Sufinama

خدا پر اشعار

خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی

فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے

مضطر خیرآبادی

خدا کا شکر ہے پیاسے کو دریا یاد کرتا ہے

مسافر نے فراہم کر لیا ہے کوچ کا ساماں

نازاں شعلہ پوری

اے بتاں محترم رکھو اس کو

کہتے ہیں خانۂ خدا دل کو

بیدار میر محمد

ہمیں دیر و کعبہ خدا و صنم

ہمیں صاحب خانہ گھر بھی ہمیں

بے نظیر شاہ وارثی

جنون عشق کی نیرنگیاں ارے توبہ

کبھی خدا ہوں کبھی بندۂ خدا ہوں میں

بیدم شاہ وارثی

وہاں بھی کر لیا سجدہ خدا کو

کوئی جب راہ میں بت خانہ آیا

افقر موہانی

کہوں کیا خدا جانتا ہے صنم

محبت تری اپنا ایمان ہے

خواجہ میر اثر

خدا کو یاد کر کیوں ملتجی ہے کیمیا گر سے

کہ سونا خاک سے ہوتا ہے پیدا لعل پتھر سے

بحر لکھنوی

تمہارا درد ہے سرمایۂ حیات مرا

خدا کرے کہ یہ ہو لا دوا غریب نواز

کامل شطاری

کوئی دنیا میں نہیں آیا ہمیشہ کے لیے

بس خدا کا نام ہی نام خدا رہ جائے گا

پرنم الہ آبادی

یا خدا اکبرؔ کی کشتی کو نکال

تو ہی اس بیڑے کا کھیون ہار ہے

شاہ اکبر داناپوری

دل دیا جان دی خدا تو نے

تیرا احسان ایک ہو تو کہوں

کوثرؔ وارثی

ہمیں خدا کے سوا کچھ نظر نہیں آتا

نکل گئے ہیں بہت دور جستجو کرتے

ریاض خیرآبادی

مجھے قتل کر دیا بے خطر نا کیا ذرا بھی خدا کا ڈر

تیرے عشق میں یہ ملا ثمر نا ادھر کا رہا نا ادھر کا رہا

شمس صابری

چلو آؤ کاوشؔ کہ کاندھا لگائیں

علی کی خدا نے اٹھائی ہے ڈولی

دل چرایا ہے مرا کس نے خدا ہی جانے

نام لیتا ہے کوئی بے ادبانہ تیرا

کیفی حیدرآبادی

جی اب کے بچا خدا خدا کر

پھر اور بتوں کی چاہ کرنا

خواجہ میر اثر

خدا حافظ ہے اس گل کی کمر کا

غضب جھونکے چلے باد سحر کے

آسی غازیپوری

نہ کور باطن ہو اے برہمن ذرا تو چشم تمیز وا کر

خدا کا بندہ بتوں کو سجدہ خدا خدا کر خدا خدا کر

امیر مینائی

مری تربت پہ خود ساقی نے آ کر یہ دعا مانگی

خدا بخشے بہت اچھی گزاری مے پرستی میں

مضطر خیرآبادی

''اپنی آنکھوں میں تجھ کو دیکھوں

ایسا بھی کبھو خدا کرے گا''

بیدار میر محمد

جب خدا سے لو لگائی جائے گی

پھر دعا کب کوئی خالی جائے گی

سنجر غازیپوری

آپ کے فیض سے بہر فضل خدا

موجزن موجزن موجزن ہو گیا

اکبر وارثی میرٹھی

چلو آؤ کاوشؔ کہ کاندھا لگائیں

علی کی خدا نے اٹھائی ہے ڈولی

بے خودی گر ہو خود تو آ کے ملے

اے خدا بے خودی عجب شے ہے

عبدالرحمٰن احسان دہلوی

خدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں

میرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں

آسی غازیپوری

مجھ کو خدا سے آشنا کوئی بھلا کرے گا کیا

میں تو صنم پرست ہوں میرا کوئی خدا نہیں

فنا بلند شہری

کیا ہے گرچہ نا خوش تو نے ہم کو

رکھے پر اے بتاں تم کو خدا خوش

بیدار میر محمد

مرا ایک سجدہ تو ہو چین کا

خدا ہی جو ٹھہرا خود آ جائے نا

کامل شطاری

ترے کوچے کی ہو جائے تو اچھا

خدا جانے یہ مٹی ہے کہاں کی

میکش اکبرآبادی

دوئی جا کے رنگ صفا رہ گیا

خودی مٹتے مٹتے خدا رہ گیا

مضطر خیرآبادی

اب تو میں راہرو ملک عدم ہوتا ہوں

ترا ہر حال میں حافظ ہے خدا میرے بعد

مولانا عبدالقدیر

دولت عشق خدا حاصل ہو گر

کچھ نہیں اچھا دگر اس کار سے

کشن سنگھ عارف

ڈھونڈھے اسرار خدا دل نے جو اندھا بن کر

رہ گیا آپ ہی پہلو میں معمہ بن کر

امداد علی علوی

جاتا ہے مرے گھر سے دل دار خدا حافظ

ہے زندگی اب مشکل بے یار خدا حافظ

بیدار میر محمد

نہیں یارو خدا ہرگز تمہارے سوں جدا ہے گا

جدھر دیکھے ادھر مملو سدا نور خدا ہے گا

تراب علی دکنی

مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں

انہیں اعتباروفا تو ہے مجھےاعتبارستم نہیں

شکیل بدایونی

خیال یار سلامت تجھے خدا رکھے

ترے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی

جگر مرادآبادی

تم سلامت رہو قیامت تک

اور قیامت خدا کرے کہ نہ ہو

مضطر خیرآبادی

صورت پرست و راج پرست و صنم پرست

معنی میں دیکھئے تو سبھی ہیں خدا پرست

خواجہ رکن الدین عشقؔ

ان کو بت سمجھا تھا یا ان کو خدا سمجھا تھا میں

ہاں بتا دے اے جبین شوق کیا سمجھا تھا میں

بہزاد لکھنوی

نہ کور باطن ہو اے برہمن ذرا تو چشم تمیز وا کر

خدا کا بندہ بتوں کو سجدہ خدا خدا کر خدا خدا کر

امیر مینائی

خراب دونوں جہاں میں ہے مبتلا اس کا

خدا کا قہر بتوں کا جمال ہے کہ نہیں

جوش ملیح آبادی

وہ خدائی کے لٹائے جو خزانے کم ہے

میر عثمان علی خان کو خدا دیتا ہے

ریاض خیرآبادی

مصلحت یہ ہے خودی کی غفلتیں طاری رہیں

جب خودی مٹ جائے گی بندہ خدا ہو جائے گا

سیماب اکبرآبادی

جس پہ تیری نظر نہیں ہوتی

اس کی جانب خدا نہیں ہوتا

جگر مرادآبادی

خدا حافظ اب دل کی خود داریوں کا وہ آتے نہیں ان کو لانا پڑےگا

محبت سے مجبور ہوں، کیا بتاؤں انہیں کیسے کیسے منانا پڑےگا

کامل شطاری

دل ہے وہی دل جس میں بھرا نور خدا ہو

سر ہے وہی جو کعبۂ تسلیم و رضا ہو

ابراہیم عاجزؔ

قناعت دوسرے کے آسرے کا نام ہے مضطرؔ

خدا ہے جو کوئی حد توکل سے نکل آیا

مضطر خیرآبادی

ان بتوں کے لئے خدا نہ کرے

دین و دل یوں کوئی بھی کھوتا ہے

خواجہ میر اثر

متعلقہ موضوعات