عیش دہلوی کا تعارف
عزت سنگھ عیش دہلی کے قدیم باشندوں میں تھے اور شعر و سخن کی دنیا میں ’’عیش‘‘ تخلص سے معروف ہوئے، عہدِ بہادر شاہ ظفر میں دہلی کی شعری و تہذیبی فضا میں منعقد ہونے والے باقاعدہ نعتیہ مشاعروں میں انہیں نمایاں مقام حاصل تھا، ان محافل میں بہادر شاہ ظفر، مؤمن، مجروح، صہبائی، مولوی غلام امام شہید، رحیم میرٹھی، رمز اور عزت سنگھ عیش جیسے اہلِ سخن شریک ہوتے تھے، جبکہ سندر لال شگفتہ بھی ان مشاعروں کی رونق اور جانِ محفل شمار ہوتے تھے، عزت سنگھ عیش کو امام بخش صہبائی اور شاہ نصیر دہلوی جیسے نامور اساتذۂ سخن سے شرفِ تلمذ حاصل تھا، 1857ء کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا اور ’’ایزد بخش‘‘ نام اختیار کیا، ان کی وفات 1287ھ میں دہلی میں ہوئی اور قدم شریف، دہلی کے قریب ان کی تدفین عمل میں آئی، عزت سنگھ عیش کی نعتیہ شاعری کا ایک نمونہ نعتِ قدسی کی نعت پر تضمین کی صورت میں دستیاب ہے جو ان کی عقیدتِ رسول اور نعتیہ ذوق کی روشن شہادت ہے۔