Sufinama

جب میں بھولا رے بھائی

کبیر

جب میں بھولا رے بھائی

کبیر

MORE BYکبیر

    جب میں بھولا رے بھائی

    میرے ستگرو جگت لکھائی

    کریا کرم ادھار میں چھانڑا چھانڑا تیرتھ کا نہانا

    سگری دنیا بھئی سیانی میں ہی اک بورانا

    نا میں جانوں سیوا بندگی نا میں گھنٹ بجائی

    نا میں مورت گھری سنگھاسن نا میں پہپ چڑھائی

    نا ہری ریجھے جپتپ کینہے نا کایا کے جارے

    نا ہری ریجھے دھوتی چھانڈے نا پانچو کے مارے

    دیا راکھی دھرم کو پالے جگ سو رہے اداسی

    اپنا سا جِب سب کو جانے تاہی ملے انیواسی

    سہے کوشبد بعد کو گیاگے چھانڈیے گرو گمانا

    ست نام تاہی کو ملہے کہے کبیرؔ سجانا

    میرے بھائی، مجھ سے جب بھول ہوئی تو میرے ست گرو نے میری رہنمائی کی۔ میں نے ظاہری عبادت کو ترک کر دیا، تیرتھ اشنان بھی چھوڑ دیا۔ ساری دنیا سیانی ہو گئی، ایک میں ہی دیوانہ قرار پایا۔ نہ تو میں بندگی جانتا ہوں، نہ گھنٹا بجاتا ہوں، نہ میں سنگھاسن پر مورت بٹھاتا ہوں اور نہ اس پر پھول چڑھاتا ہوں۔ جاپ اور تپسیا کرنے سے ہری نہیں ریجھتا اور نہ جسم کو جلانے سے راضی ہوتا ہے۔ کپڑے اتار دینے سے اور پانچوں حواس کو قتل کر دینے سے پری کی خوشنودی حاصل نہیں ہوتی۔ جس کے دل میں رحم ہے، جو متقی اور پرہیزگار ہے، جو دنیا میں رہ کر دنیا سے اداس رہتا ہے، اور دنیا کے ہر ذی حیات کو اپنی طرح جانتا ہے۔ اس کا لافانی (بھگوان) ملتا ہے ست گرو اسی کو ملتے ہیں۔ کبیرؔ دانشمند ہیں اور کہتے ہیں کہ ست نام صرف اس کو ملتا ہے جو گالیاں کھا لیتا ہے اور غرور کو ترک کر دیتا ہے۔

    (ترجمہ: سردار جعفری)

    مأخذ :
    • کتاب : کبیر سمگر (Pg. 776)
    • Author :کبیر
    • مطبع : ہندی پرچارک پبلیکیشن پرائیویٹ لیمیٹید، وارانسی (2001)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY