حاجی وارث علی کا تعارف
تخلص : 'وارث'
اصلی نام : وارث علی
پیدائش : 16 Jul 1817 | دیوہ, اتر پردیش
وفات : 07 Apr 1905 | دیوہ, اتر پردیش, بھارت
رشتہ داروں : اکبر وارثی میرٹھی (مرید), حسن امام وارثی (مرشد), شیدا وارثی (مرید), شائق وارثی (مرید), اوگھٹ شاہ وارثی (مرید), بیدم شاہ وارثی (مرشد), بے نظیر شاہ وارثی (مرید), جگر بسوانی (مرشد)
حاجی وارث علی (1817ء–1905ء) ہندوستان کے ضلع بارہ بنکی کے قصبہ دیویٰ کے ایک معروف صوفی بزرگ اور سلسلۂ وارثیہ کے بانی تھے، انہوں نے یورپ اور مغربی ممالک سمیت دنیا کے مختلف خطوں کا سفر کیا اور بے شمار لوگوں کو اپنے روحانی سلسلے میں شامل کیا، کہا جاتا ہے کہ ان کا نسب حضرت امام حسین سے امام موسیٰ کاظم کے واسطے سے چھبیسویں پشت میں جاملتا ہے، ان کا مزار دیویٰ میں واقع ہے، ان کے والد کا نام سید قربان علی تھا، جن کا مزار بھی دیویٰ میں موجود ہے، ابتدائی عمر ہی سے حاجی وارث علی میں مذہبی اور روحانی زندگی کی طرف غیر معمولی رجحان پایا جاتا تھا، انہوں نے متعدد مرتبہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، یورپ کے سفر کے دوران انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان سے ملاقات کی اور برلن میں اوٹو وان بسمارک سے بھی ملے، بعض روایات کے مطابق انہوں نے انگلستان کا سفر بھی کیا اور ملکہ وکٹوریہ سے ملاقات کی، وہ معروف عالم مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے قریبی دوست تھے، انتقال 7 اپریل 1905ء موافق یکم صفر 1323ھ کو ہوا، حاجی صاحب اودھ کے اس صوفیانہ اور علمی ماحول سے تعلق رکھتے تھے جسے برصغیر میں تصوف کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، وہ قزمی نیشاپوری سادات کے اس روحانی سلسلے سے وابستہ تھے جس کا اثر پورے برصغیر میں پایا جاتا تھا، وہ نہایت وسیع المشرب اور روادار صوفی تھے، اپنے مریدوں کو تصوف کی تعلیم دیتے تھے اور اگر کوئی شخص اسلام قبول کرتا تو اس کے نام کی تبدیلی کو ضروری نہیں سمجھتے تھے، کم عمری میں ہی انہوں نے لکھنؤ کے علاقے گولا گنج کے درویش حضرت خادم علی شاہ سے روحانی وابستگی اختیار کی اور ان کی وفات تک ان کی صحبت میں رہے، اُس وقت حاجی صاحب کی عمر تقریباً سولہ برس تھی، آپ کے مریدین مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھتے تھے، ان کے چند معروف مریدین میں بیدم وارثی، غلام محمد، حکیم صفدر علی وارثی (مصنف جلوۂ وارث)، ٹھاکر پنچم سنگھ، راجہ ادیت نارائن سنگھ، بابو موتی مصر، دیوانہ شاہ وارثی، عبدلاد شاہ، مولانا محمد شاہ، مستقیم شاہ، فیضو شاہ، رحیم شاہ، حافظ پیاری، شاکر شاہ، معروف شاہ، نور کریم شاہ، صدیق شاہ، شردی کے سائیں بابا، بنگالی شاہ، صندل شاہ، مشیر حسین قدوائی، بدنام شاہ، خواجہ بخش شیخ، قاضی بخش علی انصاری، بیکرار شاہ وارثی، نظام شاہ وارثی، نفیس اللہ شاہ وارثی، نظام الدین شاہ وارثی وغیرہ کے نام اہم ہیں، ہر سال یکم صفر کو حاجی صاحب کے مزار پر عرس کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔