تمام
غزل52
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 516
کلام293
دوہا101
دکنی صوفی شاعری4
صوفی ادب2
فارسی کلام76
فارسی صوفی شاعری40
راگ آدھارت پد17
رباعی28
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت136
ابھنگ4
صوفی اقوال878
وار1
نعت و منقبت374
قطعہ4
صوفی اطلاح11
چادر3
سہرا1
سلام20
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت13
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
مناجات3
- تمام
- غزل 52
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 516
- کلام 293
- دوہا 101
- دکنی صوفی شاعری 4
- صوفی ادب 2
- فارسی کلام 76
- فارسی صوفی شاعری 40
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 28
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 136
- ابھنگ 4
- صوفی اقوال 878
- وار 1
- نعت و منقبت 374
- قطعہ 4
- صوفی اطلاح 11
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 20
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 13
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
- مناجات 3
نا معلوم کے دوہے
واسکھ ماتھے سل پڑے جن سکھ ہر بسرائے
واسکھ سین پہچیا بھلی جو رام کہت دن جائے
کبیر سنگت سادہو کی جیوں گندھی کا باس
جو کچھ گندھی دے نہیں تو بھی باس سباس
تلسی جو تم کہت تے سنگت ہی گن ہوئے
مانجھ اوکھاری رمسرا رس کاہے نہیں ہوئے
پردیسی کی پریت کو سب کو مل للچائے
اوگن وامیں ایک ہے رہے نہ سنگ لیجائے
امی پیاوے مان بن رحمن موئی نہ سوہائے
مان سہت مربو بھلو بربس دے بولائے
چمپا توہ میں تین گُن رنگ روپ اور باس
اوگن توہ میں کون ہے بھنور نہ بیٹھے پاس
سونا کہے سنار سے کہ اتم میری ذات
کارے منہ کی گھونگھچی تلے ہمارے ساتھ؟
لالن کے ہم لال ہیں اور لال ہی ہمرو رنگ
کریا منہ جب سے بھیو تلے نیچ کے سنگ
کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس
دو نینا متی کھائیو کہ پیا ملن کی آس
پھُلہیں پھر ہیں نہ بیت
یدہپی سدھا برسہیں جلدھ
مورکھ ہردے نہ چیت
جوگُر وملہیں برنچ شیو
سانچے کوئی نہ پتیجئے جھوٹے جگ پتیائے
گلی گلی گورس پھرے مدیرا بیٹھ بکائے
سلونے ادھر مدہو کہو رحیم گھٹ کون؟
میٹھو چھئے لون پے میٹھے ہو پہ لؤن!
پیتم تم پردیس سدھارے لے گئے مورا چین
تمرے کارن رام دوھائی تڑپٹ ہوں دن رین
آگے کے دن پاچھے گئے ہری سے کیو نہ ہیت
اب پچھتاوے ہوت کیا جب چڑیا چک گئیں کھیت
آلس نیند کسانے کھوبے چورے کھوبے کھانسی
ہنسی مسخری سادھے کھوبے برہمن کھوبے داسی
مین کاٹ جل دھوئیے کھائے ادِھک پیاس
رحمن پیت سراہیے موئے میت کی آس
برے لگت سکھ کے بچن ہئے بچارو آپ
کروی بھیشج بن پئے مٹے نہ تن کی تاپ
چھن چڑے چھن اوترے سو تو پریم نہ ہوئے
آٹھ پہر لاگیو رہے پریم کہاوے سوئے
چندن پرو چمار کیں نت اٹھ چیرت چام
کہوہ چندن کیسی بھئی؟ پرو نیچ سے کام؟
چونچ تہاری کاٹ کے تاپے چھر کوں نون!
پیا میرے میں پیو کی توپی کہے سو کؤن ؟
کنک کنک تیں سو گونی ماد کتا ادھیکائے
اوئے کھائے بورائے جگ یہ پائے بورائے
جو تو آیا جگت میں جگت سرا ہے توئے
ایسی کرنی کر چلو پا چھے ہنسی نہ ہوئے
کبیر آپ ٹھگائے اور نہ ٹھگئے کوئے
آپ ٹھگے سکھ اوپجے اور ٹھگے دکھ ہوئے
ماٹی کہے کمھار سے تو کیا روندے موئے
اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے
سانجھ بھئی اور دیا جرئے پیانہ آئے پاس
نینن سے دوئی گنگ بہیں آور ڈوبن لاگی آس
اُتّم جن سوں ملت ہی اوگن سوگن ہوئے
گھن سنگ کھارو اوددھی مل برسے میٹھو توئے
تنکا کبھوں نہ نندئے جوپائین تر ہوئے
کبھو اڑے آنکھیں پرئے پیر گھنیری ہوئے
دیکھو کرنی کمل کی کینوں جل سوں ہیت
پران تجیو پریم نہ تجیو سوکھیو سرہین سمیت
سمئے سمئے سندر سبئے روپ کروپ نہ کوئے
من کی روچی جتّی جتے تت تتّی روچی ہوئے
چلنا ہے رہنا نہیں چلنا بیسو بیس
سہجو تنک سوہاگ پرکیوں گندھوائے سیس
تلسی یہ سنسار میں رہیئے سبھی ملائے
ملیں سینگھ مارے نہی انملِ مارے گائے
جلج بھیؤ کیہر بھیو سوان بھیو پھر آئے
اب اباہ چاہت بھیو برہا بری بلائے
تلسی تینوں لوک میں کو جانے پر پیر
یا جانے من آپنایا جانے رگھو بیر
سہحو جگ میں یوں رہے جیوں جبھیا مکھ مانھ
گھیو گھنا بھکشن کریں تو بھی چکنی نانھ
پرتیم ہم تم ایک ہیں دیکھن کے ہیں دوئے
من سے من کو تولیے کبھی نہ دومن ہوئے
ہوت بھلے کے ست برو بھلو برے کے ہوئے
دیپک سے کاجل پر گھٹ کنول کیچ تے ہوئے
سانچے کو سانچا ملے آدھک بڑے سنیھ
جھوٹے کو سانچا ملے تڑدے ٹوٹے نیھ
سدا بھوم گو پال کی جا میں اٹک کُہا
جاکے من میں اٹک ہے سوہی اٹک رہا
نینا رے تم ہی برے تم سا برانہ کوئے
آپ ہی پیت لگائے کے آپ ہی بیٹھے روئے
من موتی اور دودھ رس ان کے یہی سبھاؤ
پھاٹے سے پھرنا ملیں کوٹن کرو اپاؤ
آج چندر ماں دوج ہے جگ چتوت چہوں اور
ہمرے اور وامتر کے نین بہئے اک ٹھور
سبے سہائک سبل کے کئو نہ نبل سہائے
پون جگاوت آگ کو دیپھی دیت بجھائے
ندی کنارے دہواں اٹھت ہے ہیں جانوں کچھ ہوئے
جاکارن جوگن بھئی وہی نہ جلتا ہوئے
پیت کئے دھن دھرم گیو اور بگڑے سِگرے کام
اپنے تھے سوبیر ہوئے اور نام ہوا بدنام
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere