Font by Mehr Nastaliq Web

صوفی اورسنتوں کی فہرست

سیکڑوں شاعروں کا منتخب کلام

فقر و تصوف کو نعتیہ شاعری کی روح بنانے والے صاحبِ سوز شاعر۔

اردو کے ممتاز مرثیہ نگار تھے، آپ بارہ بنکی میں پیدا ہوئے، شدید لکھنوی کے شاگرد تھے اور مرثیہ، سلام، رباعی اور قطعات میں طبع آزمائی کی، آپ کا معروف مجموعۂ مراثی "اعجازِ ناطق" 1978ء میں شائع ہوا۔

اردو کے ممتاز شاعر، محقق، نقاد اور اقبال شناس تھے، آپ معروف شاعر تلوک چند محروم کے فرزند تھے، شاعری اور اقبالیات میں نمایاں خدمات انجام دیں، جبکہ "طبل و علم"، "بیکراں" اور "وطن میں اجنبی" آپ کی اہم تصانیف میں شامل ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر تھے، آپ کا تعلق کرتارپور سے تھا، فارسی و اردو کے فاضل تھے اور ڈسٹرکٹ سروسز میں خدمات انجام دیں، "نغمۂ کمال" اور "کمالِ سخن" آپ کی معروف تصانیف ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب تھے، آپ کا تعلق سیالکوٹ سے تھا، تقسیمِ ہند کے بعد دہلی اور پھر کینیڈا میں مقیم رہے، منور لکھنوی کے شاگرد تھے اور ماہنامہ "حقیقت بیانی" کے سرپرست بھی رہے۔

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، آپ نے ممتاز غازی پوری، غلام احمد فگار عظیم آبادی اور حلیم صابر سے اصلاحِ سخن حاصل کی، جبکہ غزل کے ساتھ حمد، منقبت، قطعات اور نظم میں بھی قابلِ قدر تخلیقات پیش کیں۔

اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔

سادہ مزاج اور کم گفتار والا ایک وارثی شاعر

اردو کے ممتاز شاعر، مرثیہ نگار اور ماہرِ فارسی تھے، وحشت کلکتوی کے شاگرد رہے اور بعد ازاں پٹنہ یونیورسٹی میں اردو و فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے، ان کے معروف شعری مجموعوں میں "عرفانِ جمیل"، "فکرِ جمیل" اور "وجدانِ جمیل" شامل ہیں۔

جمیل احمد جمیل مرصع پوری 15؍ جولائی 1931ء کو پریاواں کے ایک گاؤں مرصع پور میں پیدا ہوئے جو پرتاب گڑھ میں مانک پور سے قریب ہے۔ مدرسہ اسلامیہ مرصع پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کے استاد انجم فوقی بدایونی تھے۔ ملک کے سرکردہ شعراء نے ان کے زمانے میں ان کی طرح ممبئی کا رخ کیا۔ شکیل، مجروح اور علامہ آرزو لکھنوی کی صحبت ملی۔ جس میں ان کا شاداب ہونا ضروری تھا ان دنوں 72سال کے ہونے کے باوجود شعر گوئی ترک نہیں کی۔ آج بھی ممبئی کی ادبی محفلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ حال ہی میں جمیل صاحب کا شعری مجموعہ ’’بے نام سی خوشبو‘‘ شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے کلام کا انتخاب شائع کیا ہے۔ مختصر ہی سہی مجموعے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا پیش لفظ اردو ادب کے ممتاز شاعر قیصرالجعفری اور محقق و ناقد پروفیسر مجاہد حسین حسینی نے لکھا ہے۔ ان کی سچی اور کھری شاعری کا اعتراف انجم صاحب نے بھی اپنی تحریر میں کیا ہے۔ جمیل مرصع پوری کی شاعری تکلف اور تصنع سے بھی پاک ہے جیسے وہ خود ہیں۔ جمیل احمد جوانی میں بہت خوبصورت تھے۔ ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ اس وجہ سے دوستوں میں اکثر ان کے حاسد تھے۔ بڑے شعراء کے درمیان ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا اس لئے بھی سرخرو تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے اخلاص و محبت سے ملتے ہیں۔ مشاعرے اور ادبی پروگرام کراتے رہتے ہیں۔ ہر سال علامہ اقبال کی برسی مناتے ہیں۔ جس میں ممبئی اور اس کے اطراف کے بڑے بڑے شعراء اور ادباء شرکت کرتے ہیں۔ آوارہ سلطان پوری کے پڑوسی اور دوستوں میں تھے۔ جمیل مرصع پوری کہتے ہیں: ’’اردو کی ترقی کے لئے جدوجہد کرنا بڑا اہم کارنامہ ہے ورنہ اس عمر میں تو عموماً تھک ہار کر سوجاتے ہیں‘‘۔ پیشے کے اعتبار سے بھی وہ فن کارڈیزائنر ہیں۔ اب زیادہ عمر کی وجہ سے اپنا کام نہیں کر پاتے ہیں۔ ندیم صدیقی ان کے صاحبزادوں میں سے ہیں۔ جو ادبی دنیا میں کافی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ شکیل بدایونی سے کافی قریب رہے شکیل کی غریبی کا زمانہ بھی جمیل صاحب کو اچھی طرح یاد ہے۔ آج بھی مشاعرے میں پڑھتے ہیں اور نئی نسل کے شعراء ان کے اشعار بڑے احترام سے سنتے ہیں اور داد دیتے ہیں کیوں کہ انہوں نے زمانے کے ساتھ چلنا سیکھا ہے۔

اردو کے معاصر شاعر اور ادیب ہیں، آپ نے 1970ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور 1973ء میں ادبی جریدہ "گونج" جاری کیا۔ مغنی صدیقی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، آپ کے معروف شعری مجموعوں میں "سلگتے خواب"، "تجدیدِ آرزو" اور "صبرِ جمیل" شامل ہیں۔

بریلی کے ممتاز نعت گو شاعر، واعظ اور مصنف تھے، آپ کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے بیعت و خلافت حاصل ہوئی، جنہوں نے آپ کو "مداح الحبیب" کا خطاب عطا فرمایا، آپ اپنی مشہور نعتیہ غزل "میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد" کی وجہ سے آج بھی اہلِ عشقِ رسول میں یاد کیے جاتے ہیں۔

جامی

1414 -1492 ہرات

صوفیانہ شعر کہنے والا ایک عالمی شاعر اورممتاز مصنف

اردو کے نعت گو شاعر اور محکمۂ عدلیہ سے وابستہ ایک دیانت دار افسر تھے، آپ نے الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور 1973ء میں ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، آپ کی شاعری حمد، نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے جس میں عشقِ رسول اور دینی عقیدت نمایاں ہے۔

افقر موہانی کے شاگرد رشید

حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری

اردو کے ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، اظہار حسین خاں رامپوری سے اصلاحِ سخن حاصل کی اور 1940ء سے شعر گوئی کا آغاز کیا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "اوراقِ گل" 1986ء میں شائع ہوا جبکہ ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول اور حسنِ بیان کے باعث خاص شہرت رکھتی ہے۔

حضرت مولانا امجد برہان پوری کے صاحبزادے

بولیے