Sufinama
noImage

احمد ہانسوی

1187 - 1260 | پاک پٹن, پاکستان

بابا فرید گنج شکر کے ممتاز خلیفہ

بابا فرید گنج شکر کے ممتاز خلیفہ

تخلص : 'احمد'

اصلی نام : جمال الدین احمد

پیدائش :غزنی

وفات : ہانسی, ہریانہ, بھارت

شیخ جمال الدین احمد ہانسوی بابا فرید گنج شکر کے خلیفہ خاص تھے۔

آپ کا خطاب خطیب اور قطب تھا۔ آپ غزنی (خراسان) میں پیدا ہوئے جو موجودہ افغانستان میں ہے۔ 583 ھ میں جب آپ 5 سال کے تھے تو آپ کے خاندان نے بھارت کے شہر ہریانہ کے مقام ہانسی کی طرف ہجرت کی۔ آپ کا نسب نامہ چند واسطوں سے امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت سے جا ملتا ہے، کہا جاتا ہے کہ آپ بوعلی شاہ قلندر پانی پتی کے حقیقی خالہ زاد بھائی تھے، بابا فرید نے آپ کی روحانی تربیت میں اتنی توجہ فرمائی کہ خود بارہ سال تک ہانسی میں قیام فرمایا، وہ آپ کے حق میں فرمایا کرتے تھے کہ "شیخ جمال جمالِ مااست" شیخ جمال الدین احمد ہانسوی کی تصانیف میں سے چند رسالے ملتے ہیں۔ اُن میں سے ایک رسالہ خوبصورت عربی میں لکھا ہوا ہے، اس کا نام مُلحمات ہے، آپ بڑے عالم فاضل تھے، شعرو سخن سے بھی دلچسپی رکھتے تھے، اچھے نثار اور صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین شاعر بھی تھے۔

آپ کے ایک صاحبزادے دیوانے ہوگئے تھے، جواجہ نظام الدین اولیا فرماتےہیں " کبھی کبھی ہوش میں آتےاورایسی باتیں کرتے گویا بالکل اچھے ہیں، ایک دن جب ہوش میں آئے تو انہوں نے فرمایا اَلعِلم حِجَابُ اللّٰہُ الاَکبَر (علم اللہ کابہت بڑاحجاب ہے)، اس کلام کی وضاحت انہوں نے اس طرح کی کہ علم غیرحق ہےاورجوکچھ غیرحق ہے وہی حجاب حق ہے، خواجہ نظام الدین اولیا فرماتے ہیں کہ "میں سمجھ گیاکہ یہ حقیقی مجذوب ہیں"۔ دوسرے فرزند شیخ برہان الدین صوفی آپ کے وصال کےوقت کم سن تھے، بابافرید نےآپ کے حال پر نہایت لطف وکرم فرمایا۔ نعمت فقرسےجوان کےوالد کو دی تھی،ان کو بھی سرفرازفرمایا۔ ان کو خرقہ خلافت اورعصاعنایت فرمایااوران کو ہدایت فرمائی کہ کچھ مدت خواجہ نظام الدین اولیا کی خدمت بابرکت میں رہیں۔

آپ نے 30 ربیع الاول 659ھ کو وصال فرمایا، آپ کامزارہانسی میں واقع ہے، آپ ایک اچھےخطیب تھے، باباصاحب سے ملاقات کے بعد خطابت چھوڑ دی تھی، فقروفاقہ کوتاج وتخت پر فوقیت دیتےتھے، علم ترک وتجرید آپ کاشعارتھا، آپ کمالات ظاہری و باطنی میں بےنظیرتھے۔

موضوعات