Font by Mehr Nastaliq Web
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے دوہے

باعتبار

واسکھ ماتھے سل پڑے جن سکھ ہر بسرائے

واسکھ سین پہچیا بھلی جو رام کہت دن جائے

من موتی اور دودھ رس ان کے یہی سبھاؤ

پھاٹے سے پھر نا ملیں کوٹن کرو اپاؤ

کبیر سنگت سادھو کی جیوں گندھی کا باس

جو کچھ گندھی دے نہیں تو بھی باس سباس

تلسی جو تم کہت تے سنگت ہی گن ہوے

مانجھ اوکھاری رمسرا رس کاہئے نہں ہوے

پردیسی کی پریت کو سب کو من للچائے

اوگن وامیں ایک ہے رہے نہ سنگ لے جائے

روکھی سوکھی کھاے کے ٹھنڈا پانی پی

دیکھ پرائی چو پری جن للچاؤ جی

امی پیاوے مان بن رحمن موئی نہ سہاے

مان سہت مربو بھلو بربس دے بولائے

چمپا تو میں تین گُن رنگ روپ اور باس

اوگن تو میں کون ہے بھنور نہ بیٹھے پاس

سونا کہے سنار سے کہ اتم میری ذات

کارے منہ کی گھونگھچی تلے ہمارے ساتھ

لالن کے ہم لال ہیں اور لال ہی ہمرو رنگ

کریا منہ جب سے بھیو تلے نیچ کے سنگ

کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس

دو نینا مت کھائیو کہ پیا ملن کی آس

پھولہیں پھرہیں نہ بیت

یدہپی سدھا برسہں جلدھ

مورکھ ہردے نہ چیت

جو گرو ملہں برنچشیو

سانچے کوئی نہ پتیجئے جھوٹے جگ پتیائے

گلی گلی گورس پھرے مدرا بیٹھ بکائے

فرضی شاہ نہ ہو سکے گت ٹھٹری تاثیر

رحمن سیدھی چال سے پیادہ ہوت وزیر

نین سلونے ادھر مدھو کہو رحیم گھٹ کون

میٹھو چھئے لون پے میٹھے ہو پے لؤن

پیتم تم پردیس سدھارے لے گئے مورا چین

تمرے کارن رام دوہائی تڑپت ہوں دن رین

آگے کے دن پاچھے گئے ہری سے کیا نہ ہیت

اب پچھتاوے ہوت کیا جب چڑیا چک گئیں کھیت

آلس نیند کسانے کھوبے چورے کھوبے کھانسی

ہنسی مسخری سادھے کھوبے برہمن کھوبے داسی

مین کاٹ جل دھوئیے کھائے ادھک پیاس

رحمن پیت سراہیے موئے میت کی آس

برے لگت سکھ کے بچن ہیے بچارو آپ

کروی بھیشج بن پئے مٹئے نہ تن کی تاپ

آوت ہی ہرشے نہیں نین نہیں سنیہ

تلسی تہاں نہ جائیے کنچن برسے میہ

چھن چڈھے چھن اترے سو تو پریم نہ ہوے

آٹھ پہر لاگیو رہئے پریم کہاوے سوے

چندن پرو چمار کیں نت اٹھ چیرت چام

کہو چندن کیسی بھئی پرو نیچ سے کام

چونچ تہاری کاٹ کے تا پئے چھرکوں نون

پیہ میرے میں پیو کی تو پی کہے سو کؤن

بیر سراہیں بیرتا جتی جیستا جان

رحمن سانچے سور کو بیری کرت بکھان

کنک کنک تیں سو گونی ماد کتا ادھیکائے

اوئے کھائے بورائے جگ یہ پائے بورائے

جو تو آیا جگت میں جگت سراہے توے

ایسی کرنی کر چلو پاچھیں ہنسی نہ ہوے

کبیر آپ ٹھگائے اور نہ ٹھگئے کوے

آپ ٹھگے سکھ اوپجے اور ٹھگے دکھ ہوے

ماٹی کہے کمہار سیں تو کیا روندے موے

اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توے

آ جا پیارے نین میں پلک ڈھانپ توے لوں

نا میں دیکھوں اور کو نا تو کوں دیکھن دوں

سانجھ بھئی اور دیا جرئے پیا نہ آئے پاس

نینن سے دوئی گنگ بہیں اور ڈوبن لاگی آس

اُتّم جن سوں ملت ہی اوگن سوگن ہوئے

گھن سنگ کھارو اوددھی مل برسے میٹھو توئے

تنکا کبہوں نہ نندئے جو پاین تر ہوے

کبہوں اڑی آنکھن پرے پیر گھنیری ہوے

دیکھو کرنی کمل کی کینوں جل سوں ہیت

پران تجیو پریم نہ تجیو سوکھیو سرہیں سمیت

تلسی سانچے سجن کو کا کر سکئے کسنگ

ملیا بش لاگے نہیں لپٹے رہت بھوجنگ

سمئے سمئے سندر سبئے روپ کروپ نہ کوئے

من کی روچی جتّی جتے تت تتّی روچی ہوئے

چلنا ہے رہنا نہیں چلنا بسوے بیس

سہجوؔ تنک سہاگ پر کیوں گندھوائے سیس

تلسی یہ سنسار میں رہئے سبھی ملاے

ملیں سنگھ مارئے نہیں انمل مارے گاے

جلج بھیو کے ہر بھیو سوان بھیو پھر آے

اب اباہ چاہت بھیو برہا بری بلائے

تلسی تینوں لوک میں کو جانے پر پیر

یا جانے من آپنا یا جانے رگھو بیر

سہجوؔ جگ میں یوں رہے جیوں جبھیا مکھ مانہہ

گھیو گھنا بھکشن کریں تو بھی چکنی نانہہ

پریتم ہم تم ایک ہیں دیکھن کے ہیں دوے

من سے من کو تولیے کبھی نہ دو من ہوے

ہوت بھلے کے ست برو بھلو برے کے ہوے

دیپک سے کاجل پرگٹ کنول کیچ تے ہوے

سانچے کو سانچا ملے ادھک بڑے سنیہ

جھوٹے کو سانچا ملے تڑدے ٹوٹے نیہ

سدا بھوم گوپال کی جا میں اٹک کہا

جا کے من میں اٹک ہے سوئی اٹک رہا

نینا رے تمہی برے تم سا برا نہ کوے

آپ ہی پیت لگائے کے آپ ہی بیٹھے روے

آج چندرماں دوج ہے جگ چتوت چہوں اور

ہمرے اور وا متر کے نین بھے اک ٹھور

سبے سہایک سبل کے کوؤ نہ نبل سہاے

پون جگاوت آگ کو دیپ ہی دیت بجھاے

ندی کنارے دھواں اٹھت ہے میں جانوں کچھ ہوے

جا کارن جوگن بھئی وہی نہ جلتا ہوے

موہے نہ نار نار کے روپا

پننگار یہ نیت انوپا

پیت کئے دھن دھرم گیو ار بگڑے سگرے کام

اپنے تھے سو بیر بھے اور نام ہوا بدنام

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے