تمام
غزل53
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 517
کلام293
دوہا102
دکنی صوفی شاعری4
صوفی ادب2
فارسی کلام76
فارسی صوفی شاعری40
راگ آدھارت پد17
رباعی28
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت137
صوفی اقوال881
وار1
نعت و منقبت376
قطعہ4
صوفی اطلاح11
چادر3
سہرا1
سلام20
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت13
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
مناجات3
- تمام
- غزل 53
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 517
- کلام 293
- دوہا 102
- دکنی صوفی شاعری 4
- صوفی ادب 2
- فارسی کلام 76
- فارسی صوفی شاعری 40
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 28
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 137
- صوفی اقوال 881
- وار 1
- نعت و منقبت 376
- قطعہ 4
- صوفی اطلاح 11
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 20
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 13
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
- مناجات 3
نا معلوم کے دوہے
واسکھ ماتھے سل پڑے جن سکھ ہر بسرائے
واسکھ سین پہچیا بھلی جو رام کہت دن جائے
من موتی اور دودھ رس ان کے یہی سبھاؤ
پھاٹے سے پھر نا ملیں کوٹن کرو اپاؤ
کبیر سنگت سادھو کی جیوں گندھی کا باس
جو کچھ گندھی دے نہیں تو بھی باس سباس
تلسی جو تم کہت تے سنگت ہی گن ہوے
مانجھ اوکھاری رمسرا رس کاہئے نہں ہوے
پردیسی کی پریت کو سب کو من للچائے
اوگن وامیں ایک ہے رہے نہ سنگ لے جائے
امی پیاوے مان بن رحمن موئی نہ سہاے
مان سہت مربو بھلو بربس دے بولائے
چمپا تو میں تین گُن رنگ روپ اور باس
اوگن تو میں کون ہے بھنور نہ بیٹھے پاس
سونا کہے سنار سے کہ اتم میری ذات
کارے منہ کی گھونگھچی تلے ہمارے ساتھ
لالن کے ہم لال ہیں اور لال ہی ہمرو رنگ
کریا منہ جب سے بھیو تلے نیچ کے سنگ
کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس
دو نینا مت کھائیو کہ پیا ملن کی آس
پھولہیں پھرہیں نہ بیت
یدہپی سدھا برسہں جلدھ
مورکھ ہردے نہ چیت
جو گرو ملہں برنچشیو
سانچے کوئی نہ پتیجئے جھوٹے جگ پتیائے
گلی گلی گورس پھرے مدرا بیٹھ بکائے
فرضی شاہ نہ ہو سکے گت ٹھٹری تاثیر
رحمن سیدھی چال سے پیادہ ہوت وزیر
نین سلونے ادھر مدھو کہو رحیم گھٹ کون
میٹھو چھئے لون پے میٹھے ہو پے لؤن
پیتم تم پردیس سدھارے لے گئے مورا چین
تمرے کارن رام دوہائی تڑپت ہوں دن رین
آگے کے دن پاچھے گئے ہری سے کیا نہ ہیت
اب پچھتاوے ہوت کیا جب چڑیا چک گئیں کھیت
آلس نیند کسانے کھوبے چورے کھوبے کھانسی
ہنسی مسخری سادھے کھوبے برہمن کھوبے داسی
برے لگت سکھ کے بچن ہیے بچارو آپ
کروی بھیشج بن پئے مٹئے نہ تن کی تاپ
چھن چڈھے چھن اترے سو تو پریم نہ ہوے
آٹھ پہر لاگیو رہئے پریم کہاوے سوے
چندن پرو چمار کیں نت اٹھ چیرت چام
کہو چندن کیسی بھئی پرو نیچ سے کام
چونچ تہاری کاٹ کے تا پئے چھرکوں نون
پیہ میرے میں پیو کی تو پی کہے سو کؤن
کنک کنک تیں سو گونی ماد کتا ادھیکائے
اوئے کھائے بورائے جگ یہ پائے بورائے
جو تو آیا جگت میں جگت سراہے توے
ایسی کرنی کر چلو پاچھیں ہنسی نہ ہوے
کبیر آپ ٹھگائے اور نہ ٹھگئے کوے
آپ ٹھگے سکھ اوپجے اور ٹھگے دکھ ہوے
ماٹی کہے کمہار سیں تو کیا روندے موے
اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توے
آ جا پیارے نین میں پلک ڈھانپ توے لوں
نا میں دیکھوں اور کو نا تو کوں دیکھن دوں
سانجھ بھئی اور دیا جرئے پیا نہ آئے پاس
نینن سے دوئی گنگ بہیں اور ڈوبن لاگی آس
اُتّم جن سوں ملت ہی اوگن سوگن ہوئے
گھن سنگ کھارو اوددھی مل برسے میٹھو توئے
تنکا کبہوں نہ نندئے جو پاین تر ہوے
کبہوں اڑی آنکھن پرے پیر گھنیری ہوے
دیکھو کرنی کمل کی کینوں جل سوں ہیت
پران تجیو پریم نہ تجیو سوکھیو سرہیں سمیت
تلسی سانچے سجن کو کا کر سکئے کسنگ
ملیا بش لاگے نہیں لپٹے رہت بھوجنگ
سمئے سمئے سندر سبئے روپ کروپ نہ کوئے
من کی روچی جتّی جتے تت تتّی روچی ہوئے
چلنا ہے رہنا نہیں چلنا بسوے بیس
سہجوؔ تنک سہاگ پر کیوں گندھوائے سیس
تلسی یہ سنسار میں رہئے سبھی ملاے
ملیں سنگھ مارئے نہیں انمل مارے گاے
جلج بھیو کے ہر بھیو سوان بھیو پھر آے
اب اباہ چاہت بھیو برہا بری بلائے
تلسی تینوں لوک میں کو جانے پر پیر
یا جانے من آپنا یا جانے رگھو بیر
سہجوؔ جگ میں یوں رہے جیوں جبھیا مکھ مانہہ
گھیو گھنا بھکشن کریں تو بھی چکنی نانہہ
پریتم ہم تم ایک ہیں دیکھن کے ہیں دوے
من سے من کو تولیے کبھی نہ دو من ہوے
ہوت بھلے کے ست برو بھلو برے کے ہوے
دیپک سے کاجل پرگٹ کنول کیچ تے ہوے
نینا رے تمہی برے تم سا برا نہ کوے
آپ ہی پیت لگائے کے آپ ہی بیٹھے روے
آج چندرماں دوج ہے جگ چتوت چہوں اور
ہمرے اور وا متر کے نین بھے اک ٹھور
ندی کنارے دھواں اٹھت ہے میں جانوں کچھ ہوے
جا کارن جوگن بھئی وہی نہ جلتا ہوے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere