Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

शाह नबी रज़ा

- 1911 | लखनऊ, भारत

शाह नबी रज़ा के सूफ़ी उद्धरण

श्रेणीबद्ध करें

پیر کہلانے کا مستحق وہ ہے جو بے طبع ہو اور سچا مرید وہ ہے جو پیر کے مقابلہ میں جان تک دینے سے دریغ نہ کرے۔

آدمی کو ہر حال میں خدا سے ڈرنا چاہیے، سینہ کو کدورت و کینہ سے صاف رکھے، دوسروں کو اذیت نہ پہنچائے اور تکلیف کے مصائب خندہ پیشانی سے برداشت کرے۔

حلال روزی کھانا صدق مقال یعنی سچ بولنا مقام سلوک میں بہت ضروری چیز ہیں، دنیا کا اختصار بہتر ہے اور دنیا کو رفع حاجت کی جگہ سے زیادہ وقعت نہ دی جائے۔

نامحرم عورتوں اور امرد لڑکوں کی صحبت سے سخت پرہیز ہونا چاہیے بلکہ ان کے قریب بھی نہ جانا چاہیے، اس میں اگر احتیاط نہ ہوگی تو فساد کا قوی احتمال ہے۔

ہمیشہ سچائی اختیار کرنا چاہیے کیوں کہ صدیقوں کا بڑا مرتبہ ہے اور اگر لغزش ہوجائے تو فوراً عاجزی گریہ و زاری کے ساتھ توبہ کرنا چاہیے کہ عاصی بندوں کا یہی کام ہے اور جو گناہ سے توبہ نہیں کرتا وہ شیطان ملعون کے زمرے سے ہے۔

کم خفتن کم گفتن کی عادت ہونی چاہیے کیوں یہ بزرگانِ دین کا طریقہ رہا ہے اور اس کے بڑے فائدے ہیں، راستوں اور بازاروں میں کھانا کھانے سے بے حیائی پیدا ہوتی ہے۔

سعادت کی نشانیاں یہ ہیں کہ آدمی کا دل نرم ہو، دنیا سے نفرت ہو، آرزو اس کی تھوڑی ہو، اپنے گناہوں پر شرمندہ رہے اور اس کے برعکس شقاوت کی نشانی یہ ہے کہ اس کا دل سخت ہو، نامہربان و بے رحم ہو، دنیا کی رغبت بہت زیادہ ہو اور آرزو اس کی کشادہ ہو اور وہ بے غیرت و بے حیا ہو۔

حضرت محمد رسول اللہ کی محبت اور تعظیم و توقیر کی ہدایت ہے، لہٰذا حضور کی محبت ادب و تعظیم امتی اپنے اوپر لازم و ضروری سمجھے اور اس میں کوئی فرق نہ ہونے دے۔

معرفتِ خداوندی کے لیے بجز راہِ محمدی کے کوئی راستہ نہیں ہے کیوں کہ بعثتِ رسالت کے بعد تمام مذاہب کی تنسیخ ہوچکی ہے۔

ساداتِ کرام و مشائخ کے آداب کو ملحوظ رکھے، سالک کو فنائے کلی حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور اوقاتِ و معمولات مشائخ عظام کا پابند رہنا چاہیے۔

بندہ کو چاہیے کہ حلال روزی کا ذریعہ تلاش کرے کیوں کہ حلال لقمہ سے جو خون بنتا ہے وہ دلوں کو پاک و صاف بنا دیتا ہے، اگر خدا حلال روزی کا ذریعہ عطا فرمائے تو چاپیے کہ اس کا شکر بجا لائے اور اپنی حلال کمائی میں سے مستحقوں پر بھی صرف کرے بخیل نہ بنے۔

شریعت کے خلاف چلنے والا فقیر اگر ہمارے سامنے آسمان تک پرواز کرے تب بھی ہم اس کے قائل نہیں۔

معرفتِ خداوندی کی حصول کے لیے پیر و مرشد کی گرفت مضبوط ہونا چاہیے بغیر اس کے چارہ نہیں، جیسی گرفت ہوگی ویسا ہی جلد یا بدیر فائدہ ہوگا اور راہِ سلوک میں ذکر قلبی و مراقبہ دونوں رہبر ہیں، دونوں کو لازم خیال کرنا چاہیے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

बोलिए