی موسیقی، رقص اور بھکتی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

اردو کے ممتاز محقق، نقاد، شاعر اور ماہرِ دکنی ادب تھے، "شعلۂ تشنگی" اور "ایک تبسم ایک نظر" ان کے اہم شعری مجموعے ہیں جبکہ دکنی ادب کی تحقیق و تدوین میں ان کی خدمات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔

بھارت کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار اور منظر نویس ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر تھے، جن کا تعلق سندیلہ، ہردوئی سے تھا، انہوں نے 1905ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا، ابتدا میں میر منصب علی سندیلوی اور بعد ازاں آرزو لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری سرمایہ "کلیاتِ جوان" اور "رباعیاتِ جوان خوش رنگ" کی صورت میں شائع ہوا جو ان کے پختہ شعری ذوق اور فنی مہارت کا آئینہ دار ہے۔

اردو و فارسی کے صوفی مزاج شاعر تھے جن کے کلام میں عرفان و معرفت کا رنگ نمایاں ہے۔

بہرائچ کے ممتاز صوفی شاعر تھے جنہوں نے سلسلۂ وارثیہ کی روحانی روایت کو اپنی شاعری میں مؤثر انداز سے پیش کیا، حاجی وارث علی شاہ سے قلبی عقیدت اور روحانی وابستگی نے ان کے کلام کو عشقِ الٰہی، تصوف اور عرفان کے رنگ سے آراستہ کیا جو ان کی ادبی شناخت کا نمایاں وصف ہے۔

شیخ پورہ میں اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے۔

نور نوحی کے صاحبزادے اور بزم نور ، آرہ کے سرپرست

حضرت مولانا امجد برہان پوری کے صاحبزادے

اردو کے ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، اظہار حسین خاں رامپوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی اور 1940ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" 1986ء میں شائع ہوا جبکہ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول اور حسنِ بیان کے باعث خاص شہرت رکھتی ہے۔

شاہ اکبر داناپوری کے شاگرد رشید

حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری

طرزِ ہندی کے ممتاز فارسی شاعر تھے جنہوں نے شاہجہاں کے دربار میں قصیدہ نگاری اور "ظفرنامۂ شاہجہاں" کے ذریعے شہرت حاصل کی۔

افقر موہانی کے شاگرد رشید

اردو کے نعت گو شاعر اور محکمۂ عدلیہ سے وابستہ ایک دیانت دار افسر تھے، آپ نے الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور 1973ء میں ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، آپ کی شاعری حمد، نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے جس میں عشقِ رسول اور دینی عقیدت نمایاں ہے۔

بریلی کے ممتاز نعت گو شاعر، واعظ اور مصنف تھے، آپ کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی، جنہوں نے آپ کو "مداح الحبیب" کا خطاب عطا فرمایا، آپ اپنی مشہور نعتیہ غزل "میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد" کی وجہ سے آج بھی اہلِ عشقِ رسول میں یاد کیے جاتے ہیں۔

اردو کے معاصر شاعر اور ادیب ہیں، آپ نے 1970ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور 1973ء میں ادبی جریدہ "گونج" جاری کیا۔ مغنی صدیقی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، آپ کے معروف شعری مجموعوں میں "سلگتے خواب"، "تجدیدِ آرزو" اور "صبرِ جمیل" شامل ہیں۔

جمیل احمد جمیل مرصع پوری 15؍ جولائی 1931ء کو پریاواں کے ایک گاؤں مرصع پور میں پیدا ہوئے جو پرتاب گڑھ میں مانک پور سے قریب ہے۔ مدرسہ اسلامیہ مرصع پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کے استاد انجم فوقی بدایونی تھے۔ ملک کے سرکردہ شعراء نے ان کے زمانے میں ان کی طرح ممبئی کا رخ کیا۔ شکیل، مجروح اور علامہ آرزو لکھنوی کی صحبت ملی۔ جس میں ان کا شاداب ہونا ضروری تھا ان دنوں 72سال کے ہونے کے باوجود شعر گوئی ترک نہیں کی۔ آج بھی ممبئی کی ادبی محفلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ حال ہی میں جمیل صاحب کا شعری مجموعہ ’’بے نام سی خوشبو‘‘ شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے کلام کا انتخاب شائع کیا ہے۔ مختصر ہی سہی مجموعے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا پیش لفظ اردو ادب کے ممتاز شاعر قیصرالجعفری اور محقق و ناقد پروفیسر مجاہد حسین حسینی نے لکھا ہے۔ ان کی سچی اور کھری شاعری کا اعتراف انجم صاحب نے بھی اپنی تحریر میں کیا ہے۔ جمیل مرصع پوری کی شاعری تکلف اور تصنع سے بھی پاک ہے جیسے وہ خود ہیں۔ جمیل احمد جوانی میں بہت خوبصورت تھے۔ ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ اس وجہ سے دوستوں میں اکثر ان کے حاسد تھے۔ بڑے شعراء کے درمیان ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا اس لئے بھی سرخرو تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے اخلاص و محبت سے ملتے ہیں۔ مشاعرے اور ادبی پروگرام کراتے رہتے ہیں۔ ہر سال علامہ اقبال کی برسی مناتے ہیں۔ جس میں ممبئی اور اس کے اطراف کے بڑے بڑے شعراء اور ادباء شرکت کرتے ہیں۔ آوارہ سلطان پوری کے پڑوسی اور دوستوں میں تھے۔ جمیل مرصع پوری کہتے ہیں: ’’اردو کی ترقی کے لئے جدوجہد کرنا بڑا اہم کارنامہ ہے ورنہ اس عمر میں تو عموماً تھک ہار کر سوجاتے ہیں‘‘۔ پیشے کے اعتبار سے بھی وہ فن کارڈیزائنر ہیں۔ اب زیادہ عمر کی وجہ سے اپنا کام نہیں کر پاتے ہیں۔ ندیم صدیقی ان کے صاحبزادوں میں سے ہیں۔ جو ادبی دنیا میں کافی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ شکیل بدایونی سے کافی قریب رہے شکیل کی غریبی کا زمانہ بھی جمیل صاحب کو اچھی طرح یاد ہے۔ آج بھی مشاعرے میں پڑھتے ہیں اور نئی نسل کے شعراء ان کے اشعار بڑے احترام سے سنتے ہیں اور داد دیتے ہیں کیوں کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ چلنا سیکھا ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر، مرثیہ نگار اور ماہرِ فارسی تھے، وحشت کلکتوی کے شاگرد رہے اور بعد ازاں پٹنہ یونیورسٹی میں اردو و فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے، ان کے معروف شعری مجموعوں میں "عرفانِ جمیل"، "فکرِ جمیل" اور "وجدانِ جمیل" شامل ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں شعر گوئی کا آغاز کیا، آپ بنارس کے علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھے، اردو و فارسی پر عبور رکھتے تھے اور شیخ عبدالغنی سے اصلاحِ سخن حاصل کی۔

جمبیھشور

1451 - 1536

راجستھان کے عظیم سنت، یوگی اور بشنوئی پنتھ کے بانی تھے، انہوں نے عدمِ تشدد، فطرت کے تحفظ، جانداروں سے محبت اور پاکیزہ زندگی کا پیغام دیا اور اپنے پیروکاروں کے لیے 29 اصول مقرر کیے، ان کی تعلیمات "شبدوانی" کے نام سے معروف ہیں اور آج بھی ماحولیاتی تحفظ اور اخلاقی زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

جمال

1568 - 1593

دوہے کہنے کے لئے مشہور

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔

بہترین نظم گو شاعر

حیدرآباد کے ممتاز صوفی شاعر تھے، آپ اپنی شاعری میں تصوف، معرفت اور عشقِ الٰہی کو نمایاں مقام دیا، "فانوسِ خیال" آپ کا معروف اردو دیوان ہے، جبکہ فارسی میں بھی ایک دیوان یادگار چھوڑا۔

بنگال کے اولین صوفی، شیخ ابو سعید تبریزی کے مرید اور شیخ شہاب الدین سہروردی کے خلیفہ، جنہوں نے تصوف کی گہری تعلیمات اور سہروردی سلسلے کی روحانی وراثت کو بنگال میں پھیلایا۔

سترہویں صدی کے ممتاز عالمِ دین، صوفی اور فارسی شاعر تھے، فارسی شاعری میں رضا تخلص اختیار کرتے تھے، شاہ جہاں نے آپ کی علمی فضیلت کے اعتراف میں انہیں صدرالصدور کے منصب پر فائز کیا۔

بولیے