Font by Mehr Nastaliq Web
Hamid Raza Khan's Photo'

حامد رضا خاں

1875 - 1943 | بریلی, بھارت

احمد رضا خاں کے بڑے صاحبزادے

احمد رضا خاں کے بڑے صاحبزادے

حامد رضا خاں کا تعارف

تخلص : 'حامد'

اصلی نام : حامد رضا خاں

پیدائش :بریلی, اتر پردیش

وفات : 23 May 1943 | اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : احمد رضا خاں (والد), ابراہیم رضا خاں (بیٹا)

حامد رضا خاں بریلوی برصغیر ہند کے ان جلیل القدر علما و مشائخ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و عرفان، فقہ و فتویٰ، تصوف و طریقت اور دعوت و ارشاد کے میدان میں اپنے عظیم المرتبت والد مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے حقیقی جانشیں اور امین کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں، آپ اپنے عہد کے ممتاز عالمِ دین، صاحبِ قلم مصنف، قادرالکلام ادیب تھے، علمی تبحر، روحانی وجاہت، حسنِ اخلاق اور خدمتِ ملت کے اوصاف نے آپ کو اہلِ سنت کے اکابرین میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
آپ کا اسمِ گرامی محمد تھا، جبکہ حامد رضا کے نام سے شہرتِ دوام حاصل ہوئی، علمی حلقوں میں آپ حجۃ الاسلام کے لقب سے معروف ہوئے، آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے حامد رضا خاں بن احمد رضا خاں بن نقی علی خاں بن رضا علی خاں۔
آپ ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس نے صدیوں تک دین کی خدمت، اشاعتِ علومِ نبوت اور تحفظِ عقائدِ اہلِ سنت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، آپ کے اسلاف افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور مغلیہ عہد میں علمی و انتظامی مناصب پر فائز رہے، خصوصاً آپ کے پردادا مفتی رضا علی خاں اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم تھے جنہوں نے فتویٰ نویسی اور دینی رہنمائی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
آپ کی ولادت ماہِ ربیع الاول 1292ھ مطابق 1875ء میں بریلی کے اس علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی جسے علم و فضل کا مرکز اور اہلِ سنت کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، آپ نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم اپنے والد مولانا احمد رضا خاں کی سرپرستی میں حاصل کی، خاندانی روایات کے مطابق علومِ دینیہ، عقلیہ اور نقلیہ کی تمام مروجہ کتابیں نہایت محنت اور ذوقِ علمی کے ساتھ پڑھیں اور صرف انیس برس کی عمر میں درسِ نظامی کی تکمیل فرما لی۔
زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ کی ذہانت، وسعتِ مطالعہ اور علمی بصیرت کے چرچے ہونے لگے تھے، آپ نے دورانِ تعلیم ہی اہم درسی کتابوں مثلاً ’’خیالی‘‘، ’’توضیح و تلویح‘‘، ’’ہدایہ اخیرین‘‘ اور ’’صحیح بخاری‘‘ پر حواشی و تعلیقات تحریر کیے، آپ کو عربی و فارسی زبان و ادب پر غیر معمولی عبور حاصل تھا، عربی نظم و نثر میں آپ کا اسلوب نہایت شستہ، بلیغ اور مؤثر تھا، آپ نے مختلف دینی، فقہی، اعتقادی اور تصوفی موضوعات پر متعدد علمی تصنیفات اور تراجم یادگار چھوڑے، آپ کی تحریروں میں استدلال کی قوت، زبان کی فصاحت اور عقائدِ اہلِ سنت کے دفاع کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے، روحانی تربیت کے اعتبار سے آپ حضرت شاہ ابوالحسن احمد نوری مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور ان سے خلافت و اجازت حاصل کی، علاوہ ازیں اپنے والدِ گرامی سے بھی تمام سلاسلِ طریقت میں خلافت سے سرفراز ہوئے، آپ نے 17 جمادی الاول 1362ھ کو داعیِ اجل کو لبیک کہا، آپ کا مزارِ اقدس بریلی میں واقع ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے