Font by Mehr Nastaliq Web
Abul Hassan Kharqani's Photo'

अबुल हसन ख़रक़ानी

963 - 1033 | सेमनान, ईरान

अबुल हसन ख़रक़ानी के सूफ़ी उद्धरण

4
Favorite

श्रेणीबद्ध करें

जिसे ख़ुदा हिदायत दे, उस के लिए रास्ता मुख़्तसर कर दिया जाता है।

सब से बड़ी इबादत ख़ुदा का ज़िक्र और याद है। इस के बाद ज़िन्दगी की पाकीज़गी, सदक़़ा और ज़ुह्द आते हैं।

यह पर्दे ही हैं जो माज़ी, हाल और मुस्तक़बिल के वक़्त को तुम्हारी नज़रों से छुपा देते हैं। जब यह पर्दे हटा दिए जाएँ, तो सब कुछ नज़र आता है।

दीदार-ए-इलाही ऐसा है कि जब नसीब हो जाए तो चौबीसों घंटे उसके सिवा कुछ दिखाई नहीं देता।

जो व्यक्ति ख़ुदा के लिए अपनी इज़्ज़त को क़ुर्बान कर देता है, ख़ुदा उसे अपनी इज़्ज़त का ख़िलअत पहना देता है।

जब रब किसी बंदे को राह-ए-हक़ पर लगा देता है, तो वह मक़ाम-ए-तौहीद में उसके साथ सुकूनत इख़्तियार कर लेता है और उस के हाल से ख़ुदा के सिवा कोई वाक़िफ़ नहीं होता।

सूफ़ी को सूरज या चाँद के नूर की हाजत नहीं होती, क्योंकि उस के साथ रब का जलवा होता है, जो तमाम सय्यारों के नूर से ज़्यादा रौशन होता है।

राह-ए-हक़ में सिर्फ़ खुदा होता है और खुदा के सिवा कुछ नहीं।

जो कोई ख़ुदा के फ़ज़्ल से उसे देखता है, वह मख़लूक़ को नहीं देखता। जो दीदार-ए-इलाही को पा लेता है, वह ख़ुद को भूल जाता है।

खुदा अपना ग़म उस शख़्स पर नाज़िल करता है, जो रौशनदिल होता है।

सूफ़ी को सूरज की रौशनी की ज़रूरत है और चाँदनी की, क्योंकि रब की फ़ितरत उस के साथ है और रब की फ़ितरत तमाम सितारों से भी ज़्यादा रौशन है।

اگر رب کا ایک قطرہ فیض بھی نصیب ہو جائے تو نہ دنیا کی کوئی چاہ باقی رہتی ہے نہ کسی سے بات کی حاجت نہ کسی کی سننے کی خواہش۔

کسی سائل کو در سے خالی نہ لوٹاؤ، کچھ نہ کچھ ضرور دو، چاہے اس کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

ہر کوئی چاہتا ہے کہ دنیا سے کچھ ساتھ لے جائے مگر اس راہِ ابدی میں صرف فنا فی اللہ یعنی نفس کی نفی ہی گزر پاتی ہے۔

ایک بندۂ مؤمن کا سب سے بہترین لقب عبداللہ یعنی رب کا بندہ ہے۔

اگر کسی قوم میں ایک شخص بھی معرفت و قربِ الٰہی پا لے تو خدا اس کے صدقے پوری قوم کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔

روحانیت کی آخری تین منزلیں یہ ہیں۔

پہلی بندہ اپنے آپ کو ویسا جانے جیسا خدا جانتا ہے۔

دوسری بندہ خدا کا ہو جائے اور خدا اس کا۔

تیسری بندہ خود سے مٹ جائے اور صرف وہی باقی رہے۔

دنیا میں آنکھوں کے آنسو برداشت کرو تاکہ آخرت میں مسکراہٹ نصیب ہو۔

راہِ حقیقت میں ایک قدم بھی خدا کی مدد کے بغیر کامیابی سے نہیں اٹھایا جا سکتا، انسان اپنی ذاتی کوشش اور محنت سے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

جب بندہ رب کا نام لیتا ہے، زبان اتنی جل جاتی ہے کہ پھر وہ اسے دوبارہ نہیں کہہ سکتی، اگر زبان پھر سے وہی نام دہراتی ہے تو دراصل وہ اس کی حمد بیان کر رہی ہوتی ہے۔

دنیا کے لوگ اپنی تقدیر میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے وہی پاتے ہیں مگر ولی وہ کچھ پاتا ہے جو اس کی تقدیر کی تحریر میں نہیں ہوتا۔

خدا کے کچھ عقیدت مند بندے ایسے ہیں جو اس کے محبوب ہیں، جب وہ اس کا نام لیتے ہیں تو ہوا کے پرندے اور جنگل کے جانور خاموش ہو جاتے ہیں، آسمان کے فرشتے لرز اٹھتے ہیں اور زمین و آسمان روشن ہو جاتے ہیں، ان کے زبان سے نامِ الٰہی کا اتنا جلال ہوتا ہے کہ زمین تک لرز اٹھتی ہے۔

خدا کی محبت اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے جس کا دل اس کی محبت میں جل کر راکھ ہو جائے۔

روحانی مشقیں اس وقت تک کرتے رہو جب تک روحانی مشقیں خود تمہیں ترک نہ کر دیں۔

جتنا زیادہ تم اپنے استاد کی خدمت کرو گے، اتنا ہی تم روحانی طور پر بلند ہو گے۔

دنیا میں چیزیں پہلے تلاش کی جاتی ہیں اور پھر حاصل کی جاتی ہیں مگر خدا سب سے پہلے ملتا ہے پھر اسے تلاش کیا جاتا ہے۔

جب خدا کا بندہ عدم (نستی) میں مقیم ہوتا ہے، تو وہ خدا کی موجودگی کے لباس سے آراستہ ہوتا ہے۔

جب لوگ اخلاص کے ساتھ رب کو تلاش کرتے ہیں اور خود کو بھول جاتے ہیں، تب خدا ملتا ہے۔

خدا کے بعض دوست دنیا میں بیٹھے بیٹھے لوحِ تقدیر کو پڑھ سکتے ہیں۔

خدا کو اپنے ساتھ دیکھنا فنا ہے اور خدا کو صرف دیکھنا اور اپنے آپ کو نہ دیکھنا بقا ہے۔

اگر اپنی زندگی میں ایک مرتبہ بھی تم نے خدا کو تکلیف پہنچائی ہو، تو تمہیں اپنی پوری زندگی اس کی معافی طلب کرنی چاہیے، کیوں کہ اگرچہ وہ اپنے فضل سے تمہیں معاف کر دے گا پھر بھی تمہیں ہمیشہ دل میں غم ہونا چاہیے کہ تم نے خدا کو ناراض کیا اور اس کے احکام کی پیروی نہیں کی۔

خدا کی حقیقت شناسی کا راستہ صرف ان خوش نصیبوں کا حق ہے جو خالص محبت میں مدہوش ہیں، کیوں کہ خدا سے وجد میں بات کرنا واقعی ایک لذت ہے۔

ایک آدمی کو اپنی روحانی مشقوں کو مکمل چالیس سال تک جاری رکھنا چاہیے، تب جا کر وہ صحت مند نتائج کی توقع کر سکتا ہے، زبان کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے دس سال، جسم کی اضافی چربی کو کم کرنے کے لیے دس سال، دل کی بے چینیوں کو درست کرنے کے لیے دس سال اور آخری دس سال باقی تمام بے ترتیبیوں کو درست کرنے کے لیے درکار ہیں۔

خدا کی صحبت اختیار کرو اور دنیا کی صحبت کو ترک کرو، کیوں کہ انسان کو دوستوں کی صحبت میں رہنا چاہیے اور خدا سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں۔

مجھے یہ گوارا ہے کہ دنیا سے قرض دار ہو جاؤں اور قیامت کے روز قرض دار میرا دامن کھینچیں لیکن یہ ہرگز گوارا نہیں کہ کوئی سائل مجھ سے سوال کرے اور میں اسے رد کر دوں۔

بہتر چیز وہ دل ہے جس میں بدی نہ ہو۔

مجھے الہام ہوا کہ جو شخص تیری مسجد میں آئے اور نماز پڑھے اس پر دوزخ حرام ہوگی اور وہ عابدوں کی صف میں اٹھایا جائے گا۔

نما، روزہ بے شک بزرگ ہیں لیکن دل سے کبر و حسد نکال ڈالنا ان سے زیادہ بزرگ ہے۔

جو یہاں آتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ جان لے کی قیامت کے روز میں اس وقت تک کھڑا رہوں گا، جب تک کہ یہاں آنے والے کو نجات نہ دلا لوں گا، اگر کوئی ایسا یقین نہیں رکھتا تو اسے کہہ دو کہ یہاں مت آئے اور مجھے مت ملے۔

نماز، روزہ تو سب کرتے ہیں لیکن مرد وہ ہے جو ساٹھ سال گزارے اور بائیں جانب کا فرشتہ ایک حرف بھی ایسا نہ لکھ سکے جس کے سبب اسے خدا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔

سب سے اچھا لقمہ وہ ہے جو اپنی جد و جہد سے حاصل کیا گیا ہو۔

خدا کی دوستی اس شخص کے دل میں نہیں ہو سکتی جس کے دل میں خدا کی مخلوق کی محبت اور خیر خواہی نہ ہو۔

جوان مرد ایک دریا ہے جس سے چار نہریں نکلتی ہیں یعنی اول سخاوت، دوم خدا کی مخلوق پر شفقت، سوم مخلوق سے بے نیازی، چہارم خدا سے نیاز مندی۔

دنیا میں کوئی چیز اس سے سخت تکلیف دہ نہیں کہ تیری کسی کے ساتھ خصومت ہو۔

ایسے آدمی کے پاس مت بیٹھو کہ تم خدا کہو اور وہ کچھ اور کہے۔

جس نے مجھے دوست رکھا خدا اسے دوست رکھے گا۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

बोलिए