جگر بسوانی کا تعارف
تخلص : 'جگر'
اصلی نام : محمد افتخار علی
وفات : 07 May 1958 | اتر پردیش, بھارت
رشتہ داروں : حاجی وارث علی شاہ (مرشد), امیر مینائی (مرشد)
جگر بسوانی کا تعلق اودھ کے مشہور قصبے بسواں، سیتاپور سے تھا جہاں وہ 1871ء میں ایک خوش حال زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کے والد شیخ امیر علی جزا صاحبِ ذوق شاعر تھے، اسی لیے شاعری کا ذوق انہیں وراثت میں ملا، ان کا سلسلۂ نسب حضرت ابو بکر صدیق سے ملتا ہے، جس کی نسبت سے خاندان کے افراد اپنے نام کے ساتھ صدیقی لکھتے تھے، جگر بسوانی نے ابتدائی تعلیم اپنے عہد کے معروف عالم مولانا عنایت علی سے حاصل کی، اس کے بعد انہوں نے مڈل کا امتحان پاس کیا اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ کا رخ کیا مگر انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکے، تاہم علم و ادب سے ان کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا اور انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے مطالعہ اور علمی ذوق کو فروغ دیا، طبابت سے بھی انہیں خاص دلچسپی تھی، اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے مشہور حکیم واجد علی سے استفادہ کیا، ان کی زندگی میں بعض اہم علمی و ادبی شخصیات سے ملاقاتوں نے بھی گہرے اثرات مرتب کیے، ان میں عطیہ فیضی سے ان کی ملاقات قابلِ ذکر ہے، جس کا ذکر وہ عمر کے آخری حصے تک کرتے رہے، شاعری کے میدان میں جگر بسوانی نے 1898ء میں رامپور کا سفر کیا اور وہاں امیر مینائی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، امیر مینائی کی صحبت نے ان کے شعری ذوق کو مزید نکھارا اور ان کے فن کو پختگی عطا کی، ان کے کلام میں کلاسیکی اردو شاعری کی روایات، زبان کی شستگی اور جذبات کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے، 7 مئی 1958ء کو یہ صاحبِ ذوق شاعر دنیا سے رخصت ہوگیا۔