ہری چند اختر کا تعارف
تخلص : 'اختر'
اصلی نام : پنڈت ہری چند
پیدائش : 15 Apr 1900 | ہوشیار پور, پنجاب
وفات : 01 Jan 1958 | دہلی, بھارت
رشتہ داروں : حفیظ جالندھری (مرشد)
پنڈت ہری چند اختر 15 اپریل 1900ء کو پنجاب کے ہوشیار پور کے ایک مختصر مگر تاریخی اہمیت کے حامل گاؤں ’’صاحبہ‘‘ میں ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے، ان کا خاندانی پس منظر اگرچہ علمی اور ادبی روایات سے خالی تھا، تاہم فطرت نے انہیں غیر معمولی ذہانت، جودتِ طبع اور ذوقِ مطالعہ کی نعمتوں سے مالا مال کیا تھا، پنجاب کے دیہی معاشرے کی سادگی، لوک روایتوں کی رنگا رنگی، عوامی زندگی کے مشاہدات، میلوں ٹھیلوں کی رونقیں اور قصہ گوئی کی قدیم روایتیں ان کے ذہن و شعور کی تشکیل میں مؤثر ثابت ہوئیں، یہی عوامل بعد ازاں ان کی شاعری میں شوخی، ظرافت، برجستگی اور عوامی احساس کی صورت میں نمایاں ہوئے۔
ابتدائی تعلیم کے مراحل طے کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول، جالندھر سے تعلیم حاصل کی اور پھر لاہور کے معروف تعلیمی ادارے فارمن کرسچین کالج میں داخل ہوئے، بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کی سند حاصل کی، اس زمانے میں انہوں نے اردو، فارسی اور انگریزی ادب کا نہایت وسیع اور عمیق مطالعہ کیا، کلاسیکی شعری روایات، فارسی ادب کے جمالیاتی تصورات اور مغربی ادب کی فکری جہات نے ان کے ذہن کو وسعت بخشی اور ان کے ادبی شعور کو مہمیز دی۔
شاعری کی طرف ان کا رجحان طالب علمی ہی کے زمانے میں پیدا ہوچکا تھا، ابتدا میں وہ ’’شرما‘‘ تخلص استعمال کرتے تھے لیکن جب انہیں حفیظ جالندھری کی شاگردی نصیب ہوئی تو انہوں نے اختر تخلص اختیار کیا جو بعد ازاں ان کی دائمی ادبی شناخت بن گیا، حفیظ جالندھری کی صحبت اور تربیت نے ان کے شعری ذوق کو نکھارا، فنی شعور کو جلا بخشی اور انہیں کلاسیکی غزل کی روایت سے گہری وابستگی عطا کی۔
عملی زندگی کا آغاز انہوں نے صحافت سے کیا، لاہور میں روزنامہ ’’پارس‘‘ سے وابستگی اختیار کرتے ہوئے انہوں نے صحافتی دنیا میں قدم رکھا اور بہت جلد اپنی شگفتہ نثر، حاضر جوابی اور باریک بین مشاہدے کے باعث ممتاز حیثیت حاصل کر لی، صحافت نے انہیں انسانی زندگی کے گوناگوں مسائل، سماجی تضادات، سیاسی کشمکشوں اور تہذیبی تبدیلیوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کیا، جس کے اثرات ان کی شاعری میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔
لاہور کی زرخیز ادبی فضا میں انہیں اس عہد کے ممتاز ادیبوں اور شاعروں کی رفاقت حاصل ہوئی، وہ ’’نیازمندانِ لاہور‘‘ کے ادبی حلقے سے وابستہ رہے، جہاں پطرس بخاری، امتیاز علی تاج اور دیگر اہلِ قلم کے ساتھ فکری اور ادبی روابط استوار ہوئے، یہی وہ ماحول تھا جس نے ان کی فطری ظرافت کو فنی شعور عطا کیا اور انہیں مشاعروں کا مقبول شاعر بنا دیا۔
1947ء کا سانحۂ تقسیمِ ہند ان کی زندگی میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، انہیں لاہور جو ان کی علمی، ادبی اور جذباتی زندگی کا مرکز تھا چھوڑ کر دہلی منتقل ہونا پڑا، ہری چند اخترؔ کی شاعری کا سب سے روشن اور نمایاں پہلو ان کا طنزیہ اور مزاحیہ اسلوب ہے، اگرچہ ہری چند اختر کی ادبی خدمات نہایت وقیع تھیں، تاہم ان کی آزاد منش اور بے تکلف طبیعت کے باعث ان کا کلام ان کی زندگی میں کتابی صورت میں مرتب نہ ہوسکا، ان کے انتقال کے بعد ان کے مخلص دوست اور معروف شاعر عرش ملسیانی نے ان کے منتشر کلام کو یکجا کرکے ’’کفر و ایمان‘‘ کے عنوان سے شائع کیا، یہ مجموعہ 1960ء میں منظرِ عام پر آیا اور اسی کے ذریعے ان کا شعری سرمایہ محفوظ ہوسکا، یکم جنوری 1958ء کو دہلی میں اس صاحبِ طرز شاعر کا چراغِ حیات گل ہوگیا۔