تلاش کا نتیجہ "buland-iqbaal"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
آدم کا بت بنا کے اس میں سما گیا ہوںویسے بھی میں خدا تھا ایسے بھی میں خدا ہوں
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیںتو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ہر شئے مسافر ہر چیز راہیکیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی
مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیاجام کو شیشے سے ٹکرانے کا موسم آ گیا
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوشاور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہےخانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی ہے
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھیشہر ان کے مٹ گئے آبادیاں بن ہو گئیں
حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہےعکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے
جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میںوہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
اک دانش نورانی اک دانش برہانیہے دانش برہانی حیرت کی فراوانی
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیریکہ فقر خانقاہي ہے فقط اندوہ و دلگيری
دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیںجرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہےپھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہسکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ
وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازیمرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرےنیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمنمجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books