گورو گوبند سنگھ کا تعارف
گورو گوبند سنگھ جی (1666ء–1708ء) سکھ مذہب کے دسویں اور آخری انسانی گورو تھے، آپ ایک عظیم روحانی پیشوا، مفکر، شاعر اور سپہ سالار کی حیثیت سے تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، آپ کو سکھ روایات میں ’’دشمیش پِتا‘‘ (پیارے باپ) اور ’’دسویں نانک‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، آپ کی ولادت 22 دسمبر 1666ء کو پٹنہ صاحب میں ہوئی، آپ کے والد گورو تیغ بہادر نویں سکھ گورو تھے، جبکہ والدہ کا نام ماتا گوجری تھا، پیدائش کے وقت آپ کا نام گوبند داس رکھا گیا، ابتدائی تعلیم و تربیت پٹنہ اور بعد ازاں آنندپور صاحب کے علاقے میں ہوئی۔
سن 1675ء میں آپ کے والد گورو تیغ بہادر کو مغل بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر دہلی میں شہید کر دیا گیا، اس وقت آپ کی عمر صرف نو برس تھی، والد کی شہادت کے بعد آپ کو سکھوں کا دسواں گورو مقرر کیا گیا، کم سنی کے باوجود آپ نے ظلم و استبداد کے خلاف جرات، بصیرت اور قیادت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔
گورو گوبند سنگھ جی نے بچپن ہی سے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنِ سپہ گری، گھڑ سواری، تیر اندازی اور زبانوں کی تعلیم حاصل کی، آپ نے فارسی زبان بھی کم عمری میں سیکھی اور شاعری کی طرف بھی رجحان پایا، 1684ء میں آپ کی معروف تصنیف ’’چنڈی دی وار‘‘ منظر عام پر آئی، جس میں ظلم کے خلاف جد و جہد اور حق کی حمایت کا تصور پیش کیا گیا ہے، 1699ء میں ویشاکھی کے موقع پر آپ نے آنندپور صاحب میں سکھ تاریخ کا سب سے اہم واقعہ انجام دیا، جس میں آپ نے ’’خالصہ پنتھ‘‘ کی بنیاد رکھی، آپ نے پانچ رضا کاروں کو منتخب کیا جنہیں بعد میں ’’پنج پیارے‘‘ کہا گیا، انہیں امرت پلا کر خالصہ جماعت میں شامل کیا گیا۔
اسی موقع پر آپ نے خالصہ کے لیے پانچ علامات (پنج ککار): کیس (بغیر کٹے بال)، کنگھا (کنگھی)، کڑا (لوہے کا کڑا)، کرپان (تلوار)، کچھیرا (مختصر لباس) مقرر فرمائیں، خالصہ نظام کے ذریعے مساوات، جرات، قربانی اور نظم و ضبط کے اصول مضبوط ہوئے، اس کے ساتھ ہی ذات پات اور طبقاتی امتیاز کی نفی کی گئی۔
آپ کو سکھ روایت میں ’’دسم گرنتھ‘‘ اور دیگر مذہبی و ادبی کلام کا مؤلف سمجھا جاتا ہے، آپ کی تحریروں میں روحانی تعلیمات، اساطیری داستانیں، اخلاقی اسباق اور جنگی و فکری مضامین شامل ہیں، آپ کے کلام میں کئی تخلص (پین نام) بھی استعمال ہوئے ہیں، آپ نے ’’گورو گرنتھ صاحب‘‘ کی تدوین مکمل کر کے اسے سکھوں کے لیے ابدی روحانی پیشوا قرار دیا۔
گورو گوبند سنگھ جی کی زندگی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت سے عبارت تھی، آپ نے مجموعی طور پر متعدد جنگیں لڑیں، جن میں آنندپور، بھنگانی، نداون، چمکور اور مختسر کے معرکے خاص طور پر مشہور ہیں، آپ نے ان تمام معرکوں میں دفاعی اور اصولی جنگ کا تصور پیش کیا جسے ’’دھرم یُدھ‘‘ (حق و انصاف کی جنگ) کہا جاتا ہے، آپ نے کبھی بھی بلاوجہ خونریزی، لوٹ مار یا عبادت گاہوں کی بے حرمتی کو جائز نہیں سمجھا، آپ کے چاروں صاحبزادے سکھ تاریخ میں عظیم قربانی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، صاحبزادہ اجیت سنگھ، صاحبزادہ ججھار سنگھ یہ دونوں چمکور کے میدان میں شہید ہوئے۔
صاحبزادہ زوراور سنگھ اور صاحبزادہ فتے سنگھ یہ دونوں سرہند کے گورنر کے حکم پر کم عمری میں زندہ دیوار میں چنوا دیے گئے، ان عظیم قربانیوں نے سکھ تاریخ میں صبر، استقامت اور عزم کی نئی مثال قائم کی۔
1707ء میں اورنگزیب کی وفات کے بعد مغل سلطنت میں جانشینی کی کشمکش شروع ہوئی، اس دوران گورو گوبند سنگھ جی نے بہادر شاہ اول کی حمایت کی، 1708ء میں آپ دکن (ناندیڑ) میں مقیم تھے کہ دو حملہ آوروں نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا، جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے، 7 اکتوبر 1708ء کو آپ وفات پا گئے، وفات سے قبل آپ نے سکھ قوم کو یہ پیغام دیا کہ آئندہ روحانی رہنمائی گورو گرنتھ صاحب اور خالصہ پنتھ کے ذریعے ہوگی اور سچائی، انصاف اور اخوت کے اصولوں پر عمل کیا جائے۔