Font by Mehr Nastaliq Web
Saem Chishti's Photo'

صائم چشتی

1932 - 2000 | امرتسر, بھارت

پاکستان کے ممتاز نعت گو شاعر، عالمِ دین، محقق اور مترجم تھے جنہوں نے نعتیہ ادب اور دینی علوم کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

پاکستان کے ممتاز نعت گو شاعر، عالمِ دین، محقق اور مترجم تھے جنہوں نے نعتیہ ادب اور دینی علوم کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

صائم چشتی کا تعارف

تخلص : 'صائم'

اصلی نام : صائم چشتی

پیدائش :امرتسر, پنجاب

وفات : پنجاب, پاکستان

رشتہ داروں : لطیف ساجد چشتی (بیٹا), عبدالستار نیازی (مرید), بری نظامی (مرید)

صائم چشتی (1932ء–2000ء) پاکستان کے ممتاز نعت گو شاعر، جید عالمِ دین، محقق، مترجم، ناشر اور روحانی شخصیت تھے، آپ کی ولادت 25 دسمبر 1932ء کو امرتسر کے قصبہ گنڈی ونڈ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ محمد اسمعیل سے حاصل کی، بعد ازاں جامعہ رضویہ، فیصل آباد سے دینی تعلیم مکمل کی اور 1970ء میں سندِ فضیلت حاصل کی، آپ نے طبِ یونانی میں بھی مہارت حاصل کی اور سلسلۂ چشتیہ صابریہ سے خلافت و اجازت پائی، آپ اردو اور پنجابی کے صاحبِ طرز نعت گو شاعر تھے، ان کی شاعری عشقِ رسول، روحانی وارفتگی اور سوز و محبت سے لبریز ہے، پاکستان میں نعتیہ ادب کے فروغ، نعت خواں حضرات کی تربیت اور ادبی تحریکوں کے قیام میں ان کی خدمات غیر معمولی ہیں، آپ "پنجابی بزمِ ادب" کے بانی تھے اور متعدد قومی سطح کے مشاعروں اور نعتیہ محافل کے منتظم رہے، آپ ایک عظیم محقق اور مترجم بھی تھے، تفسیر، حدیث، تصوف اور سیرت کے موضوعات پر تقریباً پانچ سو تصانیف و تراجم یادگار چھوڑے، جن میں تفسیر کبیر، تفسیر ابن عربی، فتوحاتِ مکیہ اور ایمانِ ابی طالب خاص شہرت رکھتی ہیں، آپ کے معروف نعتیہ مجموعوں میں نوائے صائم، نور دا ظہور، ارمغانِ مدینہ اور ن والقلم شامل ہیں، آپ نے فیصل آباد میں متعدد دینی، تعلیمی اور رفاہی ادارے قائم کیے، جن میں مسجد سیدنا حیدرِ کرار، حسان نعت کالج، چشتیہ لائبریری اور دارالعلوم حیدریہ چشتیہ رضویہ قابلِ ذکر ہیں، آپ کا وصال 22 جنوری 2000ء (14 شوال 1421ھ) کو ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے