Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

آتش بہاولپوری

1915 - 1993 | بہاولپور, پاکستان

اردو کے ممتاز غیر مسلم نعت گو شاعر، ادیب اور صحافی تھے۔

اردو کے ممتاز غیر مسلم نعت گو شاعر، ادیب اور صحافی تھے۔

آتش بہاولپوری کا تعارف

تخلص : 'آتش'

اصلی نام : دیوی دیال

پیدائش : 18 Nov 1915 | مظفر گڑھ, پنجاب

وفات : 29 Oct 1993

رشتہ داروں : سیماب اکبرآبادی (مرشد), ظفر سونی پتی (مرشد)

دیوی دیال آتش بہاول پوری اردو ادب کے ان ممتاز غیر مسلم شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شعری صلاحیت، علمی بصیرت اور والہانہ عشقِ رسولِ اکرم کے ذریعے نعتیہ ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا، ان کی ولادت 1890ء میں مظفر گڑھ کے خیرپور سادات میں ایک معزز خاندان میں ہوئی، ان کے والد بھولا رام 1926ء میں کاروباری ضروریات کے پیشِ نظر بہاولپور منتقل ہوگئے جہاں خاندان نے 1947ء تک قیام کیا، بہاول پور کے علمی، تہذیبی اور ادبی ماحول نے ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے ذوقِ ادب کو جلا بخشی، ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ادیب فاضل اور منشی فاضل جیسی ممتاز علمی اسناد حاصل کیں، بعد ازاں کچھ عرصہ ایک کالج میں بحیثیتِ لکچرار تدریسی خدمات انجام دیں، تدریس کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی انہوں نے فعال کردار ادا کیا، بالخصوص مزدور طبقے کی رہنمائی، ان کے حقوق کے تحفظ اور سماجی شعور کی بیداری کے لیے ان کی جد و جہد نہایت قابلِ قدر سمجھی جاتی ہے، ادبی اعتبار سے ان کا شمار ہریانہ کے ممتاز اہلِ قلم میں ہوتا ہے، شاعری میں انہوں نے کلاسیکی روایت کو جدید شعور سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک منفرد اسلوب اختیار کیا، انہیں سیماب اکبرآبادی کے لائق اور قابلِ فخر تلامذہ میں شمار کیا جاتا ہے، غزل اور نظم کے ساتھ ساتھ نعت گوئی میں بھی انہوں نے اپنے والہانہ جذبۂ عشقِ رسول کا اظہار نہایت سوز، اخلاص اور فنی لطافت کے ساتھ کیا جس کے باعث ان کا نعتیہ کلام اہلِ ذوق میں خاص طور پر مقبول ہوا، ان کی علمی و ادبی خدمات متعدد تصانیف کی صورت میں محفوظ ہیں، ان کی اہم تصانیف میں خلاصۂ تاریخِ ادب اور نذرِ اقبال قابلِ ذکر ہیں جبکہ ان کا شعری مجموعہ فروزاں بھی زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر اہلِ علم و ادب سے بھرپور دادِ تحسین حاصل کرچکا ہے، طویل، بامقصد اور ثمرآور ادبی زندگی گزارنے کے بعد 29 اکتوبر 1993ء کو وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ 

موضوعات

Recitation

بولیے