Font by Mehr Nastaliq Web
Unknown's Photo'

Unknown

Dohe of Unknown

SORT BY

آج چندر ماں دوج ہے جگ چتوت چہوں اور

ہمرے اور وامتر کے نین بہئے اک ٹھور

سبے سہائک سبل کے کئو نہ نبل سہائے

پون جگاوت آگ کو دیپھی دیت بجھائے

ندی کنارے دہواں اٹھت ہے ہیں جانوں کچھ ہوئے

جاکارن جوگن بھئی وہی نہ جلتا ہوئے

موہے نہ نار نار کے روپا

پتنگار یہ نیت انوپا

پیت کئے دھن دھرم گیو اور بگڑے سِگرے کام

اپنے تھے سوبیر ہوئے اور نام ہوا بدنام

میر میں میر امیر وہی جو امیر ہوئے پہ غرور کرے نا

پیر میں پیر فقیر وہی جو فقیر ہوے پہ سوال کرے نا

تعریف اسی تروار کی ہے جو دہار پہ اپنے جھرے نامرے نا

مرد میں مرد وہی ہے بھلو جو کہے سوکرے جو کرے سو کہے نا

تلسی اپنے رام کو ریجھ بھجوہ کہ کھیج

الٹے سیدہے جام ہیں کھیت پرے کے بیج

جب دانت نہ تھے تب دودھ دیئو اب دانت دئے کا اننا نہ دے ہے؟

جل میں تھل میں پنچھی پشو کی سدھ لیت سو تیری ہولی ہے!

کاہے کو سونچ کرئے من مورکھ سونچ بچار کریں کچھو ہاتھ نہ آئے ہے

جان کو دیت اجان کو دیت جہاں کودیت سو تؤ کو دے ہے!

برہا جلتی دیکھ کے سائیں آئے دھائے

پریم بوند سے سیج کے تن سے لیو لگائے

کر کانپت پتیاں لکھت جل بھر آوت نین

کورو کا گج ہاتھ دے مکھ ہی کہیو بین

پرتیم تم جن جانیو تم بچھریں موی چین

آلے بن کی لاکری سلگت ہوں دن رین

سیکھ واہی کو دیجے جاکوں سیکھ سو ہائے

سیکھ نہ دیجیے باندارا گھر بئے کا جائے

نیھ سگا سوی سگا ہاڑسگا نہیں ہوئے

ماں بیٹھی تریا جرے اچرج جگ کو ہوئے

در دیوار درپن بھئے جت دیکھوں تت توئے

کانکر پاتھر ٹھیکری بھئے آرسی موئے

سات سورگ اپورگ سکھ دہرئے تلا اک امگ

تولے نہ تاہی سکل ملے جو سکھ لوست سنگ

تلسی آہ گریب کی کبھو نہ کھائی جائے

مرے چام کی سانس سے سار بھسم ہوہ جائے

تن اجرو من کوئلہ بگلہ کا سا بھیس

تو سے تو کاگا بھلو باہر بھیتر ایک

ساجن تورے درشن کو ترسِت ہوں دن رین

تارے گنتی رہت ہوں پلک لگے نانین

نانک ننھا ہور ہو جیسی ننھی دوب

سبئے گھاس چرجائیں گی دوب خوب کی خوب!

سیس کان مکھ ناسکا اونچے اونچے ناؤ

سہجو نیچے کارنے سب کوی پوجیں پانوؤ

آگ لگی ہے برکش کو جلنے لاگے پات

تو کیوں جرے ہے پنکھیا پنکھ ہیں تیرے ساتھ؟

پھل کھائے اس برکش کے گندے کنہے پات

اب ہے میرا دھرم یہ جر جاؤں ایہہ ساتھ

تلسی اسمئے کے سکھا دھیرج دھرم بی ویک

ساہس شیل اودارتا‘ رام بھرؤ سو ایک

جو میں ایسا جانتی کہ پریت کئے دکھ ہوئے

نگر ڈھڈورا پیٹتی کہ پریت نہ کرئیو کوئے

چلتی چکی دیکھ کے دیا کبیر اروئے

دو پاٹن کے بیچ میں ثابت بچانہ کوئے

رحمن پانی راکھیو بن پانی سب سون

پانی گئے نہ اوبرے موتی مانس چون

تلسی آہ گریب کی کبھو نہ کھالی جائے

مرے چام کی سانس سے سار بھسم ہو جائے

رام رام سب کوئی کہے ٹھگ ٹھاکر اور چور

بنا پریم ریجھے نہیں تلسی نند کشور

کتھنی میٹھی کھانڈ سی کرنی بس کی لوئے

کتھنی تج کرنی کرے تو بس سے امرت ہوئے

جاگھٹ پریم نہ سنچرے سوگھٹ جان مسان

جیسے کھال لوہار کی سانس لیت بن پر آن

رہے سمیپ بڑین کے ہوت بڑوہت میل

سب ہی جانت بڑھت ہے برکش برابربیل

چھٹی نہ سسوتا کی جھلک جھلکیو جوون انگ

دویت دیہہ دوہن ملے دیت تا فتا رنگ

آ جا پیارے نین میں پلک ڈھانپ توئے لوں

نامیں دیکھوں اور کو ناتو کوں دیکھن دوں

بانھ چھڑائے جات ہو سو نِبل جان کے موئے

ہردئے میں سے جاؤ گے تو مرد بندوگی توئے

سنگت ہی گن اوپجے سنگت ہی گن جائے

بانس پہانس اور میصری ایکئے بھاؤ بکائے

کبیر بیری سبل ہیں یک جیور پپو پانچ

اپنے اپنے سواد کو سبھی نچاویں ناچ

جل سوکھے پنچھی اڑیں اور سے سرن سمائیں

دین میں بن پچھہ کی کہو رحیم کہنہ جائیں؟

رحمن دھاگا پریم کا جن توڑو جھٹکائے

ٹوٹے سین پھر نہ جوڑے جوڑے گانٹھ پڑ جائے

ٹکڑے ٹکڑے دیھ ہوں تن سے نکلے پران

تب ہوں مکھ تیاگو نہیں پیا نام کی تان

اپنی گرجن بولیت کہا نہورے توئے

تو پیارا موجیو کا موجیو پیا راموئے

ان اکھیاں دوکھیان کو سکھ سر جو ہی ناہیں

دیکھت بنے نہ دیکھتے بن دیکھے اکولائیں

دھجا پھر کتی سمرمان باجے انہد نور

تکیا ہے میدان ماں پہنچے گا کوئی سور

کانٹ بھیؤ تن سوکھ کے پرھے کوئی سانس

ارے دئی لے چل ابھی جہاں پیا کا باس

ہوں ساجن جانت نہیں پیا بچھڑں کی سار

جیا بچھڑں سے ہے کٹھن پیا بچھڑں کی بار

امی ہلاہل مدھ بھرے سویت شیام رتنار

جیست مرت جھک جھک پرت جیھ چت اکبار

جو برتے جہ ریت تاسے تئیسی برتئے

سادہ سنت سے پریت کپٹی سے کرئے کپٹ

کا گانین نکاس دوں سوپیا پاس لے جائے

پہلے درش دکھائے کے پاچھے لیجیو کہائے

دکھ میں سمرن سب کریں سکھ میں کرے نہ کوئے

سکھ میں جو سمرن کریں دکھ کاہے کو ہوئے

اپنی پربھوتا کو سبئے بولت جھونٹ بنائے

ویشیا برس گھٹا وہی یوگی برس بڑھائے

اجّل بڑن ادہیم گت ایک چران دوی دھیان

میں جانوں کوئی بھگت ہے پرنپٹ کپٹ کی کھان

جووا کے تن کی دسا دیکھیو چاہت آپ

توبلی نیک بلو کئے چلی آؤ چپ چاپ

چاکی چاکی سب کہیں مانی کہے نہ کوئے

مانی سے جو لگ رہا بال نہ بیکا ہوے

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

Speak Now